اے انسان۔۔۔ تم کن کن نعمتوں جھٹلاؤ گے

ظفر اللہ نے میرے الفاظ لوٹا دیے۔ بہت عرصے سے میں کچھ لکھ نہیں پا رہا تھا۔ ظفر اللہ نے مجھے ایک موضوع دے دیا ایک ایسا موضوع جس پر لکھ کر میں دل کو مطمئن محسوس کر رہا ہوں۔ ظفر اللہ ایک 36سال کا شخص ہے جو کچھ دن پہلے ہی ہمارے دفتر میں بطور مالی بھرتی ہوا۔ اس کی تعلیم پرائمری ہے۔6سال کی عمر میں اس کے سر پر چوٹ لگی جس سے وہ قوت گویائی اور قوت سماعت سے محروم ہو گیا۔ جیسے تیسے اس نے پرائمری تک تعلیم حاصل کی لیکن پڑھنے میں مشکلات کی وجہ سے وہ مزید تعلیم حاصل نہ کر سکا۔ اس نے جیسے ہی شعور کی منزل پر قدم رکھا کھیتی باڑی کے ساتھ منسلک ہو گیا۔ اس کے والد فوج میں تھے۔ آپ یہ سن کر یقیناًحیران ہوں گے کہ قوت سماعت و گویائی سے محروم ہونے کے باوجود ظفر اللہ نے 8سال لاہور، 2 ماہ راولپنڈی، 5 ماہ گوجرنوالہ،10ماہ کوئٹہ،اورتین ماہ بنوں میں نوکری کی۔ میرے آفس میں ملازمت سے پہلے وہ راولپنڈی میں کوہ نور ملز میں ملازمت کر رہا تھا۔وہاں سے وہ ایک دوست کے توسط سے اس موجودہ آفس میں آ گیا۔
مجھے ظفر اللہ میں دلچسپی پیدا ہوئی تو میں نے اس سے بات چیت شروع کی۔آپ اس سے اشاروں کی زبان میں سوال کریں وہ جواب دے گا۔ اشاروں کی زبان سے لوگوں کو اکثریت نابلد ہوتی ہے لہذا پھر وہ آپ کو لکھ کر جواب دے گا۔ میں نے اس سے سوال کیا کہ کیا کبھی اس نے بھیک وغیرہ مانگی تو اس نے مسکرا کر کاغذ پر لکھا” نہیں! کبھی نہیں”۔ جب میں نے اس سے پوچھا کہ کیا وہ اپنی زندگی سے مطمئن ہے ۔ تو اس نے دونوں ہاتھ فضاء میں بلند کیے اور کاغذ پر لکھا” اللہ کا بہت بہت شکر ہے”۔ مجھے اس کے جواب پر حیرانگی بھی ہوئی۔ اور لا شریک رب کعبہ عزو جل کی ربوبیت پر یقیناًمزید پختہ ہو گیا کہ یقیناًوہ انسان کو ستر ماؤں سے زیادہ پیار کرتا ہے۔ ایک ماں جب اپنے بچے کو ٹھٹھرتی سرد رات میں گیلی جگہ پہ سلانے کے بجائے خود گیلی جگہ پر سوتی ہے اور بچے کو خشک جگہ پر سلاتی ہے تو پھر وہ کیسے اپنے بندے کو نظر انداز کر سکتا ہے۔ یہ بندہ ہی ہے جس کو مانگنے کا سلیقہ نہیں۔ جس کو شکر کرنا نہیں آیا۔
اپنی پلکوں پر غور کریں۔ اللہ نے پلکوں کی شکل میں آنکھوں کی حفاظت کا ایک خود کار نظام قائم کیا ہے ۔ کسی ایسی سمت سے بھی جہاں آپ نہ بھی دیکھ رہے ہوں کوئی ذرہ، یا چیز آنکھوں کی طرف آئے تو پلکیں ایک خود کار نظام کے تحت بند ہو جاتی ہیں اور آنکھیں محفوظ رہتی ہیں آپ چاہیں تو مشاہدہ کر لیں۔ کان کے اندر اتنا نازک پردہ ہوتا ہے کہ وہ کانچ ٹوٹنے کی آواز سے بھی پھٹ سکتا ہے۔ لیکن اللہ نے اس کی حفاظت کے لیے کان کے اندر میل پیدا کی۔ یہ میل آواز کی سختی اور گردو غبار کو اند رجانے سے روکتی ہے۔ جس سے یہ حساس پردہ محفوظ رہتا ہے۔ ناک سے ہم سانس لیتے ہیں ۔ اگر ناک کے اندر بال نہ ہوں تو گردو غبار فوری طور پر ہمارے پھیپڑوں پر اثر انداز ہو گا۔کھوپڑ ی کے عین درمیان پچھلی طرف ایک ایسا متوازن مرکز ہے جو انسان کو چلنے پھرنا میں آسانی مہیا کر تا ہے۔ اس مرکز میں ایک ہزارویں حصے میں بھی ہلکی سی لرگزش آئے تو انسان کاسر چکرا جاتا ہے اور اسے بیٹھ جانے کو کہا جاتا ہے جب وہ مرکز واپس اپنی جگہ پر آجائے تو زندگی نارمل لگنے لگتی ہے۔ انسانی ہاتھ میں اتنی طاقت ہے کہ وہ منوں کے حساب سے وزن اٹھا سکتا ہے۔ اس کا عملی مظاہرہ میں دیہات کے


روزمرہ کے معمولات میں دیکھ چکا ہوں۔ انسانی دل دنیا کی سب سے منفرد پمپنگ مشین ہے جوموت آنے تک ہر وقت چلتی ہے۔ کیا ان تمام نعمتوں پر ہم نے کبھی اپنے خالق کا دن میں ایک مرتبہ بھی شکر ادا کیا؟ ہم آج تک یہ تعین نہیں کر سکے کہ شکر کرنے والے کون لوگ ہیں۔ ہم اس حقیقت کا ادراک نہیں کر سکے کہ ہم اگر صرف اپنی تخلیق پر سوچ کے دریچے کھول دیں تو ہم شکر کرنے والوں میں شامل ہو جائیں گے۔ لیکن ہم ان نعمتوں کا شکر ادا کرنے کے بجائے زمین پر اکڑ کے چلتے ہیں۔ ہم کیا ہیں ؟ ہمارا انجام کیا ہو گا؟
بولنے اور سننے کی طاقت سے محروم ظفر اللہ اس حالت میں بھی اللہ کا شکر ادا کر رہا توپھر ہم کیوں اللہ کا شکر نہیں بجا لاتے۔اللہ نے جب دو اہم حسیات سے ظفر اللہ کو محروم کیا تو ساتھ ہی اس کو لکھنے کی سوجھ بوجھ دے دی۔ کیا آپ تصور بھی کر سکتے ہیں کہ ایک بچہ جو ہوش سنبھالنے سے پہلے ہی اس محرومی کا شکار ہو جائے وہ لکھنا پڑھنا جان پائے؟اگر رب کعبہ عزو جل ظفر اللہ کو لکھنے اور پڑھنے کی صلاحیت سے محروم کر دیتا تو اس میں کیا شک ہو سکتا تھا؟ کیوں کہ وہ تو ہر چیز پر قادر ہے۔ لیکن اللہ نے ظفر اللہ کے لیے ایک وسیلہ پیدا کر دیا کہ وہ لوگوں کو اپنی بات بہتر طور پر بتا سکے۔ جس صفحے پر میری ظفر اللہ سے بات ہوئی وہ میری آنکھوں کے سامنے پڑا ہے اور پھر میں خود کی طرف دیکھتا ہوں کہ میرے ہاتھ پاؤ ں سلامت ہیں لیکن دن میں کتنی مرتبہ میں اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں؟ آنکھوں سے دنیا کی خوبصورتی دیکھتا ہوں لیکن کیا میں نے کبھی اللہ کا اس بینائی پر شکر ادا کیا؟ کانوں سے اذان کی صدائیں سنتا ہوں لیکن کتنی دفعہ میں اس کے سامنے سر بسجود ہوتا ہوں؟ ان سوالوں کے جواب میں میرے پاس ندامت کے سوا کچھ نہیں آتا۔ کیوں کہ میں دن میں دو تین نمازیں بھی پڑھ لوں تو سمجھتا ہوں بس اللہ کو راضی کر لیا۔ اذان سن کے بھی روز مرہ کے کاموں میں مشغول رہتا ہوں۔ دنیا کے نظارے دیکھ کر بھی اللہ کی صنائی پر سبحان اللہ نہیں کہا کبھی ۔یہ صرف میری ذات تک نہیں اگر تمام بنی نوع انسان اپنا جائزہ لیں تو ہم میں سے اکثریت کے سر ندامت سے جھکے ہوں گے۔ کیوں کہ ہم اپنے رب کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے ۔
راولپنڈی کا سول ہسپتال تھا ۔ منظر مارچری (مردہ خانہ)کا ۔ ہر کوئی اندر سے واپس آتا تو اس کی ناک پر رومال ہوتا۔میں حیران تھا کہ ایسا کیوں ہے؟ کیوں کہ اس وقت مارچری میں نہ تو


کوئی ڈیڈ باڈی بظاہر نظر آ رہی تھی نہ کوئی پوسٹ مارٹم ہو رہا تھا۔ ایک جھاڑو کش سے پوچھا تو اس نے مارچری کے صحن میں پڑے ایک زنگ آلود سٹریچر پرسے کپڑا ٹھایا تو اس پر ایک لاوارث لاش پڑی تھی اس کی ہیت بیان کرنا شاید میرے بس میں نہیں ۔ اس کو دیکھ کر صرف ایک ہی سوچ ذہن میں ابھری کہ جب سانس ہوتی ہے تو ہم خود کو خوشبوؤں سے معطر کرتے ہیں۔ اجلے کپڑے پہنتے ہیں۔ سینہ تان کر اللہ کی زمین پر چلتے ہیں۔ لیکن سانس کی ڈوری کے ٹوٹتے ہی انسان مٹی کی بدبودار ڈھیری بن جاتا ہے۔ اگر صرف ایک سانس انسان کے خوشبودار یا بدبودار ہونے میں لکیر کھینچتی ہے تو پھر یہی انسان سانسیں برقرار رکھنے والے خالق کا شکر کیو ں ادا نہیں کرتا؟اللہ کا شکر ادا کرنے کے لیے زندگی کی دیگر مادی سہولیات ہونا ہی ضروری نہیں بلکہ اللہ کے شکر کے لیے تو ہمارا اپنا وجود ہی کافی ہے۔ آج مجھے ظفر اللہ اپنے آپ سے بہت بہتر لگ رہا ہے۔ کیوں کہ وہ ان لوگوں میں سے ہے جو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔


Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*