سیاسی ہلچل اور سوائن فلو

تحریر:عثمان غنی

اکیسویں صدی کے کارنامے اپنے عروج پر ہیں اور بہت خبریں پڑھنے کو مل رہی ہیں -جن میں عمران خان کی اپنی روحانی پیشو ا بشریٰ بی بی سے شادی ،ٹرمپ انتظامیہ کی پاکستان کو دھمکیاں اور پھر میاں صاحب کا عمران خان کو اسٹیبلشمنٹ کا لاڈلا قرار دیناشامل ہے- اس افراتفری میںہم عوام شائد سی پیک سے حاصل ہونے والے ثمرات کے منتظر ہیں – عوام بے چارے نعروں کے پیچھے آنکھیں بند کر کے چل پڑتے ہیں اور آنے والے حکمرانوں کوایسے کوستے ہیںکہ اپوزیشن کے حق میں لکھے جانے والے کالمز اور بلاگز کی ریٹنگ بڑھ جاتی ہے – ایک محاورہ ہے کہ مرتا نہ تو کیا کرتا !ان تمام خبروں میں ایک اہم خبر پاکستان کے قدیم شہر ملتان اور اس کے گرد و نواح مظفر گڑھ میں سوائن فلُو سے پندرہ افراد کی ہلاکت ہے۔میڈیا رپورٹس کے مطابق ملتان میں درجنوں کے قریب سوائن فلو کے متاثرین نشتر اور دوسرے ہسپتالوں میں زیر علاج ہیں -ڈاکٹرز اپنی جاب کے خطروں کے باعث سب اچھا ہے کی رپورٹ دے رہے ہیں مگر دوائی اورفری ویکسین کی شارٹیج کی کمی کچھ اور اشارے کر رہی ہے –
اب بات کرتے ہیں سوائن فلو کے تاریخی پس و منظر اور احتیاطی تدابیرکی ۔
۱۹۹۸ میں امریکی سائنسندانوں نے علمی بنیادوں پرسوائن فلو وائرس کی دریافت جنگلی


جانور (pig) میں کی تھی اور انسانوں کو اس وائرس نے ۲۰۰۹ میںمتاثر کیا۔ میڈیکل سائننس کے مطابق 2009 میں اس کی وجہ وائرس N1H1 (haemagglutinni type 1 & Neuraminidase type 1 ہے۔اگرچہ یہ مرض N2H2 اور N3H3 وائرس سے بھی ہو سکتا ہے – اس مرض کی علامات عام بخار کی طرح ہوتی ہیں اور یہ وائرس سانس کے ذریعے پھیل سکتا ہے اس کی علامات میںجسم میں بے چینی ،کھانسی ،گلے کی سوجن،تیز بخار ،تھکاوٹ ،الٹی اور موشن ہیں ۔ اس کا علاج بھی عام بخار کی طرح ہو سکتا ہے مگر سوائن فلو کابخار جان لیوا بھی ہو سکتا ہے۔احتیاطی تدابیر میںمنہ کو ماسک کے ذریعے ڈھانپ کے رکھنا (کیونکہ سانس کے ذر یعے اس وائرس کی منتقلی


کی بنیادی وجہ بتائی جاتی ہے) شامل ہے۔اس وائرس سے بچاو کیلئے پاکستان کی مارکیٹ میں ویکسین بھی دستیاب ہے جسکی قمیت تقریباَ چھ سو روپے ہے۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کے مطابق 2009 اس وائرس کی وجہ سے آٹھارہ ہزار لوگ ابدی نیند سو گئے،اموات میں اضافہ کی وجہ کنفیوژن،لاپرواہی اور انٹی بو اٹیک کا کام نہ کرنا ہے-ہیلتھ ریسرچرز کے مطابق دنیا میں تقریباً ملین کے قریب لوگ اس وائرس کی وجہ سے مر گئے ، زیادہ کا تعلق افریقہ اور جنوبی اشیاٰ کے ممالک سے بتایا جاتا ہے -اگر انڈیا کی بات کی جائے تو چند دنوں پہلے وہاں کے شہر پونے میں اس وائرس سے 579 شہری زندگی کی بازی ہار گئے ۔
سوائن فلو تاریخی شہر ملتان کے شہرویوں کو اپنی لپیٹ میں لئے ہوئے ہے۔اس وائرس کی وجہ سے اسکول کے بچے ،آفس میں کام کرنے والے افراد کافی متاثر ہو سکتے ہیں۔اگر حکومتی اور عوامی سطح پر اس کی روک تھام کے لئے اقدامات نہ کئے گئے تو یہ وائرس ملتان کے ساتھ ساتھ سارے ملک میں پھیل سکتا ہے ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*