اسلام اور آج کی عورت

نبیلہ ملک حیاء
14 سو سال قبل جب عرب میں دین اسلام کا وجود آیا ۔اللہ تعالیٰ نے نبیوں میں سے اپنے محبوب نبی حضور صلی الله علیہ والہ وسلم کو عرب کے عجمی اور عربی کے لئیے اپنا پیمبر بنا کے بیجھا ۔
“دین اسلام ” وہ دین جس نے انسانوں کو صحیح معنوں میں زندگی گزارنے کا طریقہ سکھلایا ۔ اچھے برے کی تمیز بتائی ۔ قتل , شراب , سود ,زنا کو حرام قرار دیا۔ عر بی اور عجمی کا فرق ختم کیا ۔ کالے کو گورے اور گورے کو کالے پر فوقیت نہیں دی ۔ تقویٰ کو ہر چیز پر فضیلت دی
اپنے ماننے والوں کو ایک کامل مذہب عطاء کیا ۔ اسلام نے جہاں زندگی گزارنے کے اصول سکھائے اور انسانی رشتوں کی اہمیت کا احساس دی لایا ۔ نیکی اور بدی کا فرق واضح کیا
وہیں عورتوں کو ایک الگ مقام اور رتبہ عطاء کیا ۔ عورت چاہیے وہ کسی بھی روپ میں ہو قابلِ احترام ٹھرایا۔
اسلام سے قبل زندہ درگور کرنے والی بیٹیوں کو حضور عقدس محمد مصطفی صلی اللہ علیہ والہ وسلمٰ نے ایک پہچان دی ۔ اور فرمایا گیا کہ ‘اللہ خوش ہوتا ہے اس جوڑے جسے وہ بیٹی عطا کرتا ہے’ ایک اور جگہ آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا’ وہ شخص جنت میں میرے ساتھ ہوگا جس کی دو بیٹیاں ہو اس نے انہیں لکھایا پڑھایا ہو اور اچھی تربیت کی ہو ‘۔ آپ نے بیٹی کو رحمت کہا ۔ اللہ تعالی نے عورتوں کے لئے اپنی کتاب میں سورۂ نساء اور سورۃ طلاق نازل فرمائی اور جب ایک عورت (حضرت عائشہ ) کی کردار پر منافقین کی طرف سے انگلی اٹھائی جاتی ہے تب الله سورہ نور میں ان


کی پاکیزگی بیان کرتے ہے
اس سے بڑھ کر شاید ہی کسی عورت کے لئیے کچھ معتبر ہوگا ۔
حضور پاک صلی الله علیہ والہ وسلم نے اپنی بیٹی حضرت فاطمہ کو دنیا کے ہر رشتہ سے عزیز تر جان کر بیٹی سے محبت کی ایک مثال قائم کی
۔
مگر صرف یہی نہیں اسلام نے نہ صرف بیٹی بلکہ عورت کے ہر روپ کو ایک اونچا اور اعلیٰ مقام عطاء کیا ہے… عورت اگر ماں کے روپ میں ہے تو اس کے قدموں تلے جنت ہے ۔ مرد کا مقام چاہیے جتنا اعلیٰ ہو ماں کے مقام تک نہیں پہنچ سکتا ۔ عورت کو بیوی اور بہن کے روپ میں مرد کی ‘عزت ‘ کہا ہے ۔
حضور نے اپنے آخری خطبہ میں فرمایا اپنی عورتوں کے معاملے میں الله سے ڈرو۔
تو پھر آج اس دور میں جسے ترقی یافتہ کہا جاتا ہے عورت پر ظلم کو اسلام کی دی ہوئی
پابندیاں کیوں کہاں جاتا ہے؟؟؟ ۔ اسلام نے عورت پر ضرورت کے تحت گھر سے باھر جانے کی پابندی نہیں لگائی تو یہ معاشرہ , میں یا آپ کیسے لگا سکتے ہے ؟؟مانتے ھیں کہ عورت کا مردوں کے ساتھ کام کرنا جائز نہیں… لیکن ایک اچھی جگہ کام کرنے کے لیے اسلام میں کوئی سختی نہیں اچھی جگہ سے یہاں مراد کوئی بھی ایسا شعبہ جہاں وہ مناسب اور جائز طریقے سے کما سکے۔
اسلام نے مرد عورت کو برابر کے حقوق دئیے ہیں. اسلام نے مرد عورت دونوں پر تعلیم فرض کی ہے..
تعلیم کا حق صرف مرد کا نہیں
عورت کا بھی ہے
جینے کا حق دونوں کو ہے ۔
آج بھی پاکستان میں ایسے بہت سے علاقے ہیں جہاں لڑکیوں کی تعلیم حاصل کرنے پر پاپندی ہے
دور جہالت کے تمام دستور آج بھی قائم و دائم ہے ۔
پاکستان کہنے کو تو ایک اسلامی ملک ہے مگر اس ملک میں عورت کے ساتھ رکھا جانے والا رویہ ھرگز وہ نہیں ہے جو اسلام نے عورت کے لیے مختص کیا ہے ۔
اسلام کے نام لیوا عورت پر ظلم اور جبر کو اسلام کی دی گئ پابندیوں کا نام دے کر جان چھڑا لیتے ہیں مگر یہ لوگ اسلام کی تعلیمات اور احکامات کو تب کیوں پس پردہ ڈال دیتے ھے جب وہ عورت کے حقوق کی بات کرتا ہے؟؟؟
اسلام نے مرد عورت کو ہر جگہ برابر کے حقوق کے ساتھ ساتھ عورت کو جائیداد میں بھی حصہ دیا ہے..
مگر ہمارا معاشرہ اور اس کے اصول تو بہت ہی نرالے ہیں. یہاں عورت کو گھر میں قید رکھا جاتا ہے دیہی علاقوں میں تو بنتِ حوا جسمانی اور ذہنی طور پر مرد کی غلام ہوتی ہیں اس کی سوچ پر بھی مرد قابض ہوتا ہے۔



جانو روں سے بھی برتر سلوک سہنے والی عورت کو اپنے حقوق کی خبر ہی نہیں ہوتی اور اگر قسمت کی دیوی کسی عورت پر مہربان ہوجائےاور اسے اس کے حقوق کا اندازہ ہو جائے اور وہ حق کا مطالبہ کریں بہت جلد ہی اسے موت کے گھاٹ اتار کر خاموش کر دی جاتی ہے
آے دن اخبار اور نیوز چینل پر
چلنے والی خبریں کسی بہن یا بیٹی کے قتل کی ہوتی ہے جس
کا جرم پسند کی شادی ہوتا ہے۔اس اسلامی ملک میں ہم نے اسلام سے زیادہ اپنی ثقافت کو خود پر حاوی کیا ہے ۔
ہمارا معاشرہ لڑکا لڑکی کو پسند کی شادی کا حق نہیں دیتا کیوں کہ یہ ہمارے معاشرے کے
اقدار میں شامل نہیں
وہ حق جو اللہ نے دونوں کو دیا ہے مگر معاشرہ دینے کا متمنی ہے ۔
ہمارے معاشرے کے مطابق عورت کو اپنا آپ گھر کے کام اور بچوں کی پرورش کےلیے وقف کردینا چاہیے ۔ یہاں دوسوال اٹھتے ہیں کہ کیا ایک عورت جو پڑھی لکھی نہیں ہے نئی نسل کی پرورش کرسکتی ہے؟ دوسرا سوال کیا عورت کے اندر کچھ بننے اور کچھ کرگزرنے کی خوائش نہیں ہوتی ؟
تعلیم یافتہ عورت ہی قوم کی ریڑھ کی حثیت اختیار کرسکتی ہے
ایک پڑھی لکھی ماں صحیح معنوں میں اپنی اولاد کی پرورش اور بہترین تربیت کر سکتی ہے۔ تعلیم یافتہ عورت ایک مضبوط خاندان بناتی ہے۔ عورت کو تعلیم کے حق سے محروم رکھنا سراسر زیادتی ہے… نہ صرف اس عورت کے احساسات کے ساتھ ‘بلکہ اس نئی نسل کے ساتھ جس کی اس نے تربيت دینی ہے اور پروان چڑھانا ہے۔
بظاہر تو ایسا لگتاہے کہ مرد کو اسلام میں بالا دستی حاصل ہے مگر ایسا نہیں.. کیوں کہ اسلام نے عورت کو محکوم نہیں ٹھرایا ۔
مرد عورت کی حفاظت کے لیے ہی اس کے ساتھ اچھا لگتا ہے اس پر حکمرانی کرتے


ہوئے نہیں
دین اسلام کو غلط انداذ میں پیش کرنے بجائے اس کے بتائے ہوئے طریقے پر چلے ۔
..
خدارا اسلام کے نام پر اپنی بہن بیٹی کو قید نہ کریں ان کے خیالات پر پہرے نہ ڈالے ۔ اور ان پر ان کی زندگی تنگ کرنے کے بجائے ان کے سر پر ہاتھ رکھ کر انکو تحفظ کا احساس دلائے یقناً اس صورت میں ہی وہ آپ کا سر فخر سے اونچا کرسکتی ہے .۔غیرت کے نام پر قتل کرنے کے بجائے اپنی سوچ کو وسیع کریں…



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*