قانونی کی بالادستی اور زبردستی

ڈی بریفنگ؍ شمشاد مانگٹ
پاکستان کی تمام سیاسی جماعتوں کے منشور میں شامل ہے کہ وہ ملک میں قانون کی بالادستی کے لئے جدوجہد کریں گے لیکن معاملہ اس کے بالکل الٹ ہے اور تمام سیاسی جماعتیں قانون کی بالادستی کی بجائے زیادہ زور قانون کو سرنگوں کرنے پر صرف کرتی ہوئی نظر آتی ہیں۔ پاکستان میں قانون ایک پہلوان کی طرح ہے جو کبھی بھی کسی زور آور وڈیرے یا سیاستدان سے جیت نہیں پایا۔ کئی سیاستدان تو قانون کی بالادستی کی بجائے قانون کے اتنے ’’بالے‘‘ نکال دیتے ہیں کہ قانون ادھ موا ہو کر ایک کونے میں جا گِرتا ہے۔
ماضی میں قانون نامی اسی پہلوان کی کشتی آصف علی زرداری کے ساتھ تھی۔ پہلے میاں نواز شریف اورپھر جنرل پرویز قانون کی جیت کے لئے اسے جزوقتی آرڈیننس کے ’’کشتے‘‘ دیکر طاقتور بنایا کرتے تھے لیکن آصف علی زرداری نے اس کُشتی کو ’’ملاکھڑے‘‘ کی شکل دیکر اتنا طویل کیا کہ قانون سمیت اس


کے سرپرست بھی ہار کر بیٹھ گئے ۔ آصف علی زرداری نے اس قانون کو زور داردھوبی پٹڑا دے کر یہ مقابلہ جیت لیا اور تمام عدالتوں سے بری ہو گئے۔
اب قانون کی بالادستی کی علمبردار ادارے ایک اور دنگل کی تیاری کر رہے ہیں اور اس بار ایک دنگل سندھ میں اور ایک پنجاب میں ہوتا نظر آ رہا ہے۔ قانون کی بالادستی کی خواہش رکھنے والوں نے پہلے عزیر بلوچ جیسے قانون شکن کو حراست میں لیا تھا اور اب راؤ انوار کی تلاش جاری ہے تاکہ قانون شکنی کی تمام وارداتیں اگلوا کر قانون کی بالادستی کا نعرہ بلند کیا جا سکے۔ البتہ ایسی خبریں بھی آ رہی ہیں کہ راؤ انوار پورے ملک کے قانون کی آنکھوں میں مرچیں ڈال کر عدالتوں کو دھوکہ دیکر ایران فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ ان اطلاعات نے قانون کی بالادستی قائم کرنے کے منصوبے کو ایک بار پھر خاک میں ملا دیا ہے۔ سندھ کی طرح پنجاب میں بھی ماورائے عدالت قتل کیس کھلنا شروع ہو گئے ہیں۔ انٹرپول کے ذریعے سابق ایس ایچ او عابد باکسر کی گرفتاری نے خادم اعلیٰ کے لئے بھی خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
عابد باکسر ماورائے عدالت معصوم لوگوں کو مارنے سے اتنے زیادہ مشہور نہیں ہوا تھا جتنی زیادہ شہرت اسے مشہور اداکارہ نرگس پر ’’پلسیانہ تشدد‘‘ سے ملی تھی۔ عابد باکسر نے اداکارہ نرگس پر تشدد کے ساتھ ساتھ اسکی ٹنڈ بھی کر دی تھی۔ عابد باکسر کے اس مکروہ فعل کو پورے ملک میں ناپسند کیا گیا تھا۔
بہرحال عابد باکسر نے اپنی سروس میں ہمیشہ قانون کی بالادستی کی بجائے قانون کی زبردستی نظریئے پر یقین رکھا۔ اس نظریئے پر عملدرآمد کے لئے وہ اس وقت کے صوبائی حکمرانوں کے کہنے پر سب کچھ کرتے رہے بالکل اسی طرح جس طرح راؤ انوار نے کراچی میں خون کی ہولی کو اپنی خون کی پیاس میں بدل لیا تھا۔ عابد باکسر کی گرفتاری اور راؤ انوار کی مسلسل روپوشی پتہ دے رہی ہے کہ کوئی تو ہے جو


پیچھے بیٹھ کر ڈوریاں ہلا رہا ہے۔
قانون کی بالادستی کے لئے ملک کی اعلیٰ ترین عدالتیں اور نیب بھی میدان میں آ چکے ہیں۔ سپریم کورٹ کی طرح چیئر مین نیب بھی واضح کر چکے ہیں کہ قانون سے چشم پوشی برداشت نہیں کی جائے گی جبکہ ان کے مدِ مقابل میاں نواز شریف اور محترمہ مریم نواز اپنے پارٹی منشور سے ہٹ کر قانون کی بالادستی کی بجائے قانون کو پاؤں تلے روندتے ہوئے پھر رہے ہیں۔ اگرچہ آصف علی زرداری قانون کی بالادستی کے علمبرداروں کو طاقت کا کوئی سیرپ فراہم نہیں کر رہے لیکن میاں نواز شریف کی قانون کے علمبرداروں سے لڑائی کا مزہ لے رہے ہیں۔ بغور جائزہ لیا جائے تو ہم ایک منافقانہ طرزِ حکومت اور ایک منافقانہ سوچ کے نیچے زندگی گزار رہے ہیں کیونکہ تمام قومی اداروں سمیت تمام رہنما قانون کی بالادستی کا ذکر صرف زبان پر لاتے ہیں جبکہ قانون کی زبردستی کو سپورٹ کرتے ہیں۔
گزشتہ روز اسے آئی جی آپریشن لاہور کے سٹاف کی طرف سے ایک پریس ریلیز جاری کر کے قانون کی بالادستی قائم ہونے کا ازخود اعلان کر دیا گیا۔ اس پریس ریلیز میں کہا گیا تھا کہ لاہور پولیس نے درجنوں قانون شکنوں کو گرفتار کر کے قانون کی بالادستی قائم کر دی۔ مزید تفصیلات میں بتایا گیا کہ لاہور پولیس نے 81مقدمات میں 84پتنگ بازوں کو پکڑ لیا اور ملزمان سے2000سے زائد پتنگیں ، 500سے زائد چرخیاں اور 200سے زائد ڈور کے پنّے برآمد کر لئے گئے۔ پولیس کی طرف سے قانون کی بالادستی کا راج زیادہ دیر تک قائم رکھنے کے لئے والدین سے بھی اپیل کر ڈالی کہ وہ بچوں کو پتنگ بازی سے دور رکھیں۔
قانون کی بالادستی کے ساتھ اس سے بڑا مذاق کوئی نہیں ہو سکتا کیونکہ لاہور شہر جہاں روزانہ کی بنیاد پر100سے زائد چوری اور ڈکیتی کی وارداتیں معمول ہوں اور درجنوں گاڑیاں چوری ہوتی ہوں وہاں کی پولیس آسان ٹارگٹ 84پتنگ باز گرفتار کر کے قانون کی بالادستی کا نقارہ بجانا شروع کر دے تو یہ باعث شرم ہے۔
پورے ملک میں اتنا زور قانون کی بالادستی پر پولیس نہیں لگاتی جتنا کہ قانون کی زبردستی پر لگایا جاتا ہے۔ وفاقی دارالحکومت سے لیکر ملک کے کونے کونے میں موجود تمام پولیس اسٹیشن کسی بھی شہری کو فوری اور سستا انصاف فراہم کرنے کی بجائے اس سے ’’قانونی زبردستی‘‘ کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر مقدمہ کے اندراج کے لئے چائے پانی یا پھر مقدمہ کے اندراج کو روکنے کے لئے زبردستی جیب خرچ وغیرہ وصول کرنا قانونی زبردستی میں شامل ہے اور اگر کوئی شہری معمولی پولیس اہلکار سے لیکر کسی بڑے عہدیدار سے اپنے حقوق بارے اور حقِ انصاف پر بات کرے تو اس کے خلاف قانون قابلِ دست اندازی جرم کے تحت مقدمہ درج کرنے کا حق بھی رکھتا ہے۔ کوئی مانے یا نہ مانے لیکن حقیقت یہی ہے کہ قانون کی بالادستی کا علمبردار ہر ادارہ ’’قانونی زبردستی‘‘ پر یقین کامل رکھتا ہے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*