اے پشاور کے عظیم شہیدو

بهلے هی تم اس دنیا سے چلے گئے هو…
لیکن هماری روح، همارے دلوں میں آج بهی زندہ هو..
ویران کردیا بهیڑیوں نے پھولوں کا ایک گلشن..
ان بهیڑیوں کو کیا خبر! کر گئے آباد وہ ایک چمن…
کہنے کو تو تم نے کر دیا ان کو ماں باپ سے دور..
لیکن تاریخ گواہ هے کہ وہ ان کے پاس هیں…
سارے وطن کو سوگ میں ڈوبا کر؛
اے ظالمو! تم نے کیا پا لیا آخر…
اجاڑ کر کسی کے آنگن کی بہار؛
کیا ملا تم کو آخر؟؟ کیا ملا تم کو آخر…
باقی رهے گا نام ان کا روزءابدل تک اے ظالمو!
تم چلے تهے جن پهولوں کو روندنے…
پھولوں کو روند کر بهی وہ مٹا نہ سکے *اے شفاء*
خوشبو اس چمن کے مہکتے پھولوں کی…
By: *(aqsa aneela shifa)*



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*