زیرِ لب

عینی زا سید
ادھورے شعر مجھ سے پوچھتے ہیں
لکھو گی کب ہمیں عینی

ادھورا چھوڑ کر ہم کو
لکھو گی کیا نئے قصے؟؟

مگر ہم جڑ میں بیٹھے ہیں
تمہاری شاعری کا خون پیتے ہیں
تمہیں دیتے ہیں آوازیں
لکھو ہم کو
کہ ہم بھی زندگی پائیں
کسی پنّے پہ سج جائیں

ملے جو داد ہم کو بھی
تمہیں تکلیف ہوگی کیا؟؟
بتاؤں کس طرح ان کو
بہت مجبور ہوں میں بھی

مِرے شعروں نے مجھ کو کردیا تنہا
اداسی دان کی مجھ کو

خوشی کے گیت لکھنے کو
میرے احباب کہتے ہیں

اداسی ڈھانپ لیتی ہے
مگر لفظوں کی شادابی
ادھورا چھوڑ دیتی ہوں
بہت سے شعر نظمیں میں

بتاؤں کس طرح ان کو
اداسی روگ ہے میرا
میرے لفظوں میں رہتی ہے

انہیں میں کیسے سمجھاؤں
ادھورا چھوڑ کر ان کو
مکمل میں نہیں لیکن

اداسی روک لیتی ہوں



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*