فکر اور پریشانی

Naheed Kauser
                             ===========
فکر اور پریشانی کو ذہن پر ذیادہ عرصہ سوار رکھنے سے ذہنی اور جسمانی صحت متاثر ہوتی ہے کیونکہ اس سے تناو، الجھن اور بےچینی، مظلومیت اور خود ترسی والے رویے سامنے آتے ہیں۔معاملات میں فکر یا پریشانی ہر ایک کی زندگی کا  حصہ ہوتے ہیں۔ لہذا، اپنی زندگی کو خوشگوار اور پرسکون بنانے کے لئے اس بات کو گہرائی میں سمجھنے کی ضرورت ہے۔

فکر کیا ہے؟
                                          =====
کسی بھی action کے outcome کے بارے میں منفی طریقے سے سوچنا،psychology میں فکر کہلاتا ہے یعنی آپ کسی بھی چیز کے نتیجے کے بارے میں منفی سوچ رہے ہیں۔کوئی بھی ایسا کام جو کر لیا ھو یا جسے ابھی کرنا ھو اس کے نتیجے کے بارے میں منفی طریقے سے سوچنا فکر  اور پریشانی کہلاتا ھے۔
جب کوئی بھی انسان ذیادہ منفی سوچے گا تو یہ یقینی ہے کہ وہ تناؤ، بےچینی اور غصہ محسوس کرے گا۔

کیوں کچھ لوگ زندگی میں  ذیادہ ترخوش رہتے ہیں اور کچھ غمگین؟
لوگ اپنی problems کے حل ہونے یا نہ ہونے پر خوش یا غمگین ہوتے ہیں۔ گوگل کے مطابق ؛

“Problem is a question that does NOT have a solution /answer.”



مگر ھماری زندگی میں ذیادہ تر  problem کا solution ہوتا ہے۔ مثال کے طور پر آپ کی صحت خراب ہے تو اسے ٹھیک کیا جا سکتا ہے۔ اگر پیسوں کا problem ھے تو کمائے جاسکتے ہیں۔  اگر تعلقات خراب ھیں تو بہتر کیے جا سکتے ہیں۔ تو پھر فکر یا پریشانی کس با ت کی ؟

  A problem or question which you have to answer by using your skill or knowledge  is called puzzle ☺

اس کا مطلب یہ ہے کہ جن چیزوں کو ھم problem  سمجھ رہے ہوتے ہیں، وہ problems  نہیں بلکہ puzzles (پہیلیا ں ) ھیں اور جب ھمیں یہ پتا ہوگا کہ ہر puzzle کا ایک solution ہے تو ھم اس کا حل تلاش کرنے کی کوشش کریں گے ۔
کوئی بھی puzzle  مستقل نہیں ہوتی، اس کا ایک ending time ہوتا ہے۔ جب تک ھم زندہ ہیں، ھمیں زندگی میں مختلف puzzles کو حل کرنا ہی پڑے گا۔ اگر ھم ان کو حل کرتے ہیں تو ھمیں اس کے نتیجے میں سمجھ بوجھ، معلومات، تجربہ اور اچھی کارکردگی کے ساتھ ساتھ خوشی ملے گی۔ آپ ذیادہ valueable  انسان بن جائیں گے۔
دوسری طرف اگر انسان زندگی کی puzzles کو حل کرنے سے کتراتا اور گھبراتا ہے، افسوس کرتا ہے اور روتا ہے تو یقینا وہ  مسلے پر دکھ اور تکلیف محسوس کرے گا۔ اور اپنے آپ کو دکھی اور مظلوم ھی محسوس کرے گا۔
بس یہی ایک سوچ کا فرق ہے جو آپ کی زندگی کو جنت بھی بنا سکتا ہے اور جہنم بھی۔ آپ بھرپور طریقے سے زندگی کا مزہ لے سکتے ہیں۔ اور ایک بے مزہ زندگی بھی گزار سکتے ہیں۔
کیا خوبصورت گانا ہے؛
“میں زندگی کا ساتھ نبھاتا چلا گیا

ہر فکر کو دھوئیں میں اڑاتا چلا گیا”



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*