مُسکان رکھتا ھُوں، 

غَم دِل میں لیکن، لَب پر مُسکان رکھتا ھُوں،
مَیں آتے جاتے سب کا، مَان رکھتا ھُوں۔

سادگی کا یہ عالَم، کہ اُن کی جفاؤں پر مَیں،
خاموش رھتا ھُوں لیکن، زُبان رکھتا ھُوں۔

آتے ھیں لَوگ، رھتے ہیں، چلے جاتے ھیں،
دِل نہیں شاید، کِرائے کا مکان رکھتا ھُوں۔

حَد سے بڑھ کر کرے، جب کوئی خواھِش،
دیر تک پِھر دِل کو، پشیمان رکھتا ھُوں۔

جانے کِس مَوڑ پر، رُوٹھ جاۓ زِندگی اِقْبَالْ،
مَیں ذہن میں ھمیشہ، یہ دھیان رکھتا ھُوں۔

*اِقبَالْ اَحْمَدْ پَسْوَالْ*



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*