کوزہ گری

تمہاری کوزہ گری کو آنا نہیں پڑے گا
میں بن چکا ہوں مجھے بنانا نہیں پڑے گا
ترا تعارف تو خیر سب لوگ جانتے ہیں
مرا تعارف تمہیں کرانا نہیں پڑے گا
بہت ہے آسان بھول جانے کا عذر تم کو
مرا کوئی شعر بھی سنانا نہیں پڑے گا
میں اپنے الفاظ کو فصاحت سکھا رہا ہوں
سو دوست اب بار بار جانا نہیں پڑے گا
نجانے کب لوگ سمجھیں گے میری خامشی کو
نجانے کب مجھ کو مسکرانا نہیں پڑے گا
مری پذیرائی تم غزالوں کا بس نہیں ہے
میں وہ غزل ہوں کہ جس کو گانا نہیں پڑے گا
 ہم اپنی تنویر خود بنیں گے ہماری خاطر
تمہیں چراغوں کو بھی جلانا نہیں پڑے گا
یاسر عباس فراز



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*