دل میں دیکھا تو وہی اجڑا بیاباں دیکھا

پھر وہی تلخئ وجدان کا ساماں دیکھا
دل میں دیکھا تو وہی اجڑا بیاباں دیکھا

اے شب غم تیری ظلمت کی قسم ہے تجھ کو
سچ بتا ہم سا کوئی چاک گریباں دیکھا

خاک مقتل کو بھی آنکھوں سے لگایا ہم نے
ہم نے قاتل کو بھی مقتل میں پشیماں دیکھا

تلخئ ہجر کو رسوا نہ کیا ضبط کیا
تو بتا تو نے کبھی ہم کو پریشاں دیکھا

ہم نے ہاتھوں کی لکیروں کو کھرچ ڈالا تھا
جب مقدر میں ترے ہجر کا امکاں دیکھا

عشق بھی کیسے ہی بہروپ بھرے پھرتا ہے
سر بریدہ تو کہیں خاک بہ داماں دیکھا

آج پھر عشق سر دشت بلا قتل ہوا
آج بھی شہر کی گلیوں میں چراغاں دیکھا

جب قیامت سی وہ وحشت سر وجداں اتری
دل کو خواہش کے خلفشار میں رقصاں دیکھا

شاہ جی تجھ سے محبت کے سوا کیا کرتے
تجھ کو دیکھا تو ترا ہی رخ تاباں دیکھا

شعیب بخاری



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*