*تیرے خواب*

خواب، تَو اب خوابوں میں بھی دِکھلائیں خواب، *تیرے خواب*،
کُھلے آنکھ مِٹ جائیں مگر، مانِندِ عُمرِ گُلاب، *تیرے خواب*۔

عَجب اُلجھن ہے، تَشنگئ دِل کو جو، پِیتا ہُوں،
حواس پر چھائے، کُچھ نہ سُجھائے کمبخت شراب، *تیرے خواب*۔

دِن میں خُشک آنکھیں لیۓ پِھرنا، مَصلَحَت ہے ورنہ،
رات بھر، آنسوؤں سے لِکھواتے ہیں کِتاب، *تیرے خواب*۔

اَب تَو سرِ شام ہی سو جاتا ہُوں مَیں اکثر،
جاگتے رہنے سے، ہَو جائیں نہ نایاب، *تیرے خواب*۔

ہَو جائے گر، فرہاد و قَیس جیسا، مشہور یہ قِصّہ،
صفحہِ اَوّل پر لِکھے گا اِقْبَال، اِنتساب، *تیرے خواب*۔

*اِقبال اَحمد پَسوال*



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*