پارلیمان برائے فروخت

ڈی بریفنگ/شمشاد مانگٹ

کہتے ہیں کہ ایک شخص کے چار بیٹے تھے دو بیٹے محنتی اور ’’کمائو پوت‘‘ ہونے کی شہرت رکھتے تھے جبکہ دو بیٹے گائوں کے مستند ’’اڑیلوکٹے‘‘ شمار کئے جاتے تھے۔ جو دو بیٹے کام کرتے تھے ان کی محنت سے ہی گھر کا نظام چل رہا تھا البتہ دونوں آوارہ مزاج بیٹے نہ صرف بیٹھے بٹھائے کھاتے پیتے تھے بلکہ دونوں مل کر محنتی بھائیوں کے خلاف سازشوں کے جال بھی بنتے رہتے تھے۔ دونوں نے اپنی ہوشیاری کے ذریعے ہر بھینس کو بھی دو دو حصوں میں تقسیم اور ان کے ذاتی بنائے گئے اصولوں کے مطابق بھینس کا منہ والا حصہ محنتی بھائیوں کے حصے میں آتا تھا اور دودھ دینے والا حصہ دونوں ناکارہ بھائیوں کا ’’مقبوضہ‘‘ علاقہ شمار کیا جاتا تھا۔ محنتی بھائیوں نے اپنے والد کو ساتھ ملا کر تنگ آمد بجنگ آمد اصول کے تحت یہ طے کرلیا کہ اب وہ ہر بھینس کو دوحصوں میں تقسیم کرکے اپنا اپنا کام کیا کریں گے۔
منصوبے کے تحت بھینسوں کو دو ٹکڑوں میں تقسیم کرنے کیلئے ماہر قصائی کی خدمات حاصل کرلی گئیں اور جب منصوبے پر عملی جامہ پہنانے کا وقت آیا تو دونوں ’’اڑیلو کٹوں‘‘ کو احساس ہوگیا کہ بھینسیں دولخت ہوگئیں تو نہ رہے گی بھینس اور نہ ملے گا دودھ والی کیفیت ہوجائے گی۔ چنانچہ دونوں نے اپنے والد اور بھائیوں کو یقین دلایا کہ وہ بھی مل کر کھیتوں میں محنت مزدوری کریں گے اور گھر میں مزید خوشحالی کا باعث بنیں گے۔ یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ پاکستان کا نظام بھی چار بھائیوں کے سہارے پر چل رہا ہے اور یہ بھی اتفاق کی بات ہے کہ عدلیہ اور میڈیا محنتی بھائیوں کا کردار اداکررہے ہیں جبکہ مقننہ اور انتظامیہ کا کردار محض دودھ پینے والے مجنوں کا سا محسوس ہوتا ہے۔ گزشتہ کئی عشروں سے سیاستدان خود ہی عدالتوں میں سیاسی معاملات لے جاتے ہیں اور پھر خود ہی یہ طعنہ زنی شروع کردیتے ہیں کہ عدالتوں کو آئین میں دیئے گئے کردار سے آگے نہیں بڑھنا چاہیے۔ کل تک پیپلزپارٹی عدالتوں کو آئینی حدود و قیود کا سبق دیتی ہوئی نظر آتی تھی اور آج کل مسلم لیگ (ن) صبح‘ دوپہر ‘ شام عدالتوں کو لیکچر دے رہی ہے کہ سیاسی مقدمات کی سماعت کرنا عدلیہ کا کام نہیں ہے۔ ایک پارٹی کیلئے جو کل


حرام تھا وہی آج حلال ہے۔
ہمارے انتظامی ادارے جب لوگوں کو انصاف فراہم کرنے میں ناکام ہوگئے تو عدالتیں آرٹیکل 184/3 کے بے دریغ استعمال پر مجبور ہوگئیں۔ اگر معصوم زینب سے معصوم عاصمہ تک انتظامی ادارے متحرک ہوتے اور لوگوں کو یقین ہوتا کہ انتظامی مشینری اتنی سکت رکھتی ہے کہ ملزمان کو قانون کے شکنجے میں لے آئے گی تو عدالتوں کو اپنا وقت ضائع کرنے کی ضرورت ہی نہیں تھی۔ جمہوری نظام میں سب سے اہم ادارہ پارلیمنٹ تصورکیا جاتا ہے لیکن پارلیمنٹ تاحال اپنا کردار ادا کرنے میں بری طرح ناکام دکھائی دیتی ہے۔ آج کل ایوان بالا (سینیٹ) کے انتخابات کا جنون عروج پر ہے اور اسی تناسب سے صوبائی اسمبلی کے اراکین کی خرید و فروخت بھی عروج پر ہے۔ پارلیمانی نظام میں یہ تصور کیا جاتا ہے کہ ملک کے بہترین لوگ مختلف سیاسی جماعتوں کے پلیٹ فارم سے قومی اسمبلی تک پہنچیں گے لیکن ہماری بدقسمتی یہ رہی ہے کہ پیسے اور بدمعاشی کے زور پر قومی اسمبلی میں ایسے اراکین پہنچنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جنہیں نہ تو قانون سازی سے کوئی سروکار ہوتا ہے اور نہ ہی عوام کے مسائل سے کوئی دلچسپی ۔ الیکشن میں ایسے لوگ غنڈہ گردی اور پیسے کا استعمال بلا روک ٹوک کرتے ہیں۔ قومی اسمبلی کے چنائو کیلئے عام فارمولا یہ ہے کہ 5 کروڑ روپے خرچ کرکے پانچ سال میں 5 ارب روپے کمائو۔ اس طرح بزور طاقت ہمارے نظام کے دودھ دینے والے حصے پر مافیاز قابض ہوجاتے ہیں۔
اس پارلیمانی نظام کا ہی تصور ہے کہ عوام کے ذریعے معاشرے کے جو بہترین لوگ قومی اسمبلی اور صوبائی اسمبلیوں تک رسائی حاصل کریں گے وہ ایوان بالا کے لئے بہترین دماغوں کا انتخاب کریں گے تاکہ جمہوری نظام بہترین انداز میں عوامی حقوق کے تحفظ کو یقینی بنائے ۔ مگر افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ گزشتہ چند برس سے ایوان بالا بھی ’’برائے فروخت‘‘ نظر آنے لگا ہے۔ کچھ ’’کالا پیسہ‘‘ رکھنے والے لوگ براہ راست پارٹی قیادت کو پارٹی فنڈز کے نام پر ’’تول‘‘ کر اپنا ٹکٹ لے اڑتے ہیں اور کچھ ایم پی ایز اب براہ راست بھی ضمیر فروشی کے بازار میں اپنی دکان کھول کر بیٹھے ہوئے نظر آتے ہیں۔
بلوچستان سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایم پی ایز نے اپنے ووٹ کی قیمت 10 کروڑ روپے فی کس مانگی ہے اسی طرح بلوچستان میں 7 ایم پی ایز کے ووٹوں سے جو سینیٹر بنے گا اس پر 70 کروڑ روپے ’’اخراجات‘‘ آئیں گے۔ مسلم لیگ (ن) براہ راست الزام لگا رہی ہے کہ سابق صدر آصف علی زرداری بلوچستان میں ایم پی ایز خریدنے کامکروہ دھندہ کررہے ہیں اور یہ کام پیپلزپارٹی کے سیاسی (سین کونری) ڈاکٹر قیوم سومرو سرانجام دے رہے ہیں۔ ڈاکٹر قیوم کے بارے میں یہ بھی معلوم ہواہے کہ انہوں نے خیبر پختونخوا میں بھی اپنے ’’جوہر اورگوہر‘‘ ایم پی ایز کو دکھائے ہیں جس کے بعد پی ٹی آئی بھی چیخ رہی ہے کہ ہمارے اراکین کو خریدنے کی کوشش کی جارہی ہے۔
پہلے کہا جاتا تھا کہ محبت اور جنگ میں سب جائز ہے لیکن اب اس کہاوت کو تبدیل کرکے یہ کردیا گیا ہے کہ سیاست اور جنگ میں سب جائز ہے۔ تمام سیاسی پارٹیاں پیپلزپارٹی پر نظر رکھے ہوئے ہیں جبکہ پیپلزپارٹی تمام پارٹیوں کے ’’دکھی‘‘ اورلالچی اراکین پر نظر رکھے ہوئے ہے۔ خیبر سے کراچی تک ہر رکن صوبائی اسمبلی کا دکھ اور منشور الگ ہے۔ سیاسی جماعتوں کو چاہیے تھا کہ وہ اپنے اراکین کی حفاظت کرتیں اور عام انتخابات میں پیسے اور طاقت کے اصول کونظر انداز کرکے نظریاتی لوگوں کو ٹکٹ دیئے جاتے تو سینیٹ الیکشن میں اراکین کی ’’ہول سیل‘‘ نہ لگتی۔
پارلیمنٹ اور جمہوریت کو جو گالی اس وقت دی جارہی ہے اس کی بنیادی وجہ تمام سیاسی جماعتوں کا


’’نظریہء بے اصولی‘‘ پر عمل پیرا ہونا ہے۔ یہ کیسے ممکن ہے کہ داغدار کردار کے حامل لوگوں کو ٹکٹ دے کر صوبائی اسمبلیوں میں بھیجنے والے ان سے یہ توقع کریں کہ وہ سینیٹ میں ’’صاحب کردار‘‘ لوگوں کا چنائو کریں گے۔ سینیٹ کو ایوان بالا اس لئے کہا گیا کہ اس میں بہترین لوگوں کو بھیج کر ملکی پالیسیوں کو تحفظ دینے کا عہد کیا گیا تھالیکن موجودہ سینیٹ الیکشن بتا رہے ہیں کہ پارلیمان برائے فروخت ہے۔ فی الحال لوگ سینیٹ کی نشستیں خرید رہے ہیں۔ مئی میں انہی لوگوں کے تعلق دار اور رشتے دار قومی اسمبلی کے ٹکٹ خرید رہے ہوں گے۔ ہمارے ہاں جمہوری نظام میں جس طرح اراکین قومی اسمبلی اور سینیٹ کا انتخاب کیا جا رہا ہے اسے دیکھ کر یہ طے کرنا بہت مشکل کام ہے کہ ایسی پارلیمان پر لعنت ڈالی جائے یا نہ ڈالی جائے؟ عدلیہ اور میڈیا عوام کو سہولتوں کی فراہمی اور انصاف کی فراہمی میں سخت جدوجہد کرتا ہوا نظر آرہا ہے اور جن کا یہ کام ہے وہ پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں کی خرید و فروخت میں مصروف ہیں۔ مگر افسوس کہ پاکستان کے عوام دودھ پینے والے مجنوئوں اور کام کرنے والے بھائیوں میں تفریق کرنے کا شعور نہیں رکھتے ۔ دو کروڑ پارٹی فنڈ کے نام پر دینے والے ٹکٹ لے کر عوام سے اس کا قیمتی ووٹ بریانی کی ایک پلیٹ پر لے اڑیں گے۔یہی ہمارا قومی المیہ ہے۔ #/s#
٭٭٭٭٭



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*