’’نیا فیشن ‘‘

نوشین قمر
ینگ ویمن رائٹر فورم اسلام آباد
بچپن میں اماں ابا سے سنا کرتے تھے کہ اکیلے گلی میں نہیں جانا ۔کسی اجنبی کے ساتھ کوئی بات نہیں کرنی ۔ کسی سے کچھ لے کر نہیں کھانا ۔ کوئی غلط بات کرے تو فوراََ بڑوں کو بتانا ہے ۔ اگر والدین گھر پہ نہیں ہوتے تو کسی بڑے کے ساتھ رہنا ہے ۔ دادا ، چچا ،تایا ،پھوپھا ، ماموں وغیرہ یا بڑے کزنوں کے علاوہ کسی کی کوئی بھی بات والدین کی غیر موجودگی میں نہیں ماننی ہے ۔ اماں اور ابا کسی جلاد سے کم نہ لگتے جو ہر وقت کی پابندیاں لگائے رکھتے تھے ۔ کس کے ساتھ کھیل رہے ہو ۔گھر میں کون ساتھ آیا ہے ۔کس کے گھر جانے کی اجازت ہے ۔ ٹی وی بھی اگر دیکھنے کی اجازت تھی تو پی ٹی وی ہوم پہ شام چار بجے القرآن کے پروگرام کے بعد یا تو ٹوم اینڈ جیری دیکھنا ہوتے یا گوگی انکل اور عینک والا جن ۔غبارے والے کی ’’ پوں پوں ‘‘ سنائی دیتی تو ہاتھ میں ایک ایک غبارہ تھما دیا جاتا یا پھر ابا کے ہمراہ دو روپے والی کون آئس کریم دلا دی جاتی ۔ لڑ کا پارٹی تو پھر بھی خود کو مرد گردانتے ہوئے گراؤنڈ کا دیدار کر آتی تھی مگر صنفِ نازک صرف کمرے کی کھڑکی سے ہی گراؤنڈ کا نظارہ کرنے کی جسارت حاصل کر سکتی تھی ۔ مغرب کی آذان سے پہلے جیسے ہی گراؤنڈ اور بلاکس کی بتیاں روشن ہونے لگتیں سائیں بابا کے ڈر سے سارے بچے گھروں کا رُخ کرتے ۔جب کبھی محلے کی آنٹیاں اکٹھی ہوتیں اور کسی بات پر ’’ ہائے میں مر جاواں اے کی کر دتا ظالماں، کالج جاندی کُڑی نوں پھڑ لیا، قیامت آ گئی اے باجی بس ‘‘ جیسی گفتگو سننے میں آتی تو بچہ پارٹی بھی کان لگانے کی کوشش کرتی اور جیسے ہی خواتین کا جھنڈ غائب ہوتا تو اماں سے خبر کی تفصیل مانگتے ۔ جس پر وہی رٹے رٹائے جملے سننے کو ملتے تھے کہ اکیلے کہیں نہیں جانا ہے وغیرہ وغیرہ ۔ایسی خبریں کبھی کبھار ہی سننے کو ملتی تھیں جن پر دو چار دن گفتگو ہوتی رہتی اور پھر وہ واقعہ ماضی کا ایک حصہ بن جاتا ۔


شہر اقتدار سے کافی عرصہ دور رہے ۔ گرمیوں کی چھٹیاں گزارنے آتے تو ہماری عید ہوتی ۔ سمجھدار تو تھے ہی ساتھ ہی بیوقوف بھی ۔ ایک بار تو کھلونوں کی چاہ میں کسی دادا کے ساتھ جانے کو تیار کھڑے تھے کہ محلے کی ایک آنٹی پہچان گئیں اور ایسا واویلا مچایا کہ دادا کو ان کے دادا کی یاد آ گئی ۔ ہمیں پھر سے انہی ہدایات اور انہی پابندیوں میں جکڑ دیا جاتا جو ہم بچپن سے سنتے آئے تھے ۔ ایک تبدیلی جو شام کے وقت بتیاں روشن ہونے کی صورت میں ہوا کرتی تھی اب اس میں کافی کمی آنے لگی تھی ۔ ایسے واقعات بھی اپنے دوستوں سے سنتے تھے کہ فاروق کی بہن کو کوئی سکول سے لے گیا ۔ ہمارے پچھلے گراؤنڈ میں ایک بچی سلائیڈ کے نیچے مری پڑی تھی۔ جو کچرا اٹھانے والے انکل آتے ہیں وہ

شازیہ آنٹی کی چھوٹی بیٹی کو بھی اٹھا کر لے گئے تھے وغیرہ وغیرہ ۔ گویا وہ واقعہ جو سال میں کبھی کبھاررونما ہوا کرتا تھا اب مہینوں میں ان کی تعداد میں اضافہ ہوتا چلا جارہا تھا۔ جہاں دیگر چیزوں میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ تبدیلیاں رونما ہو رہی تھیں وہیں رہن سہن ، ملنا جلنا، اُوڑھنا بچھونا ،کھانا پینا یہ سب بھی بدل رہا تھا ۔ گویا دورِ جدید کو قبول کرنے کا تمام تر سامان ہو چکا تھا۔
بہن سنتی ہو۔ وہ پچھلی گلی والی رافعہ ۔ارے ہاں وہی اکرم کی بیوی ۔ بھاگ گئی بیٹی اس کی دو دن سے لاپتہ ہے ۔ ۔۔
یا اللہ کیا زمانہ آ گیا ہے ۔ محلہ ہی چھوڑنا پڑے گا ۔ میں کہتی ہوں بہن تم بھی بوریا بستر سمیٹو ۔رشیدہ کی سب سے چھوٹی والی غائب ہے۔ارے اب اس کی عمر ہی کیا ہے ۔پانچویں میں تو پڑھتی تھی ۔ ۔۔
احمد بھائی سنا ہے آپ کی بیٹی ہسپتال سے کوئی لے گیا ہے ۔ کوئی کال آئی کیا ۔ اب ایک ماہ کی ننھی جان سے کیا ملے گا انہیں۔۔۔


رضا بھائی یہ کیا سن رہا ہوں میں اپنے کامی کی کوئی خبر نہیں ہے ۔ میچ سے واپس ہی نہ آیا۔۔۔
ایسی ہزاروں باتیں جو اماں ابا تک پہنچتیں ۔ اور دوسری جانب اخبارات ایسی خبروں سے بھرے ملتے ۔
سیالکوٹ: گھر آئے مہمان نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا ۔
شیخوپورہ : ذہنی مریض بچی سے زیادتی کرنے والا گرفتار نہ ہو سکا۔
سات سالہ بچی کو زیادتی کے بعد سر میں پتھر مار کر زخمی کر دیا گیا۔
بچیوں کے ساتھ زیادتی کے ایسے کئی واقعات سنے دیکھے اور ایسے قبول کیے کہ اب وہ معمول کا حصہ بن چکے ہیں ۔ مگر روح اس وقت تھک کے ایک جانب بیٹھ گئی جب معصوم بچوں کے ساتھ بھی ایسے واقعات منظرِ عام پر آنے لگے ۔ جس میں عمر کی کوئی قید نہیں ۔چاہے وہ چھ ماہ کا بچہ ہو یا پھر آخری سانسیں لیتا بوڑھا آدمی ۔ مرد ذات جس سے عورت خوف کھاتی اور اس کی درندگی و سفاکیت کا شکار ہوتی چلی آرہی تھی اب اس کے ذہن میں بھی ہزاروں سوال جنم لینے لگے ۔ وہ کس آنچل تلے ۔ کس سائبان تلے اپنا آپ چھپائے ۔ اپنا دامن بچائے کہ اس سے تو خود اس کی صنف کے لوگ محفوظ نہیں رہے۔ ایسے سوال کیوں نہ جنم لیتے کہ جب ایک کام والی گھر سے واپس آتی ہے تو شوہر کے ساتھ اپنی بیٹی کو پاتی ہے ۔ جب بڑی بہن کی تلاش میں نکلا جاتا ہے تو ماں ہی اسے کوٹھے تک پہنچانے میں مرکزی ملزم ٹھہرائی جاتی ہے ۔ جب بھائی چند روپوں کی خاطر بچپن سے انگلی پکڑ کر چلنے والی بہنا کو نیلام کر دیتا ہے ۔ جب ماموں اور چچا جیسے رشتے گھر بیٹھے بٹھائے انمول رشتے سے کھلواڑ کر جاتے ہیں ۔ تو کہاں جائے یہ بنتِ حوا ۔ بل کہ اس بدلتے نئے فیشن میں تو یہ سوال جنم لیتا ہے کہ کہاں جائیں حوا و آدم ۔ کہاں جائیں وہ کھلتے پھول ۔
تو کیوں نہ ایسا کیا جائے کہ ہر ماں باپ ،بھائی بہن اور ہر رشتے دار و محلے دار اس نئے فیشن میں اپنا حصہ ابھی سے ڈالنا شروع کر دے۔ پھر یہ تلاش کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی کہ ثناء ،لائبہ ،عائشہ ، عاصمہ ،ایمان فاطمہ ، شارق ، روحیل ، عمران اور ان جیسے سینکڑوں معصوموں کے ساتھ کیا ہوا ۔ پھر ہم یہ کہتے پھریں گے اور بے شرموں یہ کیا ابھی تک بیٹی کو آنچل تلے چھپائے بیٹھے ہو ۔ کیا غضب ہے کہ کسی کا ہاتھ تک نہ لگا اس کو ۔ یہ کیا تم ابھی تک پرانی رسموں سے جڑے بیٹھے ہو ۔جدید دور ہے ۔کون پوچھتا ہے زینب کی عزت اور پاک دامنی کو۔وہ زمانہ جاہلیت کی باتیں تھیں میاں ۔ اب مسکراؤ ، قہقہے لگاؤ مبارکباد دو کہ قاتل مل چکا ہے ۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*