صحافت کےمیدان میں پہلا قدم۔ 

تحریر:- جنید فرید

جیساکہ آپ سب جانتے ہے کہ صحافت ایک مہذب ، عظیم اور قابل احترام پیشہ ہے،  جو لوگوں کو مختلف قسم کی معلومات فراہم کرتے ہیں۔
آپ کو تحریر کی عنوان سے کچھ اندازہ ہوا ہوگا کہ میرے لکھنے کا مقصد کیا ہے، اگر آپ کو اندازہ نہیں ہوا تو نیچھے آپ خود سمجھ جائنگے۔
جیسے کہ صحافی کا کام لوگوں تک پیغام رسائی کرناہے، اس کام کو کرنے کیلۓ کچھ قواعدوضوابط ، ‍اصول اور اخلاقیات بھی رکھی گئ ہے کہ کیسا کیا جاۓ اور کیسے نہ۔

اپنے کام میں مگن کچھ مشہورنامی گرامی صحافی حضرات ایسےطور طریقے استعمال کرتے ہے کہ میدان صحافت کے اخلاقیات میں کسی نے بھی نہ دیکھا ہوا ہو۔ اور ان میں سے تو کچھ حد ہی کر دیتے ہے 1،2 سال کی پرانی دردناک خبر کو ایسے تڑکہ لگا لیتے ہے کہ اس کے سارے خاندان کو پھر سے غمزدہ کروادیتے ہے حتی کہ معصوم بچوں کو بھی رلانے سے وہ ہچکچاتے نہیں اور اس سے عام عوام کا بالکل دل جیت لیتے ہے ( عام عوام سے مطلب وہ لوگ جو صحافت کے اخلاقیات سے بے خبرہے ).
اور بھی بہت ایسے ہے جو ڈگری ہولڈرتو نہیں ہے وہ بھی اس دورمیں نامی گرامی صحافی ہے جس نے صحافت کیلۓ بہت سی قربانیاں دی ہے  اور ان کے بدلے اب وہ اعلی مقامات پر فائز ہے ۔ اگر وہ حضرات کبھی ایک چینل سے دوسری چینل جانا پسند کریں تو کوئی ڈگری کا نہیں پوچھتا بس خوش آمدید کرتے ہیں۔ یہ بات بھی سچ ہے کہ دنیا میں ایوارڈیافتہ صحافیوں میں زیادہ تعداد بغیر ڈگری والے صحافیوں کاہے۔ لیکن ان کا کیا  جس نے ڈگری کی ہو اور موقع ہی نہ دیا


جاۓ۔
کچھ دن پہلے ایک دوست کیساتھ ایک ویب چینل جانے کا اتفاق ہوا، ویب پیج کے مالک کیساتھ ملاقات ہوئی پہلے تو صاحب کا گفتگو کرنے کا طریقہ بھی کچھ عجیب سا تھا میرے دوست کی تو رپورٹنگ کرنے کا کام پکا ہوا، لیکن جب آفس کاغذات وغیرہ کی فارملیٹی پوری ہوئی تو ایڈیٹرصاحب نے پیسوں کی ڈیمانڈ کی جب ویب کے مالک کیساتھ بات ہوئی کہ پیسے کس بات کی تو صاحب نے عرض کیا کہ آپکی سیکورٹی ہے اگر پولیس آپکو رپورٹنگ سے منع کريں تو ہم بتا دینگے کہ ہمارا آدمی ہے۔ آدمی تو جنگجو لوگوں کا ہوتا ہے ،۔۔
تو ایسی جگہ کام کرنے کا مزہ ہی کیا جہاں آپ پر اعتبار ہی نہ کیا جائیں ، اگر اس پیشے کا یہ حال رہا تو خاک کوئی نوجوان صحافی اس پیشے میں کام کرنے کا شوق رکھتا ہوگا پھر، خود تو مالک صاحب صحافت کے ‘ص’ سے بھی بے خبر ہےلیکن پھر بھی کام چلتا ہے کیونکہ کوئی پوچھنے والا تو ہے ہی نہیں۔ ؟
جیسا کہ  کچھ صحافی حضرات باہر سے نرم اور باسلوک دکھتے ہے ایسا بالکل ہے ہی نہیں ، جب آپ انٹرنشپ کروانے جاتے ہے تو پہلے تو ایسے سوالات سے استقبال کیا جاتا ہے کہ آپ دنگ رہ جائینگے کہ یہ پیشہ میں نے چنا ہی کیوں ہے اس سے تو اچھا ہوتا اگر میں سبزی بیچھ دیتا، بعد اس کے تو اور بھی دلچسپ ہوتا ہے اگر آپ کسی رپورٹر کیساتھ تجربہ حاصل کرنا پسند کرتے ہے تو رپورٹر صاحب تو راضی ہو جاتے ہے لیکن سکھانے کیلۓ نہيں صرف ساتھ گھومنے کیلۓ ، جب بھی آپ کچھ پوچھنے لگتے ہے یا بتانا چاہ رہے ہوتے ہے تو صاحب کا جواب کچھ ایسا ہوگا ،کہ تم اب مجھے سکھاؤگے تم ہوتے کون ہو مجھ کو سکھانے والے ، بعض  اوقات حد ہی کردیتے ہے آفس میں شکایت لگوادیتے ہے کہ یہ سیکھنا نہیں چارہا ہے ۔تب پتا چلتا ہے کہ پیشہ تو عظیم ہے لیکن لوگ بھی عظیم اور با اخلاق ہونے چاہیۓ۔
میں مانتا ہوں کہ غلطی انٹرنی کی بھی ہوسکتی ہے لیکن وہ آیا ہی سیکھنے کیلۓ ہے اگر آپ سکھاۓ ہی نہیں تو وہ سیکھے کہا سے ؟ اور اگر بدقسمتی سے ایسا چلتا رہا تو صحافت صرف نام کا ہی رہیگا، کیونکہ اگر انٹرنی کو آپ سکھاۓ ہی نہیں اور وہ کل کسی چینل، اخبار، ریڈیو میں جاۓ تو وہ کریگا وہی جو اس کو اچھا لگے ، وہ نہیں جو اخلاقیات صحافت کی نذر سے اچھا ہو، کیا ہوگا آخر ایسے صحافت کا ؟ بیشک آپ ان سے کام زیادہ لے تاکہ وہ کچھ سیکھے کیونکہ ساری عمر آپ بھی اپنے کرسی پر نہیں رہ سکھتے۔۔۔ !

نوٹ:- اگر کسی قسم کی غلطی نظر آئیں تو کمنٹس میں بتادیجئے ۔ یا اس ایمیل ایڈریس پر۔ Email :- jain.urchin@gmail.com

  • No items.



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*