بابا تو نے  دیکھ  لیا

بیٹے نا فرمان ہیں تیرے  ،  بابا تو نے  دیکھ  لیا
بھول گئےاحسان ہیں تیرے ،  بابا تو نے دیکھ لیا

گھرسے پانے کو نکلے ہیں گرچہ تیری منزل کو
رستے سے انجان ہیں تیرے ، بابا تو نےدیکھ لیا

کتراتےہیں جانے کیوں یہ ان کو پورا کرنے سے
دل میں جوارمان ہیں تیرے ،  بابا تونے دیکھ لیا

آپس میں یہ لمحہ لمحہ دست و گریباں رہتے ہیں
بانٹ رہے سامان ہیں تیرے ، بابا تو نے  دیکھ لیا

کھودرہےہیں پاک وطن کی بنیادوں کوہاتھوں سے
دشمن بھی حیران ہیں تیرے ، بابا تو نے دیکھ لیا

دہشت گردی جن کا شیوہ جن کا کوئی دین نہیں
تیرے گھر مہمان ہیں تیرے ،  بابا تونےدیکھ لیا

تاسی جیسےاوربھی شاعرخون کےآنسوروتےہیں
کچھ ہمدرد ہلکان ہیں تیرے ،  بابا تو نے دیکھ لیا

طارق تاسی۔ لاہور



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*