ڈائری لکھنے کی عادت بنائیے

تحریر: عبداللہ مدنی

کئ سال قبل میں اپنی پہلی ڈائری خریدنے اردو بازار کراچی میں فائن ڈائری سنٹر گیا تھا. مالک دکان سے علیک سلیک کے بعد بات ذرا طول پکڑ گئ اس کا کہنا تھا اس دور میں ڈائری لکھنے کی عادت بھت کم افراد میں رہ گئ ہے. صاحب عمر رسیدہ تھے پھر کہنے لگے بیٹا! اگر تم چاہتے ہوکہ اپنی زندگی سنوار لوں تو ڈائری لکھنے کی عادت ہمیشہ کےلیے اپنالو. باباجی کے بقول :ڈائری صرف ایسے افراد لکھ سکتے ہیں جو زندگی میں ہر کسی سے سچ بولتے ہیں کیونکہ سب سے مشکل سچ اپنے آپ سے بولنا ہوتا ہے جو آپ کی ڈائری روزانہ آپ سے بلواتی ہے. باباجی کی باتیں تب بڑی حیران کن اور پسند آئیں تھیں.


اب ساتھ آٹھ سال مسلسل ڈائری لکھنے سے یہ اندازہ ہوا ہے اگر کوئ انسان اپنی زندگی کے اتار چڑھاؤ سے علی وجہ البصیرہ واقف رہنا چاہتا ہے اور زندگی کے نشیب وفراز سے سبق سیکھنا چاہتا ہے تو روزانہ ڈائری لکھنے کی عادت اپنالے.
ابتداً ڈائری شروع کرنے والے دوست عموما یہ سوچ کر کتراتے رہتے ہیں کہ آخر ہم کیا لکھیں گے؟ یہ بڑا فضول سا سوال ہے کیا ڈائری لکھنے کےلیے پہلے آپ کو ارسطو بننا پڑے گا پھر آپ اپنے معمولات یومیہ لکھنا شروع کریں گے. یقین کیجیے مجھے زندگی کے وہ ابتدائ دس پندرہ سال جو ڈائری لکھے بغیر گزر گئے ان سے متعلق ہر وقت حسرت رہتی ہے کاش کسی نے بتادیا ہوتا تو وہ بھی لکھ لیتا.
روزانہ ڈائری لکھنے کا معمول خودبخود آپ کی اچھی اور بری عادات پر اثرانداز ہوتا ہے۔ شام میں جب آپ لکھنے بیٹھتے ہیں تو اپنا ایسا خفیہ محاسبہ کرتے ہیں جو آپ کے علاوہ کسی کو معلوم نہیں ہوتا. اپنی بری اور اچھی عادات ایک صفحے پر آپ کے سامنے ہوتی ہیں. آپ کو اپنا خرچہ،آمدن، اہم واقعہ، کسی دوست یا رشتے دار سے ملاقات ایسا سب کچھ ایک ہی پیج پر لکھا مل جاتا ہے.
میں گزشتہ تین سال سے کسی ایک کو نیا سال شروع ہونے پر ڈائری لکھنے کےلیے تیار کرتا ہوں. پچھلے سال اپنے بھنوئ کو ڈائری لکھنے کےلیے تیار کیا تھا، اس سال ہمارے دوست بھائ حمزہ خادمی ڈائری خرید چکے ہیں. ایک دو کی مزید امید بھی ہے. مجھے اپنی زندگی میں سب سے مزیدار وقت وہ لگتا ہے جب میں اپنی کوئ پرانی ڈائری اٹھا کر “ماضی” کو پڑھتا ہوں…



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*