قیاس آرئیاں ،جمہوریت اورٹیکنوکریٹ حکومت

راشد علی
ارباب اہل علم اور عام پاکستانی سے یہ جملے اکثر سننے کو ملتے رہتے ہیں کہ ہمیں ایک اہل قیادت کی ضرورت ہے اللہ کرے کوئی ایوبی آجائے اللہ کسی مخلص راہنما کو بھیج دے موجودہ بحرانوں میں پاکستان کو دوسرا قائد اعظم درکار ہے اس امر میں کوئی شک نہیں کہ ہماری قوم کو ایک مخلص، اہل، اعلی تعلیم یافتہ، باصلاحیت، انقلابی افکار کی حامل اور محب وطن قیادت کی اشد ضرورت ہے یقیناًہمارے وطن میں ایسی بہت سی شخصیات ہوں گی لیکن قیادت کا معیار اگر علم، دیانت، امانت، فہمِ دین، فکری جدت ، جمہوریت مزاجی، عالمی بصیرت، اعلی تنظیمی و انتظامی صلاحیت، سیاسی و سماجی، فکری و روحانی انقلابی فکر، تحریر و تقریر پر ملکہ ، اخلاص، حب الوطنی وغیرہ ہیں توایسی شخصیات جمہوریت میں الیکشن جیت کر ایوان میں نہیں پہنچ سکتی ہیں کیونکہ ایوان باد ی النظر میں وڈیروں ،جاگیرداروں اور امراء کے ہتھے چڑھا ہوا ہے مختصر یہ کہ ہر طرف کرپشن کی بازگشت ہے اس لیے متعدد حلقوں کی جانب سے بالخصوص شہر اقتدار سے ٹیکنو کریٹ حکومت بنائے جانے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے مقتدر نمائندگان کے بیانات سے بھی عیاں ہوتا ہے کہ کہیں بگاڑ ضرور ہے اگر ایسا ہے تو یہ بہت اچھا نہیں ہے کیونکہ پاکستان جمہوری ملک ہے یہاں کوئی بھی خود ساختہ نظام حکومت کامیاب نہیں ہوسکتا ہماری تاریخ ہمیں


یہی سکھاتی ہے مسئلہ یہ ہے کہ ہم تاریخ سے کچھ سیکھنا ہی نہیں چاہتے اورنہ کبھی ہم نے سیکھا ہے ذرا سوچیں جب بھی مارشل لا لگا اس کے بعد جمہوریت آئی کیا جمہوری قیادت نے اپنی غلطیوں سے کچھ سیکھا ؟نہیں جب بھی انہیں اقتدار کاموقع میسر آیاکرپشن کے سابقہ ریکارڈ توڑ دیے گئے اقربہ پروری کی تمام حدیں عبور کردی گئیں ،صدق دل سے ذرا غور کیجئے اگر آپ کا دامن ٹھیک ہوتو کون جمہوریت پر شب خون مارسکتاہے ؟ ترکی ہمارا دوست ملک ہے ہم نے تواس سے بھی کچھ نہیں سیکھا ایک فرد نے اپنی وطن اورقوم کا بول بالا کردیا ہے آمریت نے جمہوریت پر شب خون مارا ترک شاہین ٹینکوں کے نیچے لیٹ گئے اور امریت کا منصوبہ ناکام بنادیا ؟ کبھی یہاں بھی ایسا ہوا ؟ نہیں کیونکہ ہمارے جمہوری حکمران ایوانوں میں پہنچ کر اپنی نسلیں سنوارنیں آتے ہیں لوٹ مار کرکے ازخود ملک بدر ہوجاتے ہیں ،کرپشن کے خون میں رنگے ہاتھ انہیں درست فیصلہ سازی سے محروم رکھتے ہیں مجھے یاد آیا محبوب کائنات سرکارِ دوعالم ؐ گھر تشریف لائے تو کانپ رہے تھے جناب امی خدیجہؓ سے فرمایا مجھے کمبل اوڑھا دو مجھے کمبل اوڑھا دوچنانچہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کمبل اوڑھا دیا یہاں تک کہ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل سے خوف جاتا رہا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خدیجہ رضی اللہ عنہا سے سب حال جو غار میں گزرا تھابیان کر کے کہا کہ بلاشبہ مجھے اپنی جان کا خوف ہے خدیجہ رضی اللہ عنہا بولیں کہ ہرگز نہیں اللہ کی قسم !اللہ آپ کو کبھی رسوا نہیں کرے گا یقیناًآپ صلہ رحمی کرتے ہیں ناتواں کا بوجھ اٹھاتے ہیں جو چیز لوگوں کے پاس نہیں وہ انہیں کما دیتے ہیں مہمان کی خاطر تواضع کرتے ہیں اور اللہ کی راہ میں مدد کرتے ہیں،سطورِ بالا سے ظاہر ہوتا ہے جو اپنی قوم سے خیر خواہی کرتے ہیں اللہ انہیں سربلندی سے نوازتاہے دشمنوں کی چالوں سے محفوظ رکھتا ہے اورجو پچیس کروڑ عوام کا حق ناجائز طریقے سے ہتھیالیں لندن ،دبئی اور سویزرلینڈ میں اپنی جائیدادیں خرید لیں بھلا یہ کیسے سکھ کی نیند سوسکتے ہیں اب رہی بات ٹیکنوکریٹ حکومت کی تو ٹیکنوکریٹ ایک خاص طرح کی حکومت کو کہا جاتا ہے اور ٹیکنوکریسی کا تصور زیادہ تر غیر حقیقی ہے تاہم کچھ ممالک میں بنیادی طور پر حکومتی فیصلہ سازی کے مختلف شعبوں میں تکنیکی ماہرین کیحکومت کہلاتی ہے اس میں سائنسدان، انجینئر، ماہرین اقتصادیات اور کسی خصوصی علم میں مہارت رکھنے والے افراد شامل ہو تے ہیں جو حکومت چلانے کا کام سرانجام دیتے ہیں اور سیاستدانوں کے بجائے خود حکومت تشکیل دیتے ہیں اور امور سرانجام دیتے ہیں باالفاظ دیگر متقی اورپرہیزگار لوگوں کی حکومت جن کے گمنام کرتوتوں سے ہم ناآشنا ہیں یا کم ازکم وہ اتنے چالاک ہیں کہ اپنے کارنامے منظرعام پر آنے نہیں دیتے وغیروغیرہ شنید یہ بھی ہے کہ ایسا صرف شفاف احتساب کے لیے کیا جارہا ہے سوال یہ ہے کہ کیا جمہوری عمل کے تسلسل میں چلتے رہنے سے احتساب کا عمل مکمل نہیں ہوگا تویہ غلط ہے کیونکہ جمہوری حکومت کے چلتے ہوئے ہی نواز شریف کو ان عہدہ سے نااہل کیا گیا اورانصاف کی راہ میں کوئی رکاوٹ نہیں آئی سیاسی جماعتیں اپنے مفادات کے تحفظ کی بجائے قومی مفاد کو ترجیح دیں تاکہ جمہوری حکومت اپنا مقررہ وقت پور ا کرے اور مقتدر رہنماؤں کوبھی بلاوجہ افواہیں پھیلانے سے گریز کرنا چاہیے فی الوقت تمام آئینی ادارے اپنی حدود کے اندر رہتے ہوئے کام کررہے ہیں اور تمام ریاستی ادارے قانون کے مطابق اپنی معاونت فراہم کررہے ہیں جس کا اندازہ نیب،ایف آئی اے اور رینجرز کی جانب سے کی جانے والی کارروائیوں سے بخوبی ہورہا ہے اس لیے کسی بھی قسم کے غیر آئینی اقدام یا ٹیکنوکریٹ بندوبست کا تصور بھی بعید از قیاس ہے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*