ضبط آنکھوں میں جو اترے تو لہو ہو جائے

غیر کیا اپنی ہی ہستی بھی عدو ہو جائے

ضبط آنکھوں میں جو اترے تو لہو ہو جائے

ایک وہ اشک ندامت ہے جو دم بھر چھلکے
روح پاکیزہ و اطہر ہو وضو ہو جائے

آءو یہ لطف میسر نہ تھا مے خانے میں
آءو مقتل میں ذرا جام و سبو ہو جائے

عاشقی باندھ کے گھنگھرو سر مقتل اترے
رقص محشر ہو بپا عالم ہو ہو جائے

تو جو اک بار ہمیں چھو کے مکمل کر دے
پھر گریبان کا ہر چاک رفو ہو جائے

آج تو ایسے اتر بر سر وجداں جاناں
چار سو تو، ترا پیکر، تری بو ہو جائے

دل میں پھر ہجر ترا ٹوٹ کے ایسا برسے
زخم در زخم شگوفوں کی نمو ہو جائے

عشق اس رنگ سے تکمیل ہوا چاہتا ہے
عین ممکن ہے ترا شاہ جی بھی تو ہو جائے

شعیب بخاری



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*