،پی ایس ایل 2018

کالم نگار  :طیبہ عنصر مغل

وہی جس میں  تماشائی  بھی سارے ہار جاتے ہیں
ہمارے شہر میں پھر سے وہ دنگل ہونے والا ہے.
تو صاحب! پھر سے کمر کس لیں ،پی ایس ایل بس شروع ہوا ہی چاہتا ہے ہمارے خطہ پوٹھوہار کی ایک خاص بات کہ یہاں ‫مرغا لڑائی کا کھیل بھی بہت زور و شور سے منعقد ہوتا ہے گستاخی معاف پی ایس ایل  کے نام سے ہمیں اپنے دیہی علاقوں کی یاد آجاتی ہے
سنا ہے کہ پی ایس  ایل کی ضرورت اس لیے پڑی تاکہ نئے اور اچھے کھلاڑی تیار کیے جائیں  ان کی کار کردگی  کو جانچا اور بہتر بنایا جائے اب یہ واضح نہیں ہے کہ کس کی کارکردگی  اپنی قومی ٹیم کی یا بیروں ملک سے امپورٹ شدہ مرغوں اوہ سوری کھلاڑیوں کی کارکردگی  بہتر بنائی جائے گی یہ دنگل جو ہر سال پاکستان کو پتہ نہیں کتنے ملک بنا دیتا ہے اور لوگ اپنے اپنے  شہر میں ڈھیر اینٹ کی مسجد بنا کر لڑتے بھڑتے نظر آتے ہیں اور تو اور جو ذرا لبرل ہیں ان کے تو گھروں میں ہی لڑائی ہوجاتی ہے  بھئ میں اسلام آباد  کا ہوں اپنے شہر کی ٹیم کے ہی ساتھ ہو ں ،ماں بولے گی نہ بھیا میرا میکا تو کراچی میں ہے میں نے تو کراچی کے لیے مصلہ بچھا کر دعا کرنی ہے


اب والد خان ہیں تو بس سمجھ جائیے وہ تو پھر گھر میں دھرنا دے دیں گے گھر بھر کی کرپشن ان ہی دنوں کھول بیٹھیں گے غالب امکان ہے لاہور سے لائی بہو کے جہیز پہ دعویٰ  بھی دائر کر دیں
بات جب کرکٹ کی ہی ہو رہی ہے تو چند باتیں سکڑتی ہوئی کرکٹ پہ بھی نظر ڈالتے ہیں  ،بھئ کرکٹ نہ ہوئی گھٹیا سا سوتی کپڑا ہو گئ ہر دھلائی پہ جو سکڑتا چلا جاتا ہے ،ابھی ٹی ٹوئنٹی کو ہضم کرنے کی کوشش میں  مصروف تھے کہ ڈکار سے پہلے ہی ٹی ٹین کی مار پڑگئ ،الله معاف کرے جس رفتار سے کرکٹ سکڑ رہا ہے کسی دن یہ سننے کو ملے ٹی ون کرکٹ ،لوجی قصہ ختم ،ایک بال ایک ٹیم اور دوسری بال دوسری ٹیم بس اسی میں جو جیتا وہ سکندر  جو ہارا وہ قلندر ،!بندر غیر مہزب لفظ ہے کچھ فیس بکی دانشور  حضرات جو کالم نگاروں کو سکھانے کے بہانے لوٹنے بیٹھے ہیں  ان کو زبان و بیان میں شائستگی کا گلہ ہو جائے گا ،خود بے چارے اس طرح ماسٹر بن کر اپنے سے سینیرز اور خواتین تک کی ہتک اپنا پیدائشی حق سمجھتے ہیں سب باتیں ایک طرف لیکن بہر حال  اسلام آباد  یونا ئیٹڈ  اور پشاور زلمی میں سے کون اپنی جیت کے ٹائٹل کا دفاع کرتا ہے یہ تو وقت بتائے گا لیکن لاہور قلندر نے امکانی طور پر اس دفعہ  ٹیم میں  زیادہ  بہتر کھلاڑیوں  کا انتخاب کرنے کی اچھی کوشش کی ہے
کچھ نظارہ پچھلے دنوں ایک نجی چینل  کے تفریحی پروگرام  میں  کراچی کی ٹیم کے  لآڈلوں کا بھی دیکھنے کو ملا ،کیا،خوب پُش اپ لگائے کہ حیرانگی سے ہم نے دل پہ ہاتھ رکھ لیا کہ کوئی بھی پچاس پُش اپ نہ لگا سکا لیکن شاباش ہے ہمارے مشہور گائیک شہزاد رائے کو 72 پُش اپ لگا کر ثابت کر ڈالا کہ اب کھلاڑی سے زیادہ بہتر ہے میڈیا سے ٹیم بنا لی جائے  زیادہ حیران کن تو کپتان کے وہ پراٹھے تھے جو صبح سویرے ایک چینل پہ انھوں نے کمال مہارت سے بنائے عماد کو یہی کام کرنے کا مشورہ  دینا تو بنتا ہی ہے


میڈیا چینلز سے ایک گلہ تو کرنا ہمارا حق ہے کہ جب ساری ٹیموں نے پاکستان کے لیے ہی کھیلنا ہے تو پروموشن صرف کراچی کے لیے ہی کیوں ؟
ساری ٹیمیں  پاکستان کی ہیں چینلز کے کراچی ہونے کا مطلب ہر گز،نہیں ہے کہ کراچی ہی صرف پاکستان ہے اس طرف توجہ کی ضرورت ہے ورنہ بہت کچھ باقی شہروں میں ہے اس سے کراچی بھی استفادہ کرتا ہے پھر یہ ناانصافی کیوں ؟
لالا جی تو پروگرام میں اپنی شہرت کا دفاع کرتے ہی نظر آئے دوسروں کی پُش اپ دیکھتے رہے اور خود دعوت ملنے پہ بھی پُش اپ لگانے پہ تیار نہیں ہوئے ،ایسا کیوں کیا وہ جانتے ہوں گے ویسے جانتے تو ہم بھی ہیں یہ الگ بات ہے زبان بندی شرط ٹھہری
لیکن کار کردگی کیسی ہوگی اس کے لیے کچھ کہا نہیں جاسکتا  بھیا ہم تو پی ایس ایل کو دیکھتے ہوئے دماغ کو سمجھاتے رہتے ہیں  جگہ پہ رہ گھر کے بچے کھیل رہے ہیں  جیسے گھر کے بچے لڑتے ہیں  اور سب کی مائیں آستین چڑھا لیتی ہیں  ایسا نہیں کرنا محترمہ  ،بچے پھر سے گلے لگ رہے ہوں گے تم مت پورے ملک سے لڑائی کر لینا سوشل میڈیا پہ ،سب کو شاباش دو ،دل دکھانے کی بات کیوں کرتے ہو ،سب اپنے ہیں جو جیتے وہی اپنا ،عقلمندی بھی اسی میں ہے خواہ مخواہ بلڈپریشر بڑھانے کا فائدہ ؟
لیکن اچھے کھلاڑی نکالنے کا چکر کبھی یہ لیگ کبھی وہ لیگ سارے سال میں  اتنے میچز کروانے کے بعد کھلاڑیوں کو تھکانے کے بعد ان کی فٹنس چلی جاتی ہے تیل لینے، جب باری آتی ہے ورلڈ کپ کی ،اصلی والے ورلڈکپ کی، ٹی ٹوئنٹی کی نہیں  ‫-
پھر لگاؤ الزام سٹے کے یا چٹے بٹے کے لیکن جب سارا سال کھلاڑیوں سے اتنے میچ کھیلواؤ گے حتیٰ کہ انڈیا کو بھی کھلاڑی دے دو گے جنہوں نے ہماری سرزمین پہ کھیلنے سے ہی انکار کردیا  ان کو اپنے کھلاڑی دینے کی سمجھ نہیں آتی ہم آخر کرنا کیا چاہتے  کیا ثابت ہوتا ہے اس سے ،ملک دشمن ،لڑاکا پڑوسی  کو ہم خوش کرنے کے چکر میں کیوں ہیں ؟
کیا اس بات کی منطق کسی کو معلوم ہے ،ہم تو ویسے چلتے چلتے بتا دیں کہ ہماری ہمدردیوں کا مرکز تو اسلام آباد یونائیٹڈ ہی ہے لیکن فیصلہ تو بہرحال وقت ہی پہ ہوگا تو پاکستان زندہ باد ،



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*