*صحافت کا زوال*

#عثمان شاہ
*صحافت آج کل 4حصوں پر مشتمل ہے،پرفیشنل#صحافی شوقیہ, صحافی منشی صحافی,اور حادثاتی صحافی,پرفیشنل صحافی وہ طبقہ ہے جن کا اوڑنا بچھونا صحافت پر منحصر ہوتاہے,بطور صحافی ان کی شناخت اور صحا فت میں کردارقابل قدر ہوتا ہے,سرکاری اور عوامی حلقوں میں ان کو اہمیت دی جاتی ہے,دوسرا طبقہ ہے،شوقیہ صحافی,یہ وہ طبقہ ہے,جو تشہیر یا سرکاری اور عوامی حلقوں کی پزیرائی سے محروم اپنے شوق کی تسکین کے لئے صحافت کے شعبہ سے منسلک ہوتا ہے,تیسرا طبقہ ہے منشی صحافی کا یہ بھت مظلوم طبقہ ہے,یہ کسی مجبوری کے باعث صحافت سے وابستہ ہوتے ہیں,پرنٹ میڈیا میں ان کا کردار سینئیر صحافیوں اور دیگر صحافیوں کی خبر اداروں کو بھیجنا اور پھر ان اخبارات کو اکٹھا کرنا,ان کی خود ساختہ ذمہ داری بن جاتی ہے,جبکہ الیکٹرانک میڈیا میں ان کا کردار لوگو



اور کیمرہ پکڑ کر فوٹیج بنانا اور پھر سینئیر صحافیوں کے احکامات کے مطابق چینلز میں بھیج کر ان کی ریکارڈنگ کرنا ہے خبریں تو جن اخبارات اور چینلز میں چلتی ہیں تو اصل کریڈٹ تو متعلقہ نمائیندوں کو جاتا ہے جبکہ ,بلے بھئی بلے,بہت خوب,بہت اچھا کام چھا گئے ہو جیسے الفاظ سے ان کی بھی پزیرائی ہو جاتی ہے مگر اس مخصوص حلقہ سے باہر بطور صحافی کی شناخت سے یہ لوگ محروم رہتے ہیں چوتھا طبقہ ہے حادثاتی صحافیوں کایہ عمومی طور پر اپنے خلاف چلنے والی خبروں سے بجائے اپنی اصلاح کرنے کہ صحافت کا لبادہ اوڑھ کر دھڑلے سے اپنا کام جاری رکھتے ہیں مگر کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو اپنے خلاف ہونے والی زیادتی کے جواب میں صحافت کا شعبہ اختیار کرتے ہیں ان میں سے معاشی طور پر غیر مستحکم صحافی منشیانہ صحافت تک محدود رہتے ہیں جبکہ معاشی طور پر مستحکم سرمایہ دار بہت جلد صحافت میں نام بنا کر صحافت کے سابقہ ٹھیکیداروں کے آگے سیسہ پلائی دیوار بن کر سینئیر صحافیوں کی صف میں اپنی جگہ بنا لیتے ہیں جس سے سینئیر صحافیوں کی بادشاہت کو جھٹکا لگتا ہے،جس کے بعد بادشا ہت قائم کرنے کے لئے ملکی صوبائی اور ضلعی سطح پر صحافتی تنظیمیں یا ان کی ذیلی تنظیمیں معرض وجود میں آتی ہیں ان تنظیموں کی تشہیر کے لئے منشی صحافی حادثاتی صحافی اور شوقیہ صحافیوں کی بڑی تعداد آسانی سے میسر ہو جاتی ہے۔ان تمام مراحل میں زیادہ تر صحافت پس پشت چلی جاتی ہے ذاتی مفادات کو اہمیت اور ترجیح دی جاتی ہے جو کہ صحافت کے مقدس شعبہ کی تضحیک کی بنیادی وجہ بنتا ہے۔اگر سینئیر صحافیوں نے آپسی رنجشوں اور ذاتی مفادات کو بالائے طاق رکھتے ہوئے صحافت کے معیار ،صحافیوں کی فلاح و بہبود اور اتحاد کے لئے اجتماعی طور پرعملی اقدامات نہ کئے تو یاد رکھیں کہ وہ وقت نہیں دور جب سرکاری و پرائیویٹ اداروں میں صحافیوں کا داخلہ پسند و ناپسند کی بنیاد پر ہو گا عوامی اور سرکاری سطح پر صحافت کی قدر و اہمیت کی بجائے ذاتی تعلق کی بنیاد پرتقسیم پیدا کر دی جائے گی فیصلہ اب آپ کے ہاتھ میں ہے*



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*