کتوں کا قتلِ عام ؟

ڈی بریفنگ /شمشاد مانگٹ
کچھ عرصہ پہلے عدالتوں میں انصاف کیلئے ایک اصطلاح استعمال ہوتی تھی کہ انصاف کرنا اتنا ہی مشکل کام ہے جتنا کہ بھوسے کے ڈھیر سے دانہ تلاش کرنا۔انصاف کرنے میں عدالتیں پہلے بہت محتاط ہوا کرتی تھیں لیکن اب جس طرح زمانہ تیز ہوا ہے انصاف کی رفتار بھی تیز ہوئی ہے لیکن انصاف کی تلاش کیلئے ماضی جیسے تقاضے پورے نہیں کئے جارہے۔اب عدالتوں کو اپنی اصطلاح بھی تبدیل کر دینی چاہئے اور دور جدید میں یہ اصطلاح رائج ہوسکتی ہے کہ انصاف کیلئے بھوسے سے دانہ تلاش کرنا آسان تھا لیکن بھس بھرے دماغوں سے انصاف کا دانہ تلاش کرنا بہت مشکل ہے۔
ہماری پولیس نے علامہ اقبالؒ کے کلام سے ویسے تو کوئی اثر نہیں لیا لیکن علامہ اقبالؒ کا یہ شعر پورے ملک کی پولیس نے ایسے اختیار کیا ہے جیسے پاکستانی فلموں نے بزنس کے نام پر بھارتی فلموں سے عریانیت کو اختیار کیا ہے۔علامہ اقبالؒ نے اپنے شعر میں کہا تھا کہ
’’جس کھیت سے دہقان کو میسر نہیں روزی
اُس کھیت کے ہر خوشۂ گندم کو جلا دو‘‘
انصاف کی فراہمی کے حوالے سے عدالتی اصطلاح اور پھر پولیس کی طرف سے ’’خوشہ گندم‘‘ کو جلانے کی لگاتار ملک گیر وارداتیں اس بات کا بیّن ثبوت ہیں کہ پولیس نے اقبال کے شعر کا غلط ترجمہ کرکے پولیس مقابلوں میں ’’خوشہ گندم ‘‘کو جلانا شروع کررکھا ہے۔
جج صاحبان کا نظریہ تھا کہ بھوسے کو آہستہ آہستہ الگ کرکے سچ کے موتی تلاش کرو تاکہ بھوسہ جانوروں کیلئے استعمال کیا جائے اور وہ زیادہ دودھ دیں اور انصاف کا ’’دانہ‘‘ تلاش کرکے اشرف المخلوقات کی دعائیں لی جائیں۔
لیکن پولیس کا باوا آدم ہی نرالہ ہے اس کی منطق عجیب ہے ۔ اس نے شہریوں کو اپنی کھیتی سمجھ لیا ہے اسی لئے جس شہری کی جیب سے انہیں ’’روزی‘‘ میسر آجائے تو اسے پولیس پورا پورا انصاف’’پروٹوکول‘‘ کے ساتھ پیش کرتی ہے وگرنہ ’’بھوسے‘‘ کو ہی آگ لگا دی جاتی ہے۔اس سے بھوسہ تو جلتا ہی ہے لیکن دانہ بھی جل کر خاکستر ہوجاتا ہے۔لاہور سے کراچی تک اگر پولیس پر نظر دوڑائی جائے تو بڑی بڑی توند والے پولیس والے اپنی چال ڈھال سے بتا رہے ہوتے ہیں کہ انکے پیٹ میں حرام کا دانہ اور دماغ میں بھوسہ بھرا ہوا ہے۔ہماری عدالتیں بے چاری اب مجبور ہیں کہ وہ جس بھوسے سے دانہ تلاش کیا کرتی تھیں وہ بھوسہ حکمرانوں اور پولیس نے اپنے دماغ میں محفوظ کرکے’’دانہ‘‘ پیٹ میں ڈال لیا ہے۔جج صاحبان یقینی طور پر انصاف کی تلاش میں حرام خوروں کا پیٹ پھاڑکر دانہ نکالنے کی صلاحیت نہیں رکھتے۔


ملک کے تازہ ترین حالات پر ایک سرسری نظر ڈالی جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ عدالتیں بے شمار واقعات میں نہ بھوسہ تلاش کرسکیں اور نہ ہی دانہ مل پایا۔ماڈل ایان علی ڈالر لیکر جاتے ہوئے پکڑی گئی لیکن ہماری عدالتیں بھوسے کو ٹٹولتی رہیں اور ایان علی اڑان بھرگئی۔ماضی میں حسین حقانی کا میموگیٹ سکینڈل بہت مشہور ہوا تھا اور ملک کی اعلیٰ ترین عدلیہ نے انصاف کے دانے کی تلاش کیلئے ’’سرچ لائٹوں ‘‘کا بھی اہتمام کیا لیکن ملزم جل دیکر اڑان بھر گیا اور عدالت بھوسے میں اٹی ہوئی نظر آئی۔
کراچی میں تقریباً450کے لگ بھگ شہریوں کو ’’خوشہ گندم‘‘ جان کر پولیس مقابلے میں بھسم کردینے والا ایس پی راؤ انوار بھی ’’پراسرار طاقت‘‘ کا مالک ہے۔کسی قوت نے اسے ایسی چادر میں چھپا رکھا ہے کہ سپریم کورٹ سمیت دیگر ادارے ’’خوردبینی‘‘ جائزے لے رہے ہیں کہ ملزم کس’’بھوسے‘‘ کے ڈھیر میں چھپا ہوا ہے۔یہ بات وثوق سے کہی جاسکتی ہے کہ جو ادارے ایان کے معاملے میں انصاف نہیں کرسکے وہ راؤانوار کو بھی انصاف کے کٹہرے میں نہیں لاسکیں گے۔
ہماری عدالتیں اور تحقیقاتی ایجنسیاں کئی بار بھوسے کے ڈھیر سے دانہ تلاش کرنے کی بجائے اپنا چہرہ گردآلود کر چکی ہیں۔سپریم کورٹ 1992ء سے مرحوم اصغرخان کیس میں تلاش کر رہی ہے کہ آئی ایس آئی سے پیسے لیکر مینڈیٹ چرانے والے کون تھے ؟لیکن عدالت عظمیٰ کی طرف سے ایف آئی اے کو دی جانے والی ہدایات کے بعد تفتیش کا عمل ہمیشہ کیلئے بند گلی میں داخل ہوگیا۔پنجاب میں ماورائے عدالت قتل کا نظریہ میاں شہبازشریف کے پہلے دور سے زندہ ہے۔اس دھندے میں کبھی عابد باکسر نے ’’کارہائے نمایاں‘‘ سرانجام دئیے اور کبھی ذوالفقار چیمہ جیسے افسروں نے اس ’’کھیل ‘‘کو دوام بخشا۔
انتظامی مشینری چونکہ مسلسل اپنے مخصوص ایجنڈے کے تحت شہریوں سے سلوک کر رہی ہے اس لئے انصاف کی فراہمی کا بوجھ اعلیٰ عدالتوں پر شفٹ ہوچکا ہے۔چند سال پہلے سپریم کورٹ میں زیر التواء مقدمات کی تعداد18 ہزار کے قریب تھی لیکن اب یہ تعداد 38 ہزار کو پہنچ چکی ہے۔
کہتے ہیں کہ پاکستان میں روپے کی قدر اور انصاف کی قدر ایک ساتھ کم ہوتی رہی ہے۔پاکستانی روپے کی قدر زیادہ تر لوگ ڈالر کے مقابلے میں دیکھتے ہیں اور انصاف کی قدر لوگ تھانہ کچہری کے دھکے کھا کر دیکھتے ہیں۔انصاف کی فراہمی کا نظریہ اب روز آخرت سے نہیں بلکہ ہر روز کی آمدن سے جڑا ہوا ہے۔انصاف کی فراہمی کا بنیادی مرکز تھانہ کلچر ہے اور ہر تھانہ ٹھیکے پر چل رہا ہے۔انصاف کی فراہمی کے گلے سڑے نظام کی ’’سڑاند‘‘ اب عدالتوں سے بھی اٹھ رہی ہے۔لیکن بھس دماغ حکمرانوں اور پولیس والوں کے پیٹ پھاڑ کر انصاف کا دانہ تلاش کرنے والا مسیحا دور دور تک نظر نہیں آرہا۔رواں ہفتے سپریم کورٹ نے سوسال پرانے زمین کے مقدمے کا فیصلہ سنا کر انصاف کے خواہشمندوں کی چوتھی نسل کو خوشی کا موقعہ فراہم کیا ہے۔ فاضل جج صاحبان اور وکلاء حضرات ہی بتا سکتے ہیں کہ یہ مقام’’ جشن‘‘ ہے یا مقام افسوس ہے۔ آخر انصاف کے قتلِ عام کو کون روکے گا؟دوسری طرف راولپنڈی میونسپل کارپوریشن نے کتوں کے قتلِ عام کا سلسلہ شروع کررکھا ہے۔انسان سے ہمیشہ محبت کرنے والے یہ وفادار جانور چُن چُن کر مارے جارہے ہیں جبکہ معصوم شہریوں کو نوچنے والے انسان نما درندے دندناتے پھر رہے ہیں۔عوام پوچھنے کا حق رکھتے ہیں کے عزتوں کے لٹیروں کا تحفظ کیوں اور کتوں کا قتلِ عام کیوں ؟۔
********



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*