​زمین کی پشت سے پیٹ اچھا لگنے لگا ہے

تحریر:۔ ملک شفقت اللہ

میں نے اپنے سابقہ کالم میں فکری ارتداد کا ذکر کیا تھا جس پر قارئین نے اس ارتداد سے بچنے کا حل بھی لکھنے کو اصرار کیا ۔ بات تھوڑی پرانی ہوگئی ، وقت کی قلت کی وجہ سے معذرت خواہ ہوں لیکن شاید اتنی بھی پرانی نہیں ہوئی ۔ اپنے قارئین کو بتاتا چلوں کہ عصر حاضر کے مسلمان ممالک اور اس کے باشندے بشمول ہمارے ،مغربی اصطلاح Magalowthymia کے متحمل ہوچکے ہیں ۔ یہاں میں تفصیل سے تو نہیں ہاں لیکن اسے مختصراََِ ضرور بیان کرنا چاہوں گا تاکہ قارئین کیلئے آسانی ہو جائے ۔ مگیلو تھیمیا کو مغربی دنیا میں تعمیری اصطلاح کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے اور ان کے نزدیک تعمیری اصطلاح ہے کیا ؟

اس کی جانب طبع آزمائی کی کوشش کرتے ہیں ۔ مغرب کی کوشش ہے کہ مسلمانوں کو صحابیانہ صفات سے عاری کر کے گناہوں ، سہولت پسندی ، اور عیش پرستی میں مبتلا کیا جائے ۔ ملٹی نیشنل کمپنیاں ہمیں طرح طرح کی راحتوں ، لذتوں اور تعیشات میں مبتلا کر کے نت نئی ایجادات کی تشہیر کرتی ہیں ۔دگنا پیسہ بھی کماتی ہیں اور دجال کے خارش زدہ چوہوں کو تیار کر نے کے مرحلے پر بھی تیزی سے عمل کر رہی ہیں ۔انسان اپنے جسم کی راحت کیلئے کہاں تک جا سکتا ہے ؟ کس حد تک گر سکتا ہے؟ کتنی فضول خرچی کر سکتا ہے ؟روح سے توجہ ہٹا کر نفس کے پھندوں میں کتنا گرفتار ہو سکتا ہے ؟ ان چیزوں کا جتنا تصور کیا جا سکتا ہے ، ملٹی نیشنل کمپنیاں اس سے آگے کی لذت پرستیوں کو باقاعدہ منصوبوں کے تحت حقیقت کی شکل دے رہی ہیں ۔وہ دنیا کو اتنا آرام پسند ، عیش پرست ، کاہل ، سست اور اتنا لذت کوش بنانا چاہتے ہیں کہ فارمی مرغیو ں کی طرح کسی کام کے نا رہیں ۔یہ ہے مغربی تعمیری اصطلاح جسے وہ مگیلو تھیمیا کا نام دیتا ہے ! تو کیا آپ اس مغربی تعمیری نظام کو مفید سمجھتے ہیں ؟ میرے خیال میں تو بالکل بھی نہیں ! اور اس سب کا حل اور میرے سابقہ کالم کا جواب بھی صرف و صرف ایک ہی ہو سکتا ہے، وہ ہے جہاد او ر صرف جہاد ۔ جہاد پر بات آئی ہے تو ہم اپنے آج کے اہم ترین موضوع کی طرف آتے ہیں اور وہ یہ کہ امریکہ اپنی ہرزہ سرائی اور ہٹ دھرمی پر قائم ہے ۔ نت کوئی ورلڈ آرڈر آیا ہوتا ہے اور دوسروں کی طرح پاکستان بھی اس کے سامنے ہاتھ باندھے کھڑا ہو تا ہے۔ جی سر ! اس کی ایک بڑی وجہ تو آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک ہے جو یہودیوں کے زیر اثر ہے ، جس کے غلام تمام تر ممالک ہیں جو جس طرح چاہتے ہیں کسی بھی ملک کی معیشت میں اسی طرح کا وبال کھڑا کر دیتے ہیں ۔ سی پیک منصوبے کے با وجود بھی پاکستان معاشی اعتبار سے تنزلی کی راہ پر گامزن ہے ، کیوں کہ پاکستان نے آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک سے اتنا قرض لیا ہوا ہے کہ وہ جس طرح چاہے پاکستانی معیشت کے ساتھ کھیلتے ہیں اور عوام کو ٹیکسوں کے بوجھ تلے دباتے ہیں ۔ یہ بھی ایک دجالی سسٹم ہے جو نظام انفاق سے دور کر کے مغربی اصطلاح مگیلو تھیما کو نا فذ کرتا ہے ۔کچھ عرصہ پہلے ڈونلڈ ٹرمپ نے یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دے دیا جس پر بہت سی بحث بھی ہوئی اور میڈیا پر بھی اچھالا گیا یہاں تک کہ ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف


ایک سو اٹھائیس ووٹ بھی پڑے کہ یرو شلم کبھی بھی اسرائیل کا دارالحکومت نہیں بن سکتا اور بالجبر حاصل ہونے والی قبضہ گاہ کو یہودی ریاست تسلیم نہیں کیا جاسکتا !لیکن افسوس کہ حقیقی پہلو کی جانب کسی نے بھی توجہ مبذول نا کروائی ،نا تو علماء نے اور نا ہی میڈیا نے ۔ دجال کی آمد سے پہلے سٹیج تیار کیا جا رہا ہے جو مکمل ہونے کو ہے ۔حال ہی میں امریکہ نے ایک اور مطالبہ دوبارہ سے دوہرایا ہے اور وہ ہے حافظ محمد سعید جو مرد مؤمن اور حق کا علمبردار بھی ہے کی نظر بندی اور جماعت الدعوۃ کی ذیلی انسانی تنظیم فلاح انسانیت فاؤنڈیشن پر پابندی عائد کرنا جنہوں نے بلا تعصب ہمیشہ چاہے قلمی ہو ، شمشیری ہو یا مالی ہو جہاد کیا ہے اور اس کے فروغ کیلئے ہر دم کوشاں بھی ہیں ۔جہاد اسلام کو چوٹی پر لے جانے والی واحد سبیل اور مسلمانوں کی ترقی کی واحد ضمانت ہے اوریہود اس حقیقت سے خوب واقف ہیں ۔یہود جانتے ہیں کہ مسلمانوں کے اندر راز خود پیدا شدہ عزمِ جہاد کا رخ پھیر کر انہیں غیر حقیقی میدان کار فراہم کیا جائے ۔یہ میدان کار بظاہر حقیقی اور مفید لیکن در حقیقت فرضی اور قطعاََ غیر مفید ہو گا ۔ یعنی مغربی اصطلاح Megalowthymia تعمیری ہو تخریبی نا ہو ۔ اس کے نتیجے میں امت مسلمہ اپنی مرضی سے ہنسی خوشی ،فکری اور علمی بحث و تبادلۂ خیال کرنے لگے ۔اس کو عظیم کار خیر تصور کرے اور عصری تعلیمی ترقی کیلئے کوشاں ہو جائے ۔مسنون اعمال کو زندگی کا جزو بنانے کی بجائے اسلام کو مغربی تہذیب سے زیادہ سود مند ثابت کرنے کی کوشش میں لگی رہے۔علمی اداروں ، تحقیقی ، صنعتی اور فنی اداروں کے قیام کی طرف متوجہ ہو جائے اور مغرب کی ترقی تک پہنچنے اور اس سے آگے نکلنے میں اتنی مستغرق ہو جائے کہ اسے جہاد کے ذریعے حاصل ہونے والی بے مثال ، تیز رفتار اور ہوش ربا ترقی کا خیال ہی نا رہے ۔افسوس کہ ہمارے اسلامی ریاستوں کے حکمران اور رعایا اسی دلدل میں لوٹ پوٹ ہو رہے ہیں ۔ ہمارے حکمران بھی ظالم اور نا اہل ہیں جو ذرا برابر بھی سوچنے، سمجھنے کی بجائے دجاجلی ورلڈ آرڈر پلک جھپکنے میں بجا لاتے ہیں ۔ ایک حدیث کا مفہوم ہے کہ جب تک تمہارے حکمران عادل و عاقل ہوں تب تک تمہارے لئے زمین کی پشت ، اس کے پیٹ سے بہتر ہے اور جب تمہارے حکمران ظالم ، فاجر اور نا اہل ہو جائیں تو تمہارے لئے زمین کا پیٹ ، اس کی پشت سے بہتر ہے ۔ یعنی اس حدیث میں علی الاعلان جہاد کی ترغیب دی گئی ہے ۔ اس پر مجھے اپنا ایک قطعہ یاد آگیا کہ :
زمین کی پشت سے پیٹ اچھا لگنے لگا ہے
مجھے فتنو ں کا یہ دور سچا لگنے لگا ہے
کمینے قائم ہیں اپنے اس تمرد پہ شفقت

مجھے جینے کا حق نہیں ، ایسا لگنے لگا ہے




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*