سینیٹ انتخابات اور ہارس ٹریڈنگ

 عبدالوحید

الیکشن کمیشن نے سینیٹ کے انتخابات کا اعلان کردیاہے جو کہ 3مارچ کوہوں گے اس کے ساتھ ہی میڈیا میں ہارس ٹریڈنگ کوشور سننے میں آرہا ہے جوں جوں 3مارچ کی تاریخ قریب آتی جائے گی اس شورمیں اضافہ ہوتا جائے گا بعد از انتخابات جس سیاسی پارٹی نے اپنے متوقع نشستوں سے زیادہ امیدواروں کی کامیابی حاصل کرلی تو اس پر دھاندلی اور ہارس ٹریڈنگ کا الزام بھی عائد ہوگا جو کہ اس حوالہ سے جائز تصورکیا جائے گا کہ ان کے اس قدر ایم پی اے یاووٹ نہیں تھے تو انہوں نے کس طرح زیادہ کامیابی حاصل کرلی اس پر آئیں بائیں سننے کو تو ملے گی لیکن اطمینان بخش جواب دستیاب نہ ہوگا


دنیا کے دیگر پس ماندہ یا ترقی پذیر ممالک کی طرح پاکستان میں دھاندلی کے امکانات تو ہیں لیکن اگر پاکستان کے تمام انتخابات کا بغور جائزہ لیا جائے تو عام انتخابات یا بلدیاتی انتخابات میں اس کے امکانات کم ہوتے جارہے ہیں تاہم ووٹوں کی خرید و فروخت ایک ایسا مکروہ عمل ہے کہ اس پر ابھی تک خاطر خواہ توجہ نہیں دی گئی جس کی وجہ سے دولت مند انتخابات میں کامیابی حاصل کر پاتے ہیں بلدیاتی انتخابات ہوں یا عام انتخابات یہ چلن موجود ہوتا ہے اس کی شرح میں کمی پیشی ہوسکتی ہے جنوبی پنجاب میں ایک ضمنی انتخاب میں ووٹوں کی خرید و فروخت کس قدر ہوئی اس کی صرف ایک جھلک سے ہی اندازہ ہوسکتا ہے ووٹ کے استعمال سے قبل امیدوار ووٹر ز کوایک پرچی دیتے ہیں تا کہ پولنگ اسٹیشن پر اس کے ووٹ نمبر کی تلاش اور ووٹ ڈالنے میں پولنگ اسٹاف کو سہولت حاصل رہے عام طور پر ووٹر یہ پرچی اپنی پسند کی پارٹی یاامیدوارکے کیمپ سے حاصل کرتا ہے متذکرہ ضمنی انتخاب میں ارب پتی امیدوار کے کیمپ سے پرچی لینے والے کوایک ہزار روپے بھی دیاجاتا رہا ہے ا س جھلک سے اندازہ کیاجا سکتا ہے کہ اس امیدوارنے کتنا مال پانی خرچ کیاہوگا اور کہاں کہاں خرچ کیا ہوگا
بات ایوان بالا کے انتخابات اور ہارس ٹریڈنگ کی ہورہی تھی تو عرض ہے کہ ماضی میں سینیٹ انتخابات کے وقت سب سے زیادہ ہارس ٹریڈنگ کے شواہد ظاہری یا باطنی بلوچستان سے ملے جس کے امکانات اب بھی ہیں اس کے بعد خیبر پختونخوا کانمبر آتا ہے لیکن گذشتہ انتخابات میں تحریک انصاف نے اس پر توجہ دی جس کی وجہ سے اس کے ایم پی اے کروڑوں حاصل کرکے اپناووٹ فروخت نہ کر سکے اوریہاں کی ایک دولت مند گھرانہ جو اکثر و بیشتر کامیاب ہوجاتا تھا اس باران کو حسب منشاء کامیابی نصیب نہ ہوسکی اب جب کہ بلاول زرداری کاکہنا ہے کہ وہ ہاؤس آف شریف کی لڑائی کا فائدہ اٹھا کرسینیٹ میں کامیابی حاصل کرلیں گے دیکھناہوگا کہ وہ یہ کامیابی کس قیمت پر حاصل کرتے ہیں



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*