بُھلانا جو چاہیں، بُھلا دیجیے

بُھلانا جو چاہیں، بُھلا دیجیے
مُجھے شوق سے ہی رُلا دیجیے

محبّت اگر جُرم ہے سُنیے آپ:
مُجھے بے شک اِس کی سزا دیجیے!

کروں آفریں، آفریں ہجر کو
کسی طور مُجھ کو مِٹا دیجیے!

کہ اِلزام مَیں نے بہت سے سہے
کچھ الزام آپ اب لگا دیجیے!

مِرے حوصلے یوں نہیں ہوں گے پست
کہ آنکھوں سے اپنی، ہرا دیجیے

پتا ہے مُجھے، ایسا ویسا ہوں مَیں
تَو کس نے کہا ہے؟ دُعا دیجیے

سرِ دار مُجھ کو بُلا کر پھر آپ!
تماشا جہاں کا بنا دیجیے

بُھلائے ہوئے ہیں جَلا کر جو دیپ
سحر تَو ہوئی ہے، بُجھا دیجیے!

یہ خوشیاں مُبارک ہوں سب آپ کو
فقط مُجھ کو غم کی دُعا دیجیے!

مِرا سائباں جب نہیں بن سکے!
کڑی دھوپ میں اب جَلا دیجیے

خفا زندگی مُجھ سے ہونے کو ہے
سِتم خوب اپنے بڑھا دیجیے

گِلے اور شکوے کریں آ کر آپ
کدُورت ہو دل میں، بَتا دیجیے!

ذرا قیس سے جا کے مَیں بھی مِلوں
سو، صحرا کا رستہ دِکھا دیجیے!

یہ کاشف تو پاگل ہے بس چاہ میں
اِسے تلخ باتیں سُنا دیجیے!

کاشف لاشاری



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*