تعلیمی ادوار کا ایک اور سیاہ باب۔

نزہت خان               

     جامعہ کراچی

12 ربیع الاول کا دن جب  پورا پاکستان پورے زور و شور اور مذہبی عقیدت کے ساتھ جشن عید المیلاد النبی منانے میں مصروف تھا عام تعطیل کے باعث تعلیمی ادارے سنسان تھے تین دہشت گرد ایک جامعہ میں داخل ہوتے ہیں اور جامعہ کو دہشت گردی کا نشانہ بناتے ہیں ایک بار پھر 9 نوجوان طالب علم دہشت گردی کا شکار ہوتے ہیں۔ 9 نسل، 9 خاندان تباہ ہوتے ہیں ۔ وہ طالب علم جو اپنے گھروں سے بہت دوربہت سے مقاصد لئے زیر تعلیم تھے  جن کے آگے ابھی مستقبل کے بے شمار مراحل رکھے تھے اور جن کے خواب ابھی کامیابی کے ابتدائی دور میں تھے  دہشت گرد ان مقاصد کو اپنی گولیوں کا نشانہ بناتے ہیں ۔ان کے خواب منزل پر پہنچنے سے پہلے  دفن کر دئے جاتے ہیں ۔

ماضی میں آرمی پبلک اسکول میں دہشت گرد اپنے سیاہ نشان چھوڑ گئے جو آج تک ہم نہیں مٹا سکے پاکستان کی نسل کو بری طرح تباہ کرنے کی اس وقت بھی حتی الامکان کوشیش کی گئی شہداء کے گھر والوں نے اس المناک واقعے کو اللہ کی رضا سمجھ کر صبر کرلیا مگر اج بھی ہم وہ واقعہ بھلا نہیں پائے

اس واقعے کے بعد حکومت جاگ گئی سیکورٹی بڑھا دی گئی ، نئے قائد قوانین پیش کئے گئے ، سی سی ٹی وی کی تعداد بڑھانے کا دعوا کیا گیا ،تمام اسکولوں کی دیواریں اونچی کرنے کا حکم صادر کیا گیا ،چیکنگ پر سختی ہونے لگی  یہ سب اقدامات کئے گئے مگر متاثر خاندان اب بھی ویران ہیں اور نہ  ہم اس واقعے کو بھول پائے ہیں

اس دردناک واقعے کے بعد حکومت خاموش ہو گئی ۔ افواج پولیس اس دہشت گردی کو ناکام بنانے میں کامیاب ہونے پر مبارک باد کے مستحق ہیں ۔مگر کیا میرے اور آپ کے ذہنوں میں سوال نہیں اٹھتا ؟ کہ کیا یہ واردات چھوٹی تھی ؟یہ سب ممکن کیسے ہو گیا؟جبکہ حکومت  سیکورٹی کئی گنا زیادہ ہونے کا دعوا کر چکی تھی ۔اور ربیع الاول کے موقع پر تو سیکورٹی ویسے ہی سخت تھی ،موبائل نیٹ ورک تک بند تھے پھر کیسے دیشت گرد رکشے میں سوار ،ہتھیاروں سمیت زرعی یونیورسٹی تک پہنچ گئے ؟کیا بیچ میں کوئی چیکنگ کے لئے سگنل نہیں آیا ؟کسی سی سی ٹی وی کیمرے کی آنکھ نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا ؟دہشت گرد افغانستان سے داخل ہو گئے ہیں اور دہشت گردی کی نیت رکھتے ہیں یہ خبریں تو پہلے سے ہی گردش کر رہیں تھیں تو اتنی بڑی جامعہ کے مین گیٹ پر رکھوالی کرنے کے لئے ایک شخص کافی تھا ؟

ایک عام طالبہ ہونے کے ناطے میرے ذہن میں سوال اٹھتا ہے اس پورے واقعے میں ذمہ دار یا نا اہل کون رہا؟ حکومت؟ جو بس اس وقت جاگتی ہے جب اس کو ووٹ کی بھوک لگتی ہے؟ ڈیوٹی پر قائم اس وقت کے افسران جو جگہ جگہ تعینات تھے جو نوکری سمجھ کر ڈیوٹی پر آ تو گئے مگر مگر اپنا فرض سمجھ کر اپنی ڈیوٹی سے ایمانداری نہیں کی ۔تبھی وہ رکشہ ہتھیار سے لیس اپنی منزل تک پہنچ گیا ۔یا جامعہ کی انتظامیہ جو یہ سوچ کر سکون میں تھی کہ عام تعطیل ہے تو جامعہ محٖفوظ ہے ؟

میں ایک عام طالبہ کس کو ذمہ دار کہوں؟اور اس سے بڑی تلخ حقیقت تو یہ ہے کہ ذمہ دار جو بھی ہو نقصان تو صرف ان خاندانوں کا ہوا ہے جن کے لخت جگر گھروں سے بہت دور زیر تعلیم تھے ان میں کسی کا باپ بوڑھا ہوگا ۔ تو  کسی کی ماں کی آخری امید وہ ہوگا  اور کسی کے گھر کا آخری سہارا ۔

یہ تو نقصانات ہیں جو دہشت گردی کے باعث ہوئے ۔اس کے نتائج کیا ہونگے؟ میں بحیثت مسلم گھرانے سے تعلق رکھنے والی ایک طالبہ جو حجاب



کے ساتھ پڑھنا چاھتی ہے ۔تعلیمی میدان میں کامیاب ہونا چاہتی ہے جو پہلے ہی حجاب کے باعث کئی مسائل کا سامنا کرتی ہے اس واقعہ کے بعد جبکہ دہشت گرد برقعہ پوش تھے ۔تو اس کے بعد حجاب کو لے کر مذید مسائل پیدا نہیں ہونگے؟ میری جیسی بہت سی طالبات ہونگی جن کے ذہنوں میں یہ سوال آیا ہوگا ۔

پاک فوج کا کہنا ہے دہشت گردی افغانستان میں پنپ رہی ہے تو افغانستان میں صرف مسلمان تو نہیں بستے؟ دہشت گرد اسلام کا ہی کیوں لبادہ اوڑھتے ہیں؟ اگر کوئی یہ بولے کہ برقعہ کا استعمال ان کی شناخت چھپاتا ہے تو شناخت تو اس کے مرنے کے یا گرفتاری کے بعد عیاں  ہو ہی جاتی ہے۔اور ایک سیکورٹی افسر کیا اتنا اہل نہیں کہ عورت اور مرد کے برقعہ پہنے میں وہ پہچان کر سکے؟

ایک طالبہ ایک پاکستانی شہری ہونے کے ناطے میں حکومت سے اپیل کرتی ہوں کہ تعلیمی اداروں میں بڑھتی ہوئی دہشت گردی کو عملا ورکا جائے اور تعلیمی اداروں کو محفوظ بنانے کے ساتھ ساتھ ہم طالبات کے لئے بے جا مسائل کی روک تھام کے لئے اقدامات کئے جائیں

 

                                                      



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *