شرم‫ تم کو تو بالکل نہیں آتی

کالم نگار :طیبہ عنصر،اسلام آباد
کراچی کے علاقے بن قاسم کے رہائشی بچے محمد حسین کو بے درد اور وحشی مولوی نے زدوکوب کرکے ہلاک کر دیا ،حقیقت کیا ہے ابھی اس کی تصدیق ہونا باقی ہے لیکن مجھے اپنے قلم پہ اختیار نہیں ہے اب تک کی معلومات کے مطابق تو احوال یہی ہے
لیجیے مبارک ہو اس بچے کے والدین کو جو اپنے  گناہوں کی گٹھڑی کو بچے کے کندھوں پہ رکھ کر اس بات کا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرتے ہیں کہ بچہ حافظ قرآن ہو گیا تو بس ان کو جنت کا لائسنس مل گیا او اللہ کے بندو! کچھ تو خوف خدا کرو کیوں اپنے اعمال کو بخشوانے کے آسان طریقہ کار کو استعمال کرتے ہو اس قدر جہالت کہ اب تو خوف محسوس ہوتا ہے کہ اپنی بخشش کے لیے  خود بچوں کے گلے دبانے سے بھی نہیں چوک سکتے یہ لوگ ،
یہ بہیمانہ‫ واقعات جس کی ذمہ داری کسی پہ بھی ہو والدین اپنی غلطی سے ہرگز چشم پوشی اختیار نہیں کر سکتے
کیوں راضی ہوگا الله  تعالیٰ جب ان معصوم پھولوں کو اپنی واہ واہ بٹورنے کے لیے حفظ قرآن  کے لیے زبردستی ظالم و جابر قسم کے ذہنی مریضوں  کے سامنے بٹھا دیتے ہیں  کیا کیا نہ فریاد کی اس بچے نے اپنی جان بخشی کے لیے لیکن درندے نے اس کی ایک نہ سنی ہو گئ جہنم پکی ان والدین کی اور اس نام نہاد مولوی کی بھی ،کس جگہ احادیث سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام جبر کا دین ہے یا اس کو جبرًا پھیلایا گیا ہو  اسلام دین فطرت ہے وہ معصوم تو جنت میں  یقینی طور پر پہنچ چکا ہوگا لیکن اس کے وسیلے جنت کو پانے کے خواب سجانے والے  بھول جائیں کہ وہ جنت کی خوشبو کو بھی پا سکیں گے زینب سے پہلے اور زینب کے بعد  پے در پے ہونے والے واقعات  بتا رہے ہیں  کہ اب ہم اس دور میں داخل ہوگئے ہیں  جب ہم اپنے گھر میں محفوظ ہیں اور نہ ہی باہر ،لوگ بزدل ہیں یا لومڑی کی طرح چالاک ،
وقت آگیا ہے جس دور کے لیے کہا گیا تھا  شاید کہ جس کو اپنی بکری ملے تو وہ اس کے پیچھے پناہ لے جو درخت کے پاس ہے اسے پناہ بنائے مجھے اگر اس حدیث کی تفصیلات  میں  زیادہ معلومات نہ ہو تو معذرت  لیکن بہرحال یہ احکام اشارہ تھے اس طرف کہ اب زمانہ وہ ہے جس میں  ہر انسان کو اپنی پڑ چکی ہے وہ دوسرے کو کیا دیکھے
اگر غلطی سے کوئی آواز اٹھا بیٹھے تو آس پاس کے لوگ ہی عالم فاضل بن کر جینا دوبھر کر ڈالتے ہیں
گال پیٹنے میں  پیش پیش مذہب کی دہائی دینے لگتے ہیں


کم علم اور بے عمل عالم ٹائپ کے لوگ آپ کو ہر جگہ نظر آئیں گے کسی کو نظر نہیں آتا ہے غلطی کس کی ہے گورنمنٹ کو اب تو حالات کی سنگینی کو محسوس کرنا ہوگا کتنا انتظار کرنا ہے اور کتنے اور معصوم بچوں کو بھینٹ چڑھانے کے بعد حکومت اس بات پہ توجہ دے گی ابھی تک زینب کے کیس پہ کچھ پیش رفت نہیں ہوئی کہ مزید  کیس ہونے لگے فائلوں کو جمع کریں اور ردی میں بیچ کر امریکہ کا قرض اتار لیں یا ملک کو کسی ایسی جمہوریت کی چاہ ہے نہ ضرورت جو صرف سیاسی لیڈروں کی  خبروں ،ان کے مقدمات ان کی تقاریر سے محظوظ ہوتے رہیں
ایک دوسرے کو لعن طعن کرنے والے لیڈرز سے بہتر ہے یہ ملک ان لیڈر نامی دھبوں سے نجات پا جائے
کہاں سے لائیں بہترین لیڈر جب ہمارے اسلاف کے قصے تو چھوڑ سیرتا النبی صلی الله عليه و آلہ وسلم  کو بھی خارج از نصاب کیا جارہا ہو اگلی نسل کے پاس کہاں سے آئے گی قوت ایمانی  ،جن کو اسکول سے بھی اسلام نہ ملے اور گھروں میں  نفسا نفسی کے مارے شہرت کے داعی ،خاندان بھر میں اپنی واہ واہ کروانے والے والدین ملیں جن کے پاس بچوں کوقرآن پاک تک پڑھانے کی فرصت نہ ہو یا وہ اپنی جہالت پہ پردہ ڈالنے والے بے رحم مولویوں کے حوالے کر رہے ہوں اپنے بچوں کو ،
کاش ہم باشعور ہوجائیں  یا پھر جو پال نہیں سکتے وہ بچے پیدا بھی مت کریں،خدارا مت کریں ،اب تو میرے قلم کی سیاہی بھی لہو رنگ ہو گئ ہے پھول جیسے بچوں کے خون سے لہو رنگ ،افسوس صد افسوس



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*