ابھی کچھ دیر پہلے

تحریر آمنہ نثار (ینگ وویمن رائٹر فورم اسلام آباد) ایم ایس اردو

ہوائیں ایسے چل رہی تھیں جیسے ۔۔۔گیت گاتے ہوئے سب کے لیے خوشی کا پیغام لائی ہوں اور محبت بھرے گیت الاپ رہی ہوں۔۔۔۔زندگی پورے آب و تاب کے سا تھ چمک رہی تھی ۔۔۔پارک میںہر طرف خو ب رونق تھی ۔۔۔بہت ہی خوبصورت اور پر کشش منظر۔۔۔یہ منظر نگاہوں کے لیے ٹھنڈک اور دل کے لیے راحت کا باعث تھا۔۔۔۔
لوگوں کا ہجوم ۔۔۔۔معصوم سے ہنستے کھیلتے شرارتیں کرتے ہوئے بچے خوشی سے اوچھل کود رہے تھے ۔۔۔پر جوش مسکراہٹیں ۔۔۔۔۔آ نکھوں میں اطمینان ؎۔۔۔۔اور۔۔۔چہرے پر شادابی رقصاں تھی۔۔۔
کہ اچانک ایک زور دار کے ساتھ دھماکہ ہوا اور سب ختم۔۔۔
بہت ساری ہنستی مسکراتی زندگیاں دھماکے کی نظر ہو گئیں ۔۔۔۔۔اور معصوم سے پھول نہ صرف مرجھا گئے بلکہ انہیں بے دردی کے ساتھ شاخوں سے نوچ لیا گیا۔۔۔
نہ جانے میرے ملک کے ہنستے بستے لوگوں کو کس کی نظر لگ گئی ۔۔۔کن ظالموں کے ظلم کا نشانہ بن گئے ۔۔۔کن مفادات کی بھنٹ چڑگئے۔
یہاں ابھی تو بچے کھیل کود میں مشغول تھے۔۔جھولے جھول رہے تھے۔۔۔۔ وہ لوگ جو یہاں اپنوں کے ساتھ خوشیاں منانے اور لطف اندوز ہونے آئے تھے وہ اب زندگی سے ہاتھ دھو چلے تھے۔۔۔
ذہین اس ناخوش گوار حدثے کو تسلیم کرنے سے انکاری ہے۔۔۔نہیں نہیں ایسا نہیں ہو سکتا وہ ابھی کچھ دیر پہلے ہنستے مسکراتے،طرح طرح کے کھانے اور خوش گیپوں میں مصروف تھے۔۔۔اب تمام منظر بدل چکا تھا۔۔۔یہ وہ منظر تو نہیں ہے جو کچھ دیر پہلے میری نگاہوں کے لیے سکون اور راحت کا باعث تھا۔۔۔
ہو سکتا ہے یہ میرا وہم ہو
دل ماننے کو تیار نہیں ہے
مگر


آنکھیں کے سامنے جو خو ف ناک موت کا منظر ہے ۔۔۔وہ دیکھتے ہو ئے دماغ سوچنے پر مجبور کر رہا ہے۔۔۔۔کہ یہ وہم نہیں بھیانک حقیقت ہے۔۔۔۔میں اس تلخ حقیقت سے نظریں چرانا چاہتی ہوں ۔۔۔وہ ہنستے مسکراتے چہرے میری نظروں کے سامنے کھومتے ہیں ۔۔۔کیا وہ آخری بار ہنس رہے تھے ؟؟؟ کیا اب کبھی ان کی ہنسی میری سماعتوں سے نہیں ٹھکرائے گی؟؟؟ انہیں سپرد خاک کر دیا جائے گا؟؟؟وہ کو ابھی کچھ دیر پہلے اس زمین پر بڑی شان کے ساتھ کے ساتھ چل رہے تھے۔۔۔۔میں ان سوالوں کے جوابات کہاں تلاش کروں۔۔۔۔
ہر طرف قیامت کا سماں ہے ۔۔۔لہو لہن لاشیں جھلے چہرے اور جھلسے ہوئے جسم نظر آ رہے ہیںکسی کا سر دھڑ سے جدا ہے ۔۔۔کسی کی ٹانگیں تو کسی کے بازوں کا نام و نشان تک نہیں ہے۔۔ زخمی لوگوں کو ایمبولینس میں ڈال کر قریبی ہسپتال لے جایا جا رہا تھا۔۔۔۔۔۔ ا پنوں کی بکھری لاشوں کے بیج جو بچ گئے ہیں ان میں زندگی نہیں ہے۔ان کی دردبھری چیخ و پکار سے فلک بھی کانپ رہا ہے۔۔۔
دھماکے کی خبر پھیل چکی ہے اور لوگوں کا ہجوم چلا آرہا ہے۔اپنوں کو تلاش کرنے ۔۔ ۔۔۔۔اور ہر آنکھ اشک بہار ہے
میں اس بھیڑ میں انسانیت تلاش کر رہی ہوں۔۔۔مجھے نظروں کے سامنے انسانیت کی بلند و بالا وعمارت فلک بوس ہورہی ہے۔۔اور میں صرف تماشائی بنی دیکھ رہی ہو۔۔۔سوچوں میں محو۔۔۔میری سماعتوں سے یہ الفاظ ٹکراتے ہیں۔۔۔یہ لوگ شہید ہیں ۔۔۔بے قصورہیں۔۔۔یہ تو جنتی ہیں ۔۔
میں سوچ رہی ہوں کیا یہ جنت میں ہیں؟؟؟
دل نے نفی کر دی۔۔۔یہ منظر کا نہیں ہو سکتا ۔۔۔۔کیا انہیں جنت میں بھجنے کے لیے یہ حال کیا ہے یا خود جنت میں جانے کے لیے؟؟؟یہ کون ساراستہ ہے جو جنت کی طرف جاتا ہے۔۔۔میں اس سے آگے سوچتی ہوں تو دماغ کی رگیں تن جاتی ہیں دل پھٹنے لگتا ہے۔۔۔بچوں کی ہنسی اور قہقے چیخ و پکار میں بدل جاتے ہیں۔۔۔ہر طرف اندھیرا چھا جاتا ہے۔۔آسمان پر اـ’رتے پرندے بھی خوفزدہ معلوم ہوتے ہیں۔۔۔ایسے محسوس ہوتا کہ ہر جاندار اور بے جان انسان سے انسانیت کے روٹھ جانے پرماتم کر رہے ہوں
میں جاننا چاہتی ہوں ایسا کیوں ہورہا ہے۔۔کون ان معصوم کلیوں کی آبیاری خون سے کر رہا ہے؟؟؟
اپنی تمام تر توجہ ایل نقطہ پرمرکوز کرتی ہوں۔۔۔دعا کے لیے ہاتھ ’اٹھاتی ہوں تولفظ گونگے ہو جاتے ہیں۔۔۔
ابھی کچھ دیر پہلے یہاں خوش کن سماں تھا۔۔۔۔اور اب صفِ ماتم بچھی ہوئی ہے۔۔۔میں اس بھیانک حقیقت سے نظریں چرانا چاہتی ہوں۔۔۔پر آخر کب تک حقیقت سے نظریں چرائی جا سکتی ہیں ۔۔۔میں شرمندہ ہوںان چہروں کے سامنے جن کی ہنسی میں انھیں نہیں لوٹا سکتی۔۔۔ان کے جسم سے بہتے ہوئے کون کو میں نہیں روک سکتی۔۔۔میں اب تک اس ہنسی کو تلاش کر رہی ہوں جو اس زوردار دھماکے میں دب گئی



One comment

  1. وقار احمد ملک

    بہت اچھا افسانہ۔ حقیقت پسندی کے ساتھ ساتھ جزباتیت کا خوبصورت استعمال کیا گیا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*