سمارٹ فون کے ذہنی ،جسمانی اور معاشرتی نقصانات ؟

راشد علی
برطانوی دماغی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون اور دیگر دستی آلات پر بڑھتا ہوا انحصار ہماری یادداشت، معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کے لیے سوچ بچار کی صلاحیت شدید متاثر کررہا ہے اسی لیے ممتاز دماغی ماہر نے خبردار کیا ہے کہ اسمارٹ فون کا بے تحاشا استعمال اور اس پر انحصار ہمیں غبی اور کند ذہن بنارہا ہے دماغی ماہر ڈاکٹر سوسن گرین فیلڈ نے کہا ہے کہ ٹیکنالوجی کا بڑھتا ہوا استعمال آج کی نسل کو شدید متاثر کررہا ہے اور ان میں معلومات جمع کرنے اور مسائل حل کرنے کی صلاحیت اور محنت میں کمی واقع ہورہی ہے آکسفورڈ یونیورسٹی میں واقع لنکن کالج سے وابستہ ماہرین نے کہا ہے کہ اب نام یاد رکھنا اورازبر کرنا صرف ایک کلک کے حوالے کردیا گیا ہے۔ دماغ مسلسل مشق سے سیکھتا ہے اور اس میں حقائق جمع کرنے کی کوشش نہ کی جائے تو یہ دماغی صلاحیت بتدریج کمزور ہوتی جاتی ہے دوسری جانب سوسن گرین فیلڈ نے خبردار کیا ہے کہ نوجوان نسل اصل دنیا میں سیکھنے، کھیلنے اور معاشرے کا حصہ بننے کی بجائے اسکرین میں قید ہوکر رہ گئی ہے۔ گویا ہم نے سوچنے سمجھنے کا کام مشینوں اور اسمارٹ فونز کے سپرد کردیا ہے۔ اس طرح دھیرے دھیرے زندگی کے پیچیدہ مسائل پر ہماری گرفت کمزور ہوتی جائے گی اور ہماری نسل تیزی سے اس جانب بڑھ رہی ہے مستقبل میں اس کے بھیانک اثرات دیکھنے کو ملیں گے یادرہے کہ دماغی نقصانات کے علاوہ بھی اس کے متعدد نقصانات پر تفصیلی گفتگو کی جاسکتی ہے ماہرین کے مطابق موبائل کے استعمال سے تعلیم پر گہرا اثر پڑتا ہے موبائل کمپنیوں کی طرف سے صارفین کے لئے نت نئے اور دلکش فیچرزکو دیکھ کر تو نہ چاہنے والا بھی موبائل فون کو استعمال کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے اور یہی ان موبائل کمپنیوں کی چال ہوتی ہے کہ جس سے ان کے نیٹ ورک زیادہ سے زیادہ صارفین استعمال کریں۔ مگر ان پیکجز سے ہماری نوجوان نسل پر برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں پھر ان نوجوان لڑکوں اور لڑکیوں کی کثیر تعداد شعبہ تعلیم سے منسلک ہے تعلیم کے لحاظ سے ان کے لئے موبائل کے استعمال سے پرہیز کرنا نہایت ضروری ہے اکثر دیکھنے میں آتا ہے کہ وہ کالجز جہاں موبائل کے استعمال پر کوئی روک ٹوک اور پابندی نہیں وہاں طلباء دوران لیکچر ایس ایم ایس یا گیمزسے مستفید ہو رہے ہوتے ہیں اس کے علاوہ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹیکنالوجی کے اس دور میں سمارٹ فون ایسی ضرورت بن گیا ہے جس کے بغیر زندگی مشکل ہو چکی ہے۔ لیکن بعض افراد اس کے استعمال میں حدسے تجاوز کر جاتے ہیں اور انہیں صحت کے حوالے سے نقصان اٹھانا پڑ تا ہے ایسی ہی ایک طبی ماہرین کی ٹیم نے انکشاف کیا ہے کہ موبائل کا ز یادہ استعمال گردن پر تکلیف کا سبب بن رہا ہے۔امریکی شہر لاس اینجلس سے تعلق رکھنے والے نیورو سرجنز کا کہنا ہے کہ ان کے پاس گردن میں درد کی شکایت کے مریضوں میں اضافہ ہوگیا ہے۔ان کے مطابق جب وہ ایسے مریضوں کا ایکسرے کرتے ہیں تو انہیں گردن پر موجود سپائنل کورڈ جو مختلف ٹشوز اور اعصاب کا مجموعہ ہوتی ہے، اپنی قدرتی حالت سے مختلف، مڑی ہوئی نظر آتی ہے جو اس حصے میں تکلیف کا سبب بنتی ہے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ شکایت ان افراد کو ہوتی ہے جو سمارٹ فونز کا بہت زیادہ استعمال کرتے ہیں۔یہ صورتحال بچوں کے لیے زیادہ خطرناک ہے جن کا جسم نشونما پانے کے مراحل میں ہوتا ہے۔تحقیق کے مطابق جیسے جیسے بچوں کا اسمارٹ فونز، ٹیبلٹس یا آئی پیڈز سے کھیلنے کا دورانیہ بڑھتا جاتا ہے ویسے ویسے ان کی نیند کے دورانیے میں کمی آتی جاتی ہے۔وہ بچے جو بچپن سے ہی ویڈیو گیمز کھیلنے یا بہت زیادہ ٹی وی دیکھنے کے عادی ہوتے ہیں وہ نیند کی کمی کا شکار ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی ذہنی نشونما پر منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں اس کے علاوہ سماجی ایپ وٹس ایپ کے نقصانات کا جائزہ لیں تو آپ وٹس اپ پروفائل پکچر ہر اس شخص کے لیے نمودارہوتی


ہے، جس کے پاس آپ کا فون نمبر ہو۔ اگر آپ نے اپنے موبائل پر کسی کو وٹس ایپ کے ذریعے بھیجا گیا میسج پڑھ لیا ہے، تو آپ اسے قطعاً یہ نہیں کہہ سکتے کہ میں نے آپ کا میسج نہیں پڑھا کیونکہ میسج پڑھ لینے کے بعد بھیجے والے کے موبائل میں نیلے رنگ کا ٹک کا نشان نمودار ہوتا ہے جو یہ بتاتا ہے کہ آپ کا بھیجا گیا میسج پڑھ لیا گیا ہے ۔ وٹس ایپ کیونکہ ایک اٹریکٹو پر کشش اور آسان اپیلی کیشن ہے، اس وجہ سے زیادہ تر لوگ اسے دوسری ایپلی کیشنز پر ترجیح دیتے ہیں، لیکن یہاں اس کا نگیٹو پوائنٹ یہ ہے کہ آپ اپنے قریب موجود دوست احباب کو نظر نداز کرکے وٹس ایپ پر موجود دوستوں سے چیٹنگ کرنا پسند کرتے ہیں، جو قطعاً درست نہیں۔ زیادہ تر طالب علم وٹس ایپ پر لیٹ نائٹ چیٹنگ کرتے ہیں اور ویڈیوز شیئر کر کے اپنا اور اپنے دوستوں کا دل بہلاتے ہیں، لیکن اسی اثنا میں سونے کا وقت گزر جاتا ہے، جو اُن کی جسمانی اور ذہنی صحت کے لئے نہایت برا ہے ۔فیس بک کے منفی اثرات کا جائزہ لیں تو نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد فیس بک استعمال کر رہی ہے۔ جس سے وہ اپنا قیمتی وقت فیس بک استعمال کرنے میں صرف کرتے ہیں۔ فیس بک کی وجہ سے نوجوان نسل سستی اور کاہلی کا شکار ہو رہی ہے۔ فیس بک کی وجہ سے فحاشی پھیل رہی ہے۔ لوگ غلط فہمیوں کا شکار ہو رہے ہیں۔ حالیہ چند واقعات نے ہمیں ہلا کے رکھ دیا ہے۔ لڑکے نے لڑکی کو بیوقوف بنایا اس سے شادی کا وعدہ کر کے اس سے سارا مال لوٹ کر بھاگ گیا۔ لڑکی نے دل برداشتہ ہو کر خودکشی کر لی۔ ایک لڑکی نے ایک لڑکے کو دھوکہ دیا۔ اس سے رقم ہتھیا کر اسے قتل کر دیا اور بھاگ گئی ۔فیس بک پر سائبر کرائم عام ہے۔ جس سے کئی لوگ دھوکے میں آ جاتے ہیں اور پھر نقصان اٹھاتے ہیں۔ اگر آپ فیس بک پر اپنے پیج تخلیق کرتے ہیں تو نہ صرف آپ کے دوستوں کو آپ کی درخواستوں بلکہ ہزاروں صارفین کو درخواست کرنے کی آپشن نظر آئے گی جس سے وہ آپ سے بات چیت کرنے کی کوشش کریں گی اور پھر آپ کو تنگ کریں گے سیاسی جماعتیں سوشل میڈیا کو ایک دوسرے کے خلاف بطور ہتھیاراستعمال کررہی ہیں جس کے معاشرے پر بھیانک اثرات مرتب ہورہے ہیں یہ ضروری ہے نوجوان نسل کو ٹیکنا لوجی کے مثبت استعمال سے اگاہی فراہم کی جائے اور جدید ٹیکنالوجی کا مثبت استعمال کیا جائے تاکہ ہماری نسل نو ذہنی جسمانی ومعاشرتی بیماریوں سے محفوظ رہے ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*