پی ایس ایل

کالم نگار : طیبہ عنصر مغل
جی تو ہم آج بات کرتے ہیں اپنی قوم کے اُن سپوتوں کی جن کی شہرت ان کے کھیل سے زیادہ ان کی بےایمانی کی وجہ سے ہے ،بلکہ بات اس ہی شعبہ کے لوگوں سے کیوں نہیں کی جائے  ،پی سی ایل کے ابتدا ئی میچز میں ٹیم کا جوش وخروش دیکھ کر ہم نے تو سٹیٹس ڈال دیا  تھا کہ ہم دیکھ رہے ہیں کہ یہی کھلاڑی جب کسی دوسرے ملک کے مقابل اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھا نے کھڑے ہوتے ہیں۔ تو لگتا ہے ان غریبوں کو چار پانچ دن کے فاقہ سے رکھا گیا ہے نڈھال بیٹس مین جب بلا گھماتا ہے تو گیند اس کے قدموں کی سلامی لیتی نظر آتی ہے ہو سکتا ہے کہ سپورٹس کا سامان کثرت سے پاکستان سے بنوایا جاتا ہے اس وجہ سے گیند بیٹسمین کی قدم بوسی مارے عقیدت کے کرتی ہو خیر یہ ایک الگ معاملہ ہے کہ کون اس وقت کہاں کس کی قدم بوسی میں مصروف ہے کچھ باتیں پردے میں رہنے دیتے ہیں تو میں یہ کہہ رہی تھی کہ انٹرنیشنل لیول پہ میچ کھیلنے والے کھلاڑی فیلڈنگ میں ہوں تو گیند سے ہمیشہ ناراض ہوتے ہیں۔ اور یہ بھی ممکن ہے کہ کھلاڑیوں کا کوئی قصور نہیں ہو اور خود گیند ان سے ناراض ہو اس ناراض بیگم کی طرح جو ہم کسی دوسرے علاقے سے بیاہ کے لے تو آتے ہیں۔ لیکن وہ سال کے آٹھ ماہ اپنے اماں ابا کے گھر کو رونق بخشے رہتی ہیں لیجئے ہم تو پھر سے موضوع سے ہٹ گئے  چلئے جی اب باؤلر کے ساتھ گیند کے سلوک کی بات کرتے ہیں تو اب یہاں بھی بیچارے باؤلر کا کیا قصور کہ ہمارے باؤلر چاہے دور سے دوڑ کر آنے والے ہوں یا ایمپائر کو کریز میں کھڑا دیکھ کے احتیاطاً دوقدم کریز سے آگے آکر گیند کو بیٹسمین کی طرف پھینکنے میں اپنا ثانی نہ رکھتے ہوں لیکن ایک بات پکی ہے کہ گیند نے کرنی اپنی ہے اب اگر امپائر اس بال کو وائڈ کردے یا آؤٹ قرار نہیں دے تو صاحب غلطی سراسر گیند کی ہے بھئ یہ تو گیند کا قصور ہے


کہ یاتو وہ سیدھی جائے وکٹ پہ یا آؤٹ کرے سامنے کھڑے بیٹسمین کو. ہم نے تو گیند کو بالکل درست ڈائریکشن میں پھینکا تھا اب گیند پاکستانی نہیں یا پاکستانی ہو کر بھی نمک حرامی کر رہی ہے تو ہم اس میں کہاں کے قصور وار. اب اگر ہم پہ میچ فکسنگ کا الزام لگ رہا ہے تو ہماری معصومیت پہ رحم کھائیں دیکھیں جب ہم پی،ایس،ایل،میں کھیلتے ہیں  تو گویا لگتا ہے ہر ٹیم کی زندگی  موت کا مسئلہ بنا ہوتا ہے جیتنا. کیا بیٹنگ ،کمال باؤلنگ،اور فیلڈنگ توکیا ہی آسٹریلیا  کی ہوتی ہوگی جو پاکستان کی ساری ٹیمیں کرتی ہیں  بھی ہم تو مان گئے۔ کہ جہاں بات ہو آپس میں لڑنے کی تو ہم کیا کمال دھمال لڑتے ہیں  لیکن بری بات ہے نا جی دوسروں سے تو اچھے بچے بالکل نہیں لڑتے تو یہی بات ہے ہماری پاکستانی ٹیم بے حد بااخلاق ہے دوسروں سے مقابلہ نہیں کرتی آپس میں مقابلہ تو بنتا ہے نا باس کہ ہم تو آپس میں لڑنے مرنے پہ ہر پل تیار قوم ہیں. لیکن یہ تسلی بھی اس بار خواب خیال ہوئی اس وقت یہ دیوانے کا خواب ثابت ہوئی جب  شرجیل خان اور خالد لطیف  نے ثابت کر دیا کہ یہاں بھی آپ کو ہم  آپ کو محمد عامر


اور آصف اور سلمان کے نقش ِ قدم پہ چل کے اپنی ٹیم کی روایات کو ہر گز ہرگز ٹوٹنے نہیں دیں گے وہی لاغر ہہٹ ،وہی بیچاری سی فیلڈنگ ،اور تھکی ہوئی  ہونق سی باؤلنگ اور وہی میچ فکسنگ  .نہ جی نہ ہم وہ لوگ نہیں  ہیں جو اپنی روایت سے ہٹ جائیں  .جناب رک جائیں پرانے کھلاڑیوں کا حوالہ مت دیں  وہ تو خالص غذائیں کھاتے تھے اور ان کے پاس پریکٹس کا وقت بھی بہت زیادہ تھا اُن کو کون سا مہنگے برانڈ کے اشتہارات میں چیزیں بیچنے کے لئے جانا ہوتا تھا کہ ان کو ریہرسل کا وقت دینا پڑتا ،بھئ اور بھی بےچاروں کو غم ہیں کرکٹ کے سوا ،پڑوسی ملک کے شوز میں جا کر اپنے ملک کی کھِلی بھی اُڑانی ہوتی ہے ،اب مہنگائی بھی تو کس قدر ہو گئ ہے ،چلیں چھوڑیں کرکٹرز کو اب آتے ہیں اپنی ذہین وفطین قوم کی جانب تو پی،ایس،ایل،کی مہربانی نے ہم قلمکاروں کی اس محنت پہ تو صریحًاپانی پھیر دیا  ہے کہ ہم جو صوبوں کو ملک بنا نے کو ہلکان ہوئے رہتے ہیں سال بھر تو پی ،ایس،ایل کے  آتے ہی عوام ہر شہر میں ڈیڑھ اینٹ کی مسجد الگ سے بنا لیتی ہے ،ایک دوسرے پہ طنز ہورہے ہوتے ہیں  اجی دوسروں کو چھوڑئیے ہم جیسی. خاکسار کے ساتھ بھی مذاق کرنے پہ معلومات میں ہمارے دوستوں نے اضافہ کیا کہ اجی راولپنڈی اسلام آباد  والوں کو کراچی کے ساتھ مذاق کا کوئی حق نہیں جناب کہ شہر اقتدار تو کراچی کے ڈیفنس کے جتنا بھی نہیں  اب ہم کہاں سے اتنی ہمت لاتے کہ کہنے والے کو بتاتے کہ شہراقتدار کے صرف اسلام آباد کو دیکھنے والوں کو کیا معلوم کہ اس کے مضافات کے طول وعرض  کیا ہیں. کتنے شہید نشان حیدر لے کر اسی دھرتی کی جبیں کو روشن کرگئے ہیں اور ہاں کراچی ٹیم کا جھومر بنا     محمد عامر
راولپنڈی کی تحصیل گوجرخان کا سپوت ہے لیکن یہ بحث عبث ہے کیونکہ پاکستان  کے اتحاد کو ہماری عقلمند عوام اس پی،ایس،ایل،کے موقع پہ تباہ کر دیتی ہے جواب دیں کہ یہ میچ کھیلنے والے غلط ہیں یا دیکھنے والے ؟ آپ سوچئیے ہم چلتے ہیں اب کرنٹ  پی،ایس،ایل،کی،اگلی،بریکنگ فیوز کے لئے  جو کافی لوگ پہلے سے جان بیٹھے ہیں کیونکہ ہم قیاس آرائی میں دنیا کی نمبر ون قوم ہیں  اللہ حافظ



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*