قصور کی زینب۔۔تین نکات عبدالوحید

قصور میں سات سالہ معصوم بچی سے زیادتی اور پولیس فائرنگ سے دو افراد کے جاں بحق ہونے کی وجہ سے جو اشتعال پھیلاہے اس میں سیاست اور ہماری جاگیردارانہ معاشرہ کے گمبیھر صورت حال کی عکاسی ہوتی ہے اس سے صرف نظر کرتے ہوئے کہ سیاست میںکون کیاکر رہاہے اور جاگیر دارانہ معاشرہ میں ایسا کیوں ہوتاہے ان سوالات پر بات کرنا چاہوں گا جوموجودہ فرسودہ نظام اور اس سے پید اہونے والے اثرات کی وجہ سے رونماہوتے رہتے ہیں اس میںبھی درج ذیل تین باتوں کاذکرکروں

گا1 ۔جنسی بیمار معاشرہ 2۔پولیس پر عدم اعتماد3۔عدلیہ کی کارکردگی پر مایوسی
پاکستان میں آئے روز ایسے واقعات ہوتے رہتے ہیں جس میں معصو م بچوں سے زیادتی کی جاتی ہے اور پکڑے جانے کے خوف سے ان کو قتل کر دیاجاتا ہے اجتماعی زیادتی کے واقعات بھی رپورٹ ہوتے رہتے ہیں جانوروں سے بد فعلی بھی ہوتی ہے جس کا کسی بھی فورم پر ذکرنہیں کیا جاتا پسے ہوئے اور کمزور طبقوں کی خواتین کو طاقت ور اپنی ہوس کا نشانہ بناتے رہتے ہیں ہمارا معاشرہ جنسی بھوک میں اس قدر ڈوب چکاہے کہ قبر میں پائوں لٹکائے بوڑھے شادی کو شوق پالتے رہتے ہیں اگر ہم معمولی سی توجہ سے جانچ کریںتوہم بخوبی اس نتیجہ پر پہنچ جائیں گے کہ وطن عزیز کاکوئی شہر، گائوں یامحلہ ایسانہیں جہاں جنسی بھوک کاراج نہ ہو
2پولیس کامقدمہ درج کرنا ، تفتیش کرنااورچالان عدالت میںپیش کرنا ایسا نظام ہے جس پر


معاشرہ عدم کرنے کے لئے تیار نہیںہے ایسے واقعات رونماہوتے رہتے ہیںکہ عوام نے چور یاڈاکوپکڑا تو خود ہی سزاد ینے کافیصلہ کرلیا۔غیر ت کے نام پر قتل کسے سے ڈھکے چھپے نہیں۔خاندانوںمیںہونے والی لڑائیں نسل در نسل چلتی رہتی ہیں اگر یہ مقدمات عدالتوںمیں چلے بھی جائیںتو فریقین کی ترجیح ہوتی ہے کہ وہ خود ہی حساب بے باک کرلیںجس کی وجہ سے قتل و غارت گری کاسلسلہ چلتا رہتا ہے باہمی معاملات کے لئے پنجائت کرنابھی دراصل پولیس اور عدالتوںکے تھکا دینے والے عمل سے فرار کاہی ایک راستہ ہے
3۔دو جنوری 18ء کومیڈیامیں خبر شائع ہوئی کہ سپریم کورٹ نے پانچ سالہ بچی سے زیادتی اور قتل کے ملزم کی سزائے موت ختم کر دی کسی بھی فرد کودیوانی یا فوجداری مقدمہ میں عدالت جانے کااتفاق ہوا ہوتووہ عدالتی نظام سے مایوسی کااظہار کئے بغیرنہیںرہ سکتا یہ بھی رپورٹ ہوا ہے کہ ایک شہری نے اسلام آبا د میں اپنے مقدمہ کے 99سال ہونے پر کیک کاٹا تھا کیک کاٹنے کی چھری در حقیقت اس نظام کے خلا ف ایک احتجاج اورمایوسی کااظہار تھا …..(جاری



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*