“خوشی کے ساتھ پھر دھوکہ ہوا ہے”

غلامی کی زنجیروں میں جکھڑی ہوئی بے بس لاچار اور مظلوم قبائلیوں کو ایک بار پھر سے دھوکہ کا سامنا. حکومت کی پالیسی سمجھ سے بالاتر ہے, خود ہی فیصلہ کیا کہ 11 دسمبر کے سیشن میں فاٹا ریفارمز بل اسمبلی میں پیش کیا جائے گا اور سیشن سے ایک دن قبل ایجنڈے کے کاپیاں تمام ممبران کو بھیجوائے گئی. ایجنڈے میں فاٹا ریفارمز بل شامل بھی تھا. لیکن اچانک نہ جانے کونسا ایسا جن نظر آتش ہوا کہ سیشن شروع ہونے سے چند گھنٹے قبل ہی ایجنڈے میں سے فاٹا ریفارمز بل کو غائب کردیا. حالانکہ اس ترمیم کا انضمام سے کوئی ٹھوس تعلق بھی نہیں تھا مگر نہ جانے پھر بھی حکومت اتنی سہمی یوئی تھی! کہ راتوں رات ایجنڈے کو تبدیل کرنا پڑا.
پہلے مجھے شک تھا اور اب یقین کہ حکمران جماعت جب تک تختِ اقتدار پر براجمان ہیں ان کے مشکلات میں مزید اضافے ہونگے, جب دھوکہ بازی اور فراڈ سے پسی ہوئی قوم کے جذبات کو مجروح کیا جائے گا اور ان کو مزید یاس و ناامیدی کی دلدل میں کھینچا جائے تو وہ قوم بےاختیار اپنے ساتھ ناروا سلوک کو عرش والے کے انتقام پر چھوڑتے ہیں۔ “اور بےشک وہ ذات بہتر انتقام لینے والا ہے”
9 دسمبر کو پی ٹی آئی نے فاٹا یوتھ کنونشن بلایا۔ عمران خان نے اس کنونش سے خطاب کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ ہم پیر کہ روز تک اس معاملے پر نظر رکھنگے۔ اگر حکومت نے اس معاملے کو مزید کھینچا تو ہم سڑکوں پر آینگے اور قبائل کے ہم آواز بنینگے۔ سراج الحق صاحب بھی فاٹا کے لیے بابِ خیبر تا اسلام آباد لانگ مارچ میں مصروف ہے۔ پی پی پی کے لیڈران بھی فاٹا کے لئے تندوتیز بیانات دے رہے ہیں اور رہی بات اے این پی وہ بھی قبائل کے ساتھ حقوق کے لئے نکلنے پر آمادہ ہیں۔ اور خود مسلم لیگ (ن) ہی کی کچھ اراکین بھی فاٹا ریفارمز بل کے حق میں ہیں۔ مگر سیاسی یتیم بننے کے ڈر سے لاکھوں قبائلیوں کی دل ازاری پر رضامند مگر دو نام نہاد لیڈر کو ناراض کرنے میں عار.
اس اقدام سے تین چیزیں واضح ہوجائے گی.


1) کیا جو جماعتیں فاٹا کے انضمام کے حق میں ہیں وہ بیانات کی حد تک یا سیاسی چمکائی کی تک ہے یا پھر ان کے ساتھ سڑکوں پر بھی ہوگی. اور اگر سڑکوں پر آئیگی تو کب جب پانی سر سے گزر جائے؟
2) کیا اب یہ سمجھا جائے گا کہ حکومت فاٹا کے بل پر مولانا اور اچکزئی صاحب کو جواز بنا کر خود ہی (بغل میں چھری اور منہ میں رام رام ) تاخیری حربے استعمال تو نہیں کررہی؟
3) اور اگر واقعی حکومت مولانا اور اچکزئی سے خوفزدہ ہے تو کیا اس کے خلاف اپوزیشن کے جماعتیں گرینڈ الائنس بناکر ان کا مقابلہ کریگی؟
فاٹا کے لوگوں کے پاس یہ سنہری موقع ہیں اگر وہ اس موقع کو گنوا بیٹھے تو یقیناً پھر 2023 تک مزید غلامی برداشت کرینگے۔ پھر دکھ بھرے دستانوں کو بیان کرنا، اور اپنے اوپر ظلوم و ستم کی آہ گری کرنے کا کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔
کیا لاکھوں عوام کی یہ اوقات ہیں کہ اپنے ہی ملک میں اپنے لئے قانون سازی کی تو دور کی بات اپنے حقوق کے لیے بھی نہیں کھڑی ہوسکتی۔ کیا صرف دو شخصیات کا مفاد پرستانہ فیصلہ لاکھوں عوام کے فیصلے پر مقدم ہیں؟
اب وقت آچکا ہے کہ قبائلی ایک جھنڈے تلے اکھٹے ہو۔ بازوں پر ساہ پھٹی بندھی ہوئی اور مادرا کے عرش اقتدار پر براجمان بے حس مکینوں کے خلاف بغاوت الم کرے۔ اور اس راہ میں حائل رکاوٹوں کو اسلام آباد کے مارگلہ پہاڑ تلے دفن کر کے یہاں سے خشیوں بھری مسکراہٹ کے ساتھ روانہ ہو۔
اگر اب بھی ہم زندہ لاشوں کی مانند خاموش رہ کر صرف اس کھیل کا تماشہ دیکھ ینگے تو پھر قصوروار کوئی اور نہیں ہم خود ہونگے. پھر اسی طرح فراڈ دھوکہ بازی کا سامنا کرینگے. اسی طرح ایک خوشیوں بھری آواز آئی گی اور پھر عین موقع پر کوئی اور جن آکر خوشی کے ساتھ پھر دھوکہ دینگے. آخر میں ایک غزل کے چند اشعار ہے جو موجودہ صورتحال پر عین اترتے ہیں.

اداسی نے سماں باندھا ہوا ہے
خوشی کے ساتھ پھر دھوکہ ہوا ہے
کہانی سے عجب وحشت ہوئی ہے
مرا کردار جب پختہ ہوا ہے
میں ہر در پر صدائیں دے رہا ہوں
کوئی آواز دے کر چھپ گیا ہے



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*