زینب کیس پولیس نظام میںاصطلاحات کی دعوت دیتا ہے؟

عبدالوحید

قصور میں معصوم سات سالہ بچی سے ہونے والی زیادتی سے کئی ایک پہلوایسے سامنے آتے ہیںجو ایک معاشرہ کے ذمہ داران کو اس امر کی طرف راغب کرتے ہیںتاکہ اس نوع کا واقعہ دوبارہ منصہ شہود پر نہ ہو یہی جمہوری معاشرہ کا خاصہ ہوتا ہے کہ وقت اور ضرورت کے ساتھ ساتھ اپنے آئین، قانون اور اداروں کو نئے سانچوںمیںڈھالے اس انتہائی افسوسناک واقع کے بعد جواشتعال پھیلا اس کا مداوابھی اسی طرف ہماری توجہ مبذول کراتاہے کہ جہاںکہیں خامی پید اہوئی سے اس کودور کیا جائے اگر چہ ہمیںمعاشرہ کا رویہ ، پولیس نظام اور عدلیہ میں اصطلاحات کوپیش نظر رکھتے ہوئے خود احتسابی اور نظم حکمرانی کا بغور جائزہ لینا ہو گا تحریر طول نہ ہوپائے کے اندیشہ کو سامنے رکھتے ہوئے یہاں



پولیس نظام کے حوالہ سے گزارشات پیش کروں گا
تمام جمہوری ملک میں پولیس پر اپنے شہریوںکواعتماد ہے لیکن ہمار ا پولیس نظام دیگر وجوہات کے ساتھ فرسودہ بھی ہے جس کو تین مختلف شعبوںمیں تقسیم کرنا ضروری ہے اگر چہ کچھ اس حوالہ سے کام ہو بھی چکا ہے لیکن اس کی روح وہاں بھی موجود نہیں ہے تین شعبے درج ذیل ہوں 1۔امن و امان 2۔کرائم سین 3۔تفتیش
1 ۔امن و امان کا شعبہ عام طورپر شہریوں کو اس تحفظ کا احساس دلاتا ہے کہ وہ ان کی جان و مال کی حفاظت کے لئے ہمہ وقت سر گرم ہیں اس شعبہ کی بنیادی ذمہ داری ہوتی ہے کہ وہ24گھنٹے گشت کرنے کی ڈیوٹی دیتی ہے تا کہ سماج دشمن عناصر کے ذہنوںمیںخوف رہے اور شہریوںکوبھی ان کی موجود گی کا احساس رہتا ہے کہ ان کے لئے ایک فور س ہر وقت دستیاب ہے جہاںکہیں کوئی معمولی یا غیر معمولی واقعہ رونما ہوتا ہے یہ چند منٹ میں کے اندر اندر پہنچ جاتی ہے جو جائے وقوعہ کو اپنے کنٹرول میں لے لیتی ہے تا کہ جرم اور اس میں ملوث اجزاء کو ختم یا ضائع نہ ہونے دے
2۔کرائم سین اس شعبہ کی ذمہ داری ہے کہ جہاں کہیںبھی کوئی کرائم ہواہے امن وامان یاگشتی پولیس کے پہنچنے کے بعد ا س نے پہنچنا ہوتا ہے اور یہاں سے جرم کے متعلق تمام شواہد کو اکٹھا کرنا اور اسے فرانزک سائنس لیبارٹری تک پہنچانا اور اس کی حاصل شدہ رپورٹ تفتیشی ٹیم کے سپرد کرنا ہے
3۔تفتیش اس شعبہ کا کام جیسا کے نام سے ہی ظاہر ہوتاہے کہ یہ محض تفتیش کے کام سر انجام دیتی ہے
ان تینوں شعبہ جات میں جو پولیس فورس تعینات کی جاتی ہے وہ اپنے اپنے شعبہ جات میں ملک کے اندر اور بیرون ممالک سے تربیت حاصل کرچکے ہوتے ہیں اور ان کی مہارت کسی شک و شبہ سے بالا ہوتی ہے
متذکرہ پولیس کا نظام فلپائن سمیت کئی ایک ممالک میں رائج بھی ہے اس میں مزید اضافہ یہ بھی کیا جا رہا ہے کہ ایف آئی آر (فرسٹ انفامیشن رپورٹ ) کا اندراج بھی آن لائن ہونا شروع ہوگیا ہے تا کہ کسی شہری کا اعتراض نہ ہوسکے کہ اس کا مقدمہ ہی درج نہیں کیا گیا
ہماری پولیس فورس میں اگر چہ اس حوالہ سے کچھ کام ہوا ہے لیکن اس کی روح کے مطابق ابھی بہت کچھ کرناباقی ہے ایک مثال دیناچاہوں گا کہ کرائم سین کے لئے بھرتیاںتو ہو چکی ہیں لیکن اس کی کارکردگی ابھی تک نہ ہونے کے برابر ہے جب کہ اس حقیقت سے انکار کرنا مشکل ہے کہ پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری نے متعد د مجرموں کی گرفتاری اور ان کی نشاندہی میں اہم کردار اد ا کیا ہے پنجاب فرانزک سائنس لیبارٹری سے اس قدر استفادہ نہیں اٹھایا جا رہا جس قدر وہ کرائم کے خاتمہ میںاپنا رول ادا کر سکتی ہے
ان چند سطور کے ذریعے عرض کرنے کا مقصد صرف اتنا ہے کہ کرائم کے خاتمہ کے لئے جو جدید سائنسی ضروریات ہم حاصل کر چکے ہیں ان سے استفادہ کے لئے لائحہ عمل مرتب کیا جائے تاکہ کوئی اور زینب کسی درندہ کا شکار نہ ہو اور ہماری عوام کو بھی پولیس سمیت دیگر شعبہ جات پر عدم اعتماد کا سلسلہ جاری و ساری نہ رہے





Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*