اب بھی نہیں  بولو گےتو کب ؟

کالم نگار :طیبہ عنصر مغل
زینب  پھر سے لٹ گئ ، ایک کے بعد  ایک افسوسناک  واقعہ  ، زینب کا تعلق  قصور شہر سے تھا لیکن کیا کوئی بتائے گا کہ اس کا قصور کیا تھا ؟مسلسل بچوں  سے زیادتی کے کیس میں  سب سے پہلے نمبر پر قصور شہر ہے اس کا ذمہ دار کون ہے اس کا فیصلہ بھی ہمیں کرنا ہوگا  ،اس میں  یہ تخصیص بھی نہیں  ہے کہ جنسی زیادتی  کا نشانہ صرف لڑکیا ں ہی بنتی ہیں  بلکہ لڑکے بھی‫اس ظلم سے بچ نہیں  پاتے ،سب سے پہلے تو والدین  کی  اس بات کی مخالفت  کہ بچوں کو اس بات کا اشارے کنائے میں  شعور لازمی دینا چاہئے
لیکن اس معاشرے کی بد ننصیبی کہ یہاں اس ٹاپک پہ بات کرنا جرم کی صورت لیا جاتا،ہے
والدین  کو بچوں  کو اس کے بارے میں  خود بتانا چاہیے اور  اپنی مصروفیات  کے چکر میں  انہیں  بچے کو دوسرے  کے رحم وکرم پہ ہرگز نہیں  چھوڑناچاہیے اپنے بچوں کو سمجھانا ہوگا کہ کسی غیر سےہی نہیں  رشتہ داروں  سے بھی چوکنا رہنا ہوگا
کیا آپ سمجھتے ہیں  کہ بچوں  کی ذمہ داری دوسروں پہ چھوڑ  کر  کسی انتہائی  نیک کام کے لیے  دوسرے ممالک میں  چلے جانا کسی بھی طرح  راست اقدام ہے ہر گز نہیں  !


ہمارا مذہب  تو حج کے لیے  بھی پہلے اپنے فرائض کی ادائیگی  کا حکم  دیتا ہے
ایک تخمینہ کے مطابق  دوہزار سولہ میں  لگ بھگ  بارہ سو بچے زیادتی کا نشانہ  بن کر قتل ہوئے  ان میں  لڑکیاں اور لڑکے بھی شامل ہیں ،عموماً  یہ بات سامنے کی ہے کہ زیادتی کرنے والے سے بچہ ناواقف  نہیں ہوتاہے ،
اب بچوں  کے لئے  خطرہ  ہر طرف  ہوتا ہے اب چاہے وہ گھر میں  نوکروں کے درمیان ہے بازار میں  سودا لینے گیا ہے یا اپنے  قریبی سٹور سے کھانے کی اشیاء  لینے گیا ہے ،پارک ،اسکول ،ہسپتال ،کسی بھی جگہ کوئی  بھیڑیا تاک میں ہے کچھ کہا نہیں جا سکتا  اب حکومت ہی ہر چیز پہ نظر نہیں  رکھ سکتی لیکن یہ بات سب کو ذہن نشین کرنی ہے کہ وقت کا مطالبہ ہے کہ اپنے بچوں کو شعور دیں کہ اسے اپنے جسم کی کس طرح  حفاظت کرنی ہے کسی پہ اعتبار نہیں کرنا ہے اور کہاں ان کو محتاط ہو جانا ہے
جو بچے ان واقعات میں  قتل ہو گئے وہ تو ایک طرف  جو بچے ان واقعات میں  بچ جاتے ہیں  ان کی نفسیات پہ یہ کس طرح  کا اثر چھوڑ جاتے ہیں  اس پہ بھی توجہ کی اشد ضرورت ہے
کئ بار ایسے بچے جوانی میں  اس واقعے کو ساتھ لے کر چلتے ہیں  اور مختلف ردعمل  کا مظاہرہ کرتے ہیں  کچھ تو ذہنی اور نفسیاتی طور پر  بڑے ہوکر اپنی شادی شدہ زندگی  میں  فطری زندگی کے بجائے  ایک نفسیاتی  مریض کی صورت میں  اذیت پسند ثابت ہوتے ہیں  یہ ان پہ عمل کا شدید ردعمل ہوتا ہے
اب اساتذہ  کے معاملات میں مداخلت نہیں کی جائے اور اساتذہ کو اس کی ٹریننگ دی جائے کہ وہ  بچوں کو کس طرح  ڈھکے چھپے  الفاظ  کے ذریعے یہ تربیت دینی ہے کہ وہ  کیسے کسی کے اندر کے بھیڑئیے کو سمجھ سکیں
میڈیا کو اپنا ایک فرض اس طرح نبھانا ہے وہ اپنے چینل پہ کچھ اہتمام کریں کہ بچوں کی دلچسپی  کے مطابق  کارٹون فلم کے اندر یا کسی اس طرح کے پروگرام کریں جیسے انڈین فلمسٹار عامر خان نے اپنے پروگرام میں  بچوں کو اس بات کی سنگینی کا احساس دلایا وہ بھی بہت محتاط انداز میں  ،
زینب کے قتل کے بعد ہونے والے احتجاج میں دو مزید افراد  کا قتل اس کا حل نہیں ہے حل ہمیں مل کر تلاش کرنا ہے پہلی ذمہ داری والدین پہ ہے ،دوسری اساتذہ پہ ہے اور اگر اب بھی ہم غافل رہے تو الله نہ کرے کل کوئی اور زینب کسی وحشی کی وحشت کی نظر ہو جائے گی ،اس لئے  ہوشیار باش



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*