کیا کریں

تُجھ سے بِچھڑنے کا اَب، ملال کیا کریں،
عذاب ماضی کا، شامِلِ حال کیا کریں۔

مُنصِف کریں جَب، غیروں کی طرف داری،
ایسے میں پِھر کوئی، سوال کیا کریں۔

لَمحُوں میں کی جب، ترکِ مُحَبّت اُس نے،
شُمار خُوشیوں کے، ماہ و سال کیا کریں۔

دُشمن ہی جب، چُھپ کر وار کرنے لگیں،
سَجا کر سِینے پہ پِھر، ڈھال کیا کریں۔

لفظُوں میں رکھ دِیا ہے، دردِ دِل اپنا،
مُدعا اَب رُوبَرُوئے یار، اِقْبَالْ کیا کریں۔

*اِقبَالْ اَحْمَدْ پَسْوَالْ*



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*