*ضرورت*

امین اڈیرائی

آج سخن آباد کے پریس کلب میں جانو جوشپوری کے ساتھ کسی  تنظیم کی جانب سے شام منائی جا رہی تھی. جانو جوشپوری کا ادب میں کوئی خاص کام نہیں تھا کچھ سال پہلے اس کی ایک شاعری کی کتاب شایع ہوئی تھی جس میں بھی اوزان کے کافی مسائل تھے البتہ اس کی پی آر اچھی تھی. میں پریس کلب پہنچا تو پروگرام ابھی شروع نہیں ہوا تھا میں آخری لائین میں ایک کرسی پر بیٹھ گیا اور انتظامیہ کے لوگوں دیکھنے لگا جن کے سینوں پر مختلف بیج لگے ہوئے تھے میرے لیے تقریباََ نئے لوگ تھے.میں نے مجمع میں جان پہچان کے لوگ تلاش کرنے کے لیے نظر دوڑائی, دو چار لائینیں آگے ایک کونے میں بابو بالم پوری بیٹھے ہوئے تھے ان کی کئی کتابیں شایع ہوچکی ہیں بہت اچھا لکھنے والوں میں سے ہیں لیکن ان کے ساتھ کبھی کوئی شام نہیں منائی گئی, بہرحال اپنی اپنی قسمت کی بات ہے پروگرام شروع ہوا تو اچانک میں نے نعیم آدرشی کو دیکھا اسے بھی ایک بیج لگا ہوا تھا وہ مجھے جانتا تھا اس نے بھی مجھے دیکھ لیا اور سیدھا میری طرف آگیا اس وقت وہاں کافی کرسیاں خالی تھیں گلے ملتے ہوئے میں نے پوچھا,
“جانو جوشپوری نے ادب میں ایسا کونسا کام کیا ہے کہ اس کے ساتھ یہ شام منائی جارہی ہے؟”
نعیم آدرشی نے ہلکا سا قہقہہ لگایا اور میرے کان میں آہستہ سے کہا
“اگر اس نے کچھ کیا ہوتا تو ہمیں یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت تھی…!!”



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*