فلمیں اور ڈرامیں

تحریر:- جنید فرید

تاریخ:-2017-12-27

آج کا موضوع  جتنا خوش گوار اور دلچسپ ہے اتنا ہی اسکا ہمارے معاشرے میں بدصورت اور خراب  صورتحال بھی ہے، آج قلم اٹھانے کا ایک ہی مقصد ہے ہمارا معاشرہ ، ہمارے نوجوان، ہمارے قوم کے چمکتے ستارے کہاں سے کہاں جارہے ہیں۔ اور یہ کیوں ایسا ہورہا ہے ؟

اس سوال کا تو ہر کسی کے پاس جواب ہوگا ہی کیونکہ ہم سب  بھی اس معاشرے کے پیداوار ہے، لیکن میں  اپنے انداز میں آگاہی کرنا چاہونگا، آپ سب حضرات بخوبی واقف ہونگے کہ ہماری فلموں اور ڈراموں میں کیا ہورہا ہے، اور اس کا کیا اثر پڑتا ہے اور پڑیگا ؟

اور خاص توجہ میں پشتو (فلم+ڈرامہ) انڈسٹری پر دینا چاہتا ہوں، آپ نے بہت سی فلموں اور ڈراموں میں


غضب کی اداکاری تو دیکھی ہی ہوگی اور لگن کا اندازاہ تو ہم اور آپ کر ہی نہیں سکتے، میں کچھ اپنی کہانی بتانا بہتر سمجونگا، سکول میۙن پڑھنے کی دنوں کی بات ہے ، ایک دن ہم سکول سے واپس گھر آرہے تھے ساتھ میں بڑا بھائی بھی تھا ، راستے میں پشتو ڈرامے کا ایک حصہ فلماياں جارہا تھا ہم بھی کھڑے ہوگۓ حصہ کچھ ایسا تھا کہ تین آدمی دروازے سے اندر داخل ہوۓ ایک کیساتھ کلاشنکوف اور باقی دو کیساتھ پستول تھی داخل ہوتے ہی اس آدمیوں نے فائرنگ شروع کردیں ، لیکن سامنے کوئی نہیں تھا، جب ہم نے  پوچھا کہ یہ تو ڈرامے کے اندر ایک اور  کیا ڈرامہ چل رہا ہے یہ کیا ماجرہ ہے تو ایک آدمی نے جواب دیا کہ بیٹھا یہ ایک عورت اور دو بچوں کے اوپر فائرنگ ہورہی تھی، تو میں نے اور پوچھنے کی جرآت نہیں کی کیونکہ میرے ذہن میں یہ خاکہ آگیا کہ بلا بچوں کو کوئی کیسے ماریگا، اور مرنہ صرف گولی ہی سے ہے ، اس دن سے ذہن میں یہ خیال ليۓ پھرتا تھا کہ بچے مرتے نہیں انکو بس صرف مارا جاتا ہے، یہ ڈرامے کا وہ حصہ تھا جو میں نے آنکھوں سے دیکھا نہیں تھا لیکن اثر اتنا کہ اندازہ لگانا مشکل تھا اور اگر اتنی سی عمر میں کوئي بچہ پشتو کا پورا کا پورا ڈرامہ یا فلم دیکھ لے تو بیچارے پر کیا اثر پڑیگا اور نتیجہ کیا ہوگا؟ اسی بات سے ایک واقعہ یاد آیا۔

میں اپنے ایک کزن کی واقعہ آپکے ساتھ مختصر شیر کرنا چاہتا ہوں جب میرا کزن چھوٹا تھا تو گھر میں کوئی فنگشن چل رہا تھا اور سب بچے کمرے ميں کھیل رہے تھے تب کزن کو کمرے میں ایک پستول مل گئی اور وہ اس سے اور بچوں کیساتھ کھیلنے لگا ، پستول لوڈڈ تھی جب اس نے پستول دوسرے بچے کے سر پر رکھ دی اور ٹرگر دبھایا گولی نکلی اور بچہ اللّہ کو پیارا ہوگیا، خیر یہ تو حادثہ تھا لیکن اصل سوال یہ ہے کہ بچے نے گولے چلانا، پستول سے کھیلنا اور پستول سے ماردینا کہا سے سیکھا ؟ میرے خیال میں ان سب کارناموں کا ذمہ دار ہمارے پشتو فلم/ ڈرامہ  انڈسٹری کے ڈائریکٹر ، فروڈیوسر اور اداکار صاحبان اور خاص الخاص وہ والدین ہے جو اپنے بچوں کو ان غلیظ اور بکواس فلموں اور ڈراموں سے بچاتے نہیں۔

اب توڑی سی بات اگر فلموں اور ڈراموں کے ملبوسات کے بارے میں نہ ہو تو شايد یہ بحث ادھورا لگے گا، یہ بات تو بہت دلچسپ اور پر کشش ہے ، کیونکہ ان ملبوسات کا مزہ ہی کچھ اور ہے؟ ہاہاہاہا

ہمارے انڈسٹری میں جس طرح نازیبا اور نازک ملبوسات استعمال ہوتے ہیں ، میرے خیال میں اس طرح تو بالی ووڈ کی آئٹم گرل کی بھی آپ نے  نہ دیکھی ہوگی، ایک طرف بالی ووڈ اور ہالی ووڈ جیسے ملبوسات اور دوسری طرف پشتون ثقافت ؟ اگر سمجھ نہیں آیا تو میں وضاحت کر دیتا ہوں ہمارے اداکار فلم/ڈرامہ میں شلوار قمیص ، ویسٹ کوٹ، ٹوپی اور چپل (عمرانی


چپل) اور ہاتھ میں میں شراب کا گلاس۔

میں رائیٹر ، پروڈیوسر اور ڈائریکٹر سے یہ پوچھنا چاہتا ہوں کہ ذرا یہ بتا دوں آپ نے یہ ثقافت کہا دیکھا ہے ؟ ، یا کتابوں میں کہا پڑھا ہے ؟

اور جو آپ دکھا رہے ہے دنیا کو کہ پشتون اپنے ماں، باپ ، بہن ، بھائی اور سارے رشتے جو بھی ہے، ان کی عزت نہیں کرتا ، اپنے باپ کو کھڑی کھڑی سنا دیتے ہے اپنے ماؤں کا کہا نہیں مانتے وغیرہ جو بھی گندہ حرکتيں آپ دکھاتے ہیں، مجھے سمجھ نہیں آتا کہ آپکے خرافاتی ذہن میں یہ فضول اور منگھڑت کہانیاں آتی کہاں سے ہیں ؟ کچھ تو شرم کريںاور جس طرح کردار آپ پشتون کا دکھاتے ہے ان سے لازمً باہر ممالک کے لوگوں کے ذہن میں پشتون دہشتگرد اور بدکردار ہوگا ، کیونکہ کسی معاشرے کی عکاسی انکی فلم انڈسٹری سے ہی ہوتی ہیں، اور انکا اثر  آپ سب خود بالی ووڈ کی فلموں میں دہشتگردی کے  کردار نبھانے والوں کے سلیقے سے کر سکھتے ہیں۔

آپ سب نے صرف پشتون کا نام ونشان کو تباہ وبرباد نہیں کیا بلکہ آپ جیسے لوگوں کی وجہ سے مسلمان اور اسلام کا نام بھی باہر دنیا کی نذر میں بدنام ہورہا ہے، آپ نے نوجوانوں کو بگاڑ دیا، خود تو آپ نہ پاکستان کیلئے کچھ کر سکتے ہے اور نہ اسلام کیلئے تو خدا کا واسطہ بنی بنائی نام اور اسلام کو اور خراب نہ کریں۔

ایک اداکار کا انٹریو دیکھ رہا تھا صحافی بھائی نے پوچھا کہ جو آپ سب کر رہے ہیں یہ تو بالکل پشتون کلچر کیخلاف ہے اور نوجوانوں پراسکا بٌرا اثر پڑتا ہے؟ اداکار بھائی نے جواب دیا کہ جن پر غلط اثر پڑتا ہے وہ نہ دیکھیں ہمارے فلموں اور ڈراموں کو۔ تو اداکار بھائیوں سے گزارش یہ ہے کہ اگر ایسی فلمیں اور ڈرامیں نہ بنائیں جو نوجوان نسل کو اور خراب کریں، کیونکہ اپ تو بناتے ہی ہے ان لوگوں کیلئے کہ وہ کچھ سیکھے ، اگر آپ صاحبان ایسا نہیں کر سکتے تو دیکھنے والوں کو بھلا کون روکھ سکتا ہے۔

اب توڑی سی بات ان شاعران حضرات  کے بارے میں کرنا چاہتا ہوں جو ان فلموں اور ڈراموں کیلئے گانے لکھتے ہیں، مجھے ترس اور افسوس ہوتا ہے ان لوگوں پر جنہوں نے پشتو ادب کا بھیڑا غرق کردیا، اور گانے بھی اتنے فضول اور شرمناک مثال کے طور پر ”  پتاسہ یی پتاسہ ، جینی سمّہ پتاسہ ” اب ایسے گانے لکھنے والے کو تو چھنے بھر پانی میں ڈھوب کر مرنا چاہیۓ جو شاعری کے نام پر ہمارے ادب کو شرمندہ کر رہے ہیں، بس التجا یہیں ہے کہ اگر اس طرح سے آپ پشتون کا نام اونچا دکھانے کی کوشش کر رہے ہیں تو آپکی سوچھ کو اکیس توپوں کی سلامی۔

پشتو فلم اور ڈرامہ انڈسٹری کے سنسر بورڈ کو چاہیۓ کہ وہ ایسی فلموں اور ڈراموں کو سکرین پر چلنے کی اجازت نہ دے اور ایسی اداکاری اور رائٹرز پر پابندی لگا دے، تاکہ آنے والے نوجوان نسل کو تباہی سے بچاۓ۔

شکریہ

نوٹ:- اگر تحریر میں کسی قسم کی غلطی نذر آئیں تو آپ اس ایمیل پر رابطہ کر سکتے ہیں۔

Email:- jain.urchin@gmail.com



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*