نادھندہ عدالتیں

ڈی بریفنگ/شمشاد مانگٹ

ہمارا مذہب اسلام ہمیں کہتا ہے کہ کسی کی زمین پر قبضہ کرکے بنائی گئی مسجد جائز نہیں ہے اور ایسی مسجد میں پڑھی گئی نماز بھی درست نہیں ہوسکتی۔ نماز ایسا عمل اور عبادت ہے جو خالصتاً اللہ تعالیٰ کیلئے ہے اور ہمارا رب ہمیں کہتا ہے کہ حقوق اللہ کی معافی تو ہوسکتی ہے لیکن حقوق العباد کی معافی مدعی کی رضا سے مشروط ہے۔ اس دینی حوالے کا مقصد یہ ہے کہ وفاقی دارالحکومت جو کہ ایک ماڈل شہر بھی ہے اس میں قائم ماتحت عدالتیں اور ان میں جاری انصاف کا عمل ایسی صورتحال میں کیا حیثیت رکھتا ہے جبکہ یہ تمام عدالتیں نجی پلازوں کے دفاتر اور دکانوں میں قائم کی گئی ہوں اور اس پر طرّہ یہ کہ ان دفاتر اور دکانوں کے کرایوں کی ادائیگی مسلسل نہ کی جارہی ہو۔
ویسے تو عوام کی اکثریت اس سوچ کی حامل ہے کہ ہماری عدالتیں حرام اور حلال کو ایک جیسا ہی اب سمجھنے لگی ہیں۔ لیکن اسلامی نظریاتی کونسل اور ہمارے علماء کرام کو اس حساس ایشو پر اپنی رائے کا اظہار ضرور کرنا چاہیے کہ نادھندہ عدالتوں سے جاری ہونے والے حکم دینی اور اخلاقی لحاظ سے کیا حیثیت رکھتے ہیں؟۔ سب سے قابل غور اور دلچسپ بات یہ ہے کہ اسلام آباد کا نقشہ بنانے والوں نے عدالتوں کیلئے جگہ مخصوص ہی نہیں کی اور نہ ہی وکلاء کیلئے چیمبرز ماسٹر پلان میں رکھے گئے۔اسلام آباد میں اس وقت 80 مقامی عدالتیں کام کررہی ہیں اور یہ تمام عدالتیں شہر کے وسط میں موجود ایف ایٹ مرکز میں بنائی گئی ہیں۔ ان عدالتوں کو ’’ڈنگ ٹپائو‘‘ ذہن کے عین مطابق پرائیویٹ پلازوں کو کرائے پر لے کر بنایا گیا تھا۔
ابتدائی طور پر ضلعی انتظامیہ کے دفاتر بھی انہی پلازوں میں موجود تھے جو کہ اب جی الیون میں شفٹ ہوچکے ہیں۔ چاروں طرف بنے ہوئے پلازوں کے اندر خالی جگہ پر وکلاء صاحبان کو چیمبرز بنانے کی اجازت دی گئی تھی۔ لیکن وقت گزرنے کے ساتھ عدالتیں بھی بڑھتی گئیں اور وکیل بھی ’’پھیلتے‘‘ چلے گئے۔ اور اب صورت حال یہ ہے کہ وکلاء حضرات ایف ایٹ فٹ بال گرائونڈ کے تقریباً 70 فیصد حصے پر اپنی فتح کے ’’جھنڈے‘‘ گاڑھ چکے ہیں۔


وکلاء کو یہ ’’مورچہ‘‘ فتح کرنے میں اس لئے آسانی رہی کہ اس فٹ بال گرائونڈ کا ’’گارڈین‘‘ سی ڈی اے جیسا کرپٹ ادارہ تھا۔ چنانچہ اپنی روایتی سستی اور ’’حرام خوری‘‘ کے باعث سی ڈی اے نے فٹ بال گرائونڈ پر ’’قبضہ بالرضا‘‘ قبول کرلیا۔ چونکہ عدالتوں کیلئے سرکاری جگہ کا تعین اور وکلاء کیلئے چیمبرز کی زمین کا متبادل انتظام کرنا اسی سی ڈی اے کی ذمہ داری تھی اور اس وقت بھی ہے اس لئے اپنی نااہلی کو خاموشی میں بدل کر یہ قبضہ ہونے دیا گیا۔
حال ہی میں اسلام آباد ڈسٹرکٹ بار ایسوسی ایشن کے صدر منتخب ہونے والے ریاست علی آزاد ایڈووکیٹ کیلئے اس وقت سب سے بڑا چیلنج یہ ہے کہ وکلاء برادری پر لگائے گئے اس لیبل کو فوری طو رپر اتار دیں جس کے مطابق وکلاء کو بچوں کے گرائونڈ کا قابض دکھایا جارہا ہے۔ ان عدالتوں کے کرائے ضلعی انتظامیہ نے ادا کرنا تھے لیکن تمام ضلعی افسران نے نجی پلازوں کے مالکان کو مسلسل نظر انداز کیا اور انہیں کرائے کی مدمیں ادائیگیاں نہیں کی گئیں۔ کیونکہ انہیں یقین تھا کہ ان پلازوں کے مالکان منہ زور ضلعی انتظامیہ کے افسران کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔
عدم ادائیگیوں پر مالکان نے انہی عدالتوں سے رجوع کیا تو فاضل جج صاحبان نے مالکان کے حق میں بے دخلیوں کے احکامات بھی جاری کئے لیکن پھر ان پر حکم امتناعی بھی جاری ہوگئے۔ اسلام آباد جیسے ماڈل شہر میں عدالتیں اور وکلاء کے چیمبرز پورے معاشرے کا منہ چڑا رہے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق ایف ایٹ مرکز میں واقع ان نجی پلازوں کی قیمت اس وقت کم از کم 30 سے 40 ارب روپے بتائی جارہی ہے لیکن ان پلازوں پر ہمارا عدالتی نظام قابض ہے۔ یہ وہ قابل احترام جگہ ہے جہاں ہمارے اہم ترین سیاسی رہنمائ‘ بیورو کریٹس اور سفارتکار بھی آتے جاتے ہیں لیکن ڈربہ نما کمروں میں بیٹھے ہوئے جج اس کرپٹ نظام کا منہ بولتا ثبوت ہیں جس سے 22 کروڑ عوام انصاف کی امید لگائے ہوئے ہیں۔ ان جج صاحبان کے پاس ریکارڈ کو محفوظ رکھنے کیلئے کمرے نہیں تھے تو انہوں نے انہی پلازوں کی چھتوں پر غیر قانونی کمرے تعمیر کرکے ان میں ریکارڈ محفوظ کر رکھا ہے۔ پاکستان کے سب سے خوبصورت شہر کے بدصورت عدالتی کمروں کو دیکھ کر شہری ہی افسردہ نہیں ہوتے بلکہ جب بھی بارش ہوتی ہے یہ تمام کمرے اجتماعی ’’آہ زاری‘‘ کرکے آنسو بہاتے ہوئے نظر آتے ہیں۔


زلزلوں نے ان کمروں کی ’’کمر‘‘ توڑ دی ہے اور اکثر پلازوں کی دراڑیں کسی بڑے سانحے کی خبر دے رہی ہیں اور ڈیزاسٹر منیجمنٹ خبردار کر چکا ہے کہ یہ تمام پلازے اپنی ’’طبی‘‘ عمر پوری کر چکے ہیں اور کسی بھی وقت کئی قیمتی جانوں کے ضیاع کا باعث بن سکتے ہیں۔ ڈیزاسٹر منیجمنٹ کی اس وارننگ کے بعد کئی خواتین ججوں نے ان پلازوں کی دکانوں میں بیٹھ کر انصاف کی ’’دکانداری ‘‘ کے فرائض سرانجام دینے سے انکار کردیا تھا۔
’’نادھندہ‘‘ عدالتوں میں پیشی کیلئے لائے گئے ملزمان کیلئے جانوروں سے بھی بدتر ایک کمرہ بخشی خانہ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے اس بخشی خانہ کے باہر پولیس اہلکاروں نے ’’بخشیش‘‘ کیلئے اپنی الگ سے ’’دکانداری‘‘ چمکائی ہوئی ہے۔ ملزمان سے ملاقات اور انہیں آزاد معاشرے کی بہترین خوراک فراہم کرنے کے الگ الگ ’’پولیس نرخ‘‘ مقرر کئے گئے ہیں۔ میرے دوسرے اور بھائی نو منتخب صدر بار ایسوسی ایشن اسلام آباد ریاست علی آزاد کا موقف ہے کہ یہ بات بالکل درست ہے کہ عدالتیں بھی غیر قانونی بیٹھی ہوئی ہیں اور چیمبرز بھی قانونی حیثیت نہیں رکھتے لیکن ہم مجبوری کی حالت میں عارضی طور پر بیٹھے ہوئے ہیں جونہی جوڈیشل کمپلیکس ہمیں مل جائے گا تو ہم قبضہ چھوڑ کر چلے جائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ جس رفتار سے وکلاء کی تعداد بڑھ رہی ہے اگر حکومت نے مناسب اقدام نہ کیا تو سڑکوں پر چیمبرز بنانے پر مجبور ہوجائیں گے۔
محترم چیف جسٹس جناب میاں ثاقب نثار اور چیئرمین نیب جسٹس (ر) جاوید اقبال کو اس معاملے کا از خود نوٹس لے کر تحقیقات کروانی چاہئیں کہ پاکستان کے سب سے اہم شہر کے عدالتی نظام کو نادھندہ کرنے والے کون لوگ ہیں ؟ اربوں روپے مالیت کے پلازوں پر عدالتوں کے نام پر قبضے کرکے شہریوں کی کیوں حق تلفی کی گئی؟ وکلاء حضرات فٹ بال گرائونڈ کے بعد اب سڑکوں پر چیمبرز بنانے کیلئے کیوں سوچ رہے ہیں؟ چیف جسٹس آف پاکستان اور چیئرمین نیب نے اگر تحقیقات کا حکم دے دیا تو مجھے یقین ہے کہ سی ڈی اے اور ضلعی انتظامیہ کی صفوں سے کالی بھیڑوں کے ’’ریوڑ‘‘ ضرور گرفت میں آئیں گے۔ دوسری طرف وفاقی شرعی عدالت اور اسلامی نظریاتی کونسل اس بات کا فیصلہ ضرور کریں کہ نادھندہ عدالتوں کے فیصلے حلال ہیں یا حرام ہیں؟ ۔



٭٭٭٭٭

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*