زینب کیس 

زینب کیس
پولیس کافوری انصاف قبول کرلیا جائے ؟

عبدالوحید

قصور میں معصوم سات سالہ بچی زینب سے زیادتی اورقتل کے خلاف مشتعل مظاہرین کا اہم ترین مطالبہ یہ رہا ہے کہ ملزمان کوفوری گرفتار کرکے سزادی جائے اور اس طرح فوری انصاف کے تقاضے پورے ہوجائیں یہ صرف اس واقعہ مطالبہ نہیں ہمارے ہاں جب بھی کہیں معصوم بچے سے جنسی زیادتی،کسی لڑکی سے زبردستی، اجتماعی زیادتی، قتل اور ڈکیتی کا واقعہ رونماہوتا ہے تو متاثر ین ، ان کے لواحقین ، اہل محلہ ، گاؤں اور اگر بات بڑھ جائے تو شہر ، صوبہ اور ملک بھر سے آواز آناشروع ہوجاتی ہے کہ ملزمان کوفوری گرفتار کیاجائے اور فوری سزا دی جائے اس اشتعال میں جہاں ہماری ذہنوں کی ایک جاگیردارانہ معاشرہ میں پرورش کااظہاروہاں انصاف کے اداروں پر عدم اعتما د بھی ہوتا ہے اور اگر کسی مقدمہ میں پولیس فوری انصاف فراہم کردے تو شہریوں اور متاثرین میں اطمینان بھی دیکھنے میںآیا ہے
اس ضمن میں دوواقعات رپورٹ کرناچاہوں گا تحصیل دیپالپور کے کسی گاؤں میں جواں سال دو بہنوں کوبد قماش افراد نے اپنی ہوس کانشانہ بنایاجس پر اشتعال پھیلناایک امر تھا تاہم پولیس نے ملزمان کوگرفتار کرلیااس طرح یہ اشتعال تحصیل دیپالپورسے باہرنہ آیا واقع کے چند دن بعد ایک دوست نے کھانے پر بلایاتو وہاں پر ایس پی انوسٹی گیشن بھی موجود تھے چند دوستوں کی محفل تھی اس لئے کھل کر باتیں ہو رہی تھیں مختلف موضوعات پربات کرتے کرتے دو بہنوں سے زیادتی کی بات ہوئی تو ایس پی انوسٹی گیشن نے بتایا کہ ملزمان کے ڈی این اے ٹیسٹ کے لئے نمونہ جات روانہ کر دئے گئے ہیں جس پر یہاں موجود سب کہہ رہے تھے کہ عدالتوں میں کیس نہ بھیجیں آپ ہی فوری انصاف کر دیں ایس پی انوسٹی گیشن نے حاضرین کوبتایا کہ اگر یہ ہی ملزم ہوئے تو فوری انصاف ہوجائے گا اس سے ظاہر ہوتا تھا کہ ایس پی انوسٹی گیشن یا پولیس نے پہلے ہی ایسا ذہن بنایاہوا تھا چند دن گزرنے کے بعد فوری انصاف ہوگیااورملزمان پولیس مقابلہ میں جان بحق ہوگئے


اسی طرح ایک مارکیٹ میں دوران ڈکیتی مزاحمت کار کوفائرنگ کر کے مسلح ڈاکوؤں نے ہلاک کر دیا جس پراحتجاج ہوا روڈ بلاک ہوا پولیس اور مظاہرین کے قائدین کے درمیان مذاکرات ہوئے احتجاج ختم ہوگیا کچھ ہفتوں بعد ملزمان گرفتار ہوگئے جس کی اطلاع پو لیس افسران نے مارکیٹ کی قیادت کو دی تو تاجروں کووفد اعلیٰ پولیس آفیسر سے ملا جس میں ان کامطالبہ تھاکہ ہم فوری انصاف چاہتے ہیں اس طرح اس مقدمہ کے ملزمان بھی پولیس مقابلہ کے بعد کھیتوں میں مردہ پائے گئے
عرض کرنے کا مقصد ہے کہ پولیس کافوری انصاف اس نوعیت کوہوتا ہے لیکن کوئی بھی قانون پسند شہری ایسے انصاف کو قبول نہیں کرے گالیکن ان دونوں واقعات کے متاثرین نے اس انصاف کو قبول کرلیا جو اس حقیقت کی غمازی کرتا ہے کہ معاشرہ کو عدالتوں پر اعتماد اٹھ چکا ہے اور ایسا کیوں نہ ہو دو جنوری کو سپریم کورٹ نے ایک معصوم پانچ سالہ بچی کے قاتلوں کی سزائے موت ختم کر دی اب یہ کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ ٹرائیل کورٹ سے سپریم کورٹ تک بچی کے والدین کوکتناعرصہ انصاف کاانتظار کرناپڑا اور اس کی کیاکیا اور کتنی قیمت چکانا پڑی اگر عدالتوں میں انصاف اسی طرح ہوگا تو کیا عوام پولیس سے فوری انصاف نہیں مانگیں گے اور یہ معاشرہ کے تمام شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے کارکنوں اور قیادت سے سوال پوچھا جا سکتا ہے کہ کیا انہیں پولیس کافراہم کردہ فوری انصاف قبول ہے ؟



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*