دسمبر کا طلسم۔ ۔ ۔ ۔

 تحریر۔۔۔۔۔۔ وقار احمد ملک

دسمبر اپنے عروج پر ہے۔ ہر طرف جاڑے کی رُت اپنا حسن بکھیرے دکھائی دیتی ہے۔ میٹھے مالٹے یعنی فروٹر بازاروں ، منڈیوں اور خوانچہ فروشوں کے ہاں ہاتھوں ہاتھ بک رہے ہیں۔ خشک میوہ جات کی دوکانوں اور ریڑھیوں پر خوب رش دکھائی دیتا ہے اور ہر کوئی اور اپنے ذوق، شوق، پرہیز اور جیب کے مطابق لفافے بھر کر گھر لے جا رہا ہے۔ راتیں پھیلتے پھیلتے میلوں تک چلی گئی ہیں اور دن سکڑ سکڑ کر چند گھنٹوں پر محدود ہو گئے ہیں۔ ظہر سے نمازوں کا سلسہ یوں شروع ہوتا ہے کہ تھوڑی دیر میں عشاء تک جا پہنچتا ہے اور پھر لمبی رات۔ اتنی لمبی جیسے ہجر کی رات ہو۔ گو اب ماضی کا سرما کا حسن قصہء پارینہ بن چکا ہے اور ہم رسوئی میں گھنٹوں لمبی جائنٹ فیملی سسٹم کی بیٹھک سے لطف اندوز نہی ہو سکتے لیکن پھر بھی ہیٹر اور کوئلوں کی انگھیٹیوں نے مقدور بھر ہماری اجتماعیت کو قائم رکھاہو اہے۔ تمام گھر والے تھوڑی دیر کے لیے ہی سہی لیکن آگ کے گرد اکٹھے ضرور ہوتے ہیں۔ پھر اماں ابا کے ساتھ دور دور کے رشتہ داروں کی بابت دلچسپ گفتگو چل نکلتی ہے۔ بھولے بسرے رشتوں کا کھوج لگایا جاتا ہے۔ اپنی ننھیالی اورددھیالی رشتوں کی پانچ پشتوں تک سیڑھیاں


چڑھنے کی کوشش کی جاتی ہے۔ انہی نشستوں میں بچوں کی رونق دیکھنے والی ہوتی ہے۔ دراصل یہ رونق دسمبر کی رونق ہے۔ جو شاید ہمیشہ قائم رہے گی۔ گرچہ حالات و واقعات بدل جائیں گے، آلات اور سہولیات میں تبدیلیاں آ جائیں گی لیکن دسمبر کا کرنٹ کسی نہ کسی شکل میں تصورات، احساسات اور تخیلات کو گدگداتا رہے گا۔ میں زندگی کی سب سے بڑی عیاشی دسمبر اور جنوری میں دوپہر کے وقت ٹیرس پر سرما کی میٹھی دھوپ میں سونے کو سمجھتا ہوں۔ یوں محسوس ہوتا ہے ہم جنت کے مزے لوٹ رہے ہیں۔ دن کو بھی رات کی طرح ایسی گہری نیند آتی ہے کہ ایک مرتبہ پھر خوابوں کی پٹاری کھل جاتی ہے۔بعض اوقات دھوپ کی تیزی سے آپ کی آنکھ کھل جاتی ہے اور آپ اپنی منجھی کو چھاؤں میں گھسیٹ لیتے ہیں۔ لیکن یہ کیا کہ تھوڑی دیر میں بنیرے کی چھاؤں آپ کو سرد کر دیتی ہے اور منجھی دوبارہ کھسکا کر دھوپ میں لے جاتے ہیں۔ یہ دھوپ چھاؤں کا کھیل دسمبر کی خوبصورتیوں میں سے ایک خوبصورتی ہے۔اسی دوران خمار کے سے عالم میں جب ٹھنڈے میٹھے مالٹے میسر آجائیں تو کیا ہی کہنے۔ تھل کے علاقے کی چھتیں عام طور پر دسمبر کے مہینے میں مالٹے کے چھلکوں اور بیجوں سے بھری رہتی ہیں۔
سہ پہر کو جب دھوپ کی تیزی کم ہونے لگتی ہے تو چائے کی گرمی سورج کی گرمی کی جگہ لے لیتی ہے۔آپ دھوپ کی تلاش میں اپنی نشست سمیت مشرق کے انتہائی کونے میں موجود ہوتے ہیں جب نیچے سے کوئی چائے کا کپ لے کر آپ کی طرف خراماں خراماں چلا آتا ہے۔ آپ کی جی چاہتا ہے کہ آنے والے حضرت یا محترمہ کو اس خوشی کا بدلہ عطا کریں لیکن دسمبر کے اس لمحے چائے کی تلافی کسی چیز سے ممکن نہیں۔ اس لیے آپ خاموشی سے آنکھیں نیم وا کر کے پیالے میں موجود پگھلے ہوئے سونے اور چاندی کے امتزاج کو اپنے سینے میں انڈیلنا شروع کر دیتے ہیں۔ اس وقت سورج رک جاتا ہے۔ سر پر سے گزرتے ہوئے پرندے لمحہ بھرکے لیے اپنی پروازوں کو موقوف کر دیتے ہیں اور آپ کی قسمت پر رشک کرتے ہوئے آپ کی زیارت کرنا شروع کر دیتے ہیں۔
اگر جان کِیٹس پاکستانی ہوتا تو ضرور اس نے ODE ON DECEMBER لکھی ہوتی جو اس کی ایک شاہکار نظم سمجھی جاتی۔اگر شیکسپیئر تھل میں پیدا ہوا ہوتا تو اس کے مشہور


کامیڈی ڈرامے THE WINTER s TALE کا موضوع حسد، محبت، جدائی، ملاپ نہ ہوتا بلکہ سرمئی دھوپ، شام کی چائے، طلسماتی راتیں، ٹھٹھرتی صبحیں اور سکڑتے دن رکھا جاتا۔ افسوس ہوتا ہے کہ قدرت کے اس انمول مہینے کو اردو ادب میں کوئی لازوال تحریر نصیب نہیں ہوئی۔ شاید آنے والے زمانوں میں کوئی اہل دل فنکار اس کمی کو پورا کر دے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*