کیا نواز شریف اللہ سے ڈرتے ہیں؟

ڈی بریفنگ؍ شمشاد مانگٹ
نا اہل ہو کر وزارت عظمیٰ چھوڑنے والے سابق وزیراعظم میاں نواز شریف کے جھوٹ کا سلسلہ جاری ہے۔ انکے چھوٹے بھائی میاں شہباز شریف مخالفین کو جھوٹوں کا آئی جی کہتے ہیں جبکہ انکے سگے بڑے بھائی ’’نان سٹاپ‘‘ جھوٹ بول بول کر جھوٹوں کے ’’شہنشاہ‘‘ کا مقام حاصل کر چکے ہیں جبکہ چھوٹے میاں اپنے لگاتار جھوٹوں کی وجہ سے سیاسی حلقوں میں جھوٹوں کے ’’چیف منسٹر‘‘ پکارے جانے لگے ہیں۔ میاں نواز شریف نے اپنے تازہ ترین جھوٹ میں بیان کیا ہے کہ میں صرف اللہ سے ڈرتا ہوں حالانکہ میاں نواز شریف اور انکے ہم عصر دیگر سیاسی رہنما اللہ اور اسکے بندوں سے بوقت ضرورت ہی ڈرتے ہیں۔ جس طرح کسی پنجابی کے شاعر نے کہا ہے کہ’’ میں ڈر دی رب رب کردی‘‘ یہ مصرعہ میاں نواز شریف اور انکے خاندان پر پوری طرح بیٹھتا ہے کیونکہ میاں نواز شریف کی چالیس سالہ سیاسی زندگی ایک ریکارڈ کی طرح گواہی دے رہی ہے کہ انہوں نے ہمیشہ سیاسی ضرورتوں کو پورا کرنے کے لئے کبھی اسلامی جھنڈے کا سہارا لیا اور کبھی اداروں کی چھتری کے نیچے چھپ گئے۔
میاں نواز شریف نے نا اہل ہونے کے بعد پارلیمنٹ کے ذریعے جو ’’واردات‘‘ کروائی تھی جس میں ختم نبوت ؐ کے قانون سے حلف نامہ ہی غائب کر دیا گیا تھا اور کچھ پیر اسی بل کی کاپی اٹھائے ابھی تک میاں نواز شریف اور انکے بھائی کا تعاقب کر رہے ہیں اگر میاں نواز شریف کو اللہ اور اسکے رسول ؐ کا ڈر ہوتا تو کیا وہ ختم نبوت کا حلف نامہ ختم کروا کر امریکیوں اور دوسرے آقاؤں کی خوشامد کرتے ؟
میاں نواز شریف کے اندر اللہ تعالیٰ کا کس قدر خوف ہے اس کا اندازہ انکے سیاسی کیریئر کا سرسری جائزہ لیکر کیا جا سکتا ہے۔ میاں نواز شریف کے اندر اگر اللہ تعالیٰ کا خوف ہوتا تو وہ کبھی بھی معصوم صفت محمد خان جونیجو کی پیٹھ میں چھرا گھونپ کر مسلم لیگ ان سے نہ ہتھیا لیتے۔ میاں نواز شریف نے جنرل ضیاء الحق کے ساتھ مل کر نہ صرف محمد خان جونیجو کو برطرف کروایا بلکہ مسلم لیگ پر بھی قبضہ کر لیا۔


میاں نواز شریف کو اگر اللہ کا ڈر ہوتا تو وہ آج تک مرد مومن مرد حق کی قبر پر دیا جلانا نہ بھولتے ،جنرل ضیاء الحق مرحوم کی قبر پر دیا جلانا تو دور کی بات ہے میاں نواز شریف نے جنرل ضیاء الحق کے ’’سیاسی چراغ‘‘ اعجاز الحق میں کسی چھوٹی موٹی وزارت کا ’’تیل‘‘ بھی ڈالنا گوارا نہیں کیا۔ میاں نواز شریف میں اگر اللہ کا خوف ہوتا تو کیا وہ اسلامی جمہوری اتحاد کے نام پر اسلام کا نام لیکر جمہوریت کے خلاف سازش کرتے ۔ میاں نواز شریف نے اس دور میں محترمہ بے نظیر بھٹو کیخلاف سازشیں تو کی ہی تھیں لیکن اس سے بھی بڑا مکروہ کام انہوں نے حسین حقانی کے ذریعے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید اور محترمہ نصرت بھٹو کی فرضی نازیبا تصاویر تقسیم کروا کر کیا تھا۔ جس دل میں خوف خدا ہو وہ ایسا گندا کام کر ہی نہیں سکتا۔
یہ میاں نواز شریف ہی تھے جنہوں نے اللہ کی لاٹھی سے ڈرے بغیر جن اداروں کو وہ آج گالیاں دے رہے ہیں انہی سے مبلغ 35لاکھ روپے سیاسی رشوت لیکر پیپلز پارٹی کے مینڈیٹ پر ڈاکہ مارنے میں مرکزی کردار ادا کیا تھا۔ میاں نواز شریف کو اس وقت بھی اللہ سے کوئی ڈر محسوس نہیں ہوا تھا جب انہوں نے اپنے محسن صدر غلام اسحاق خان کی اقتدار بدری کی سازش کی تھی۔ میاں نواز شریف اس وقت بھی اللہ کی لاٹھی سے بے نیاز ہو کر چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ اور صدر فاروق لغاری سے مل کر محترمہ بے نظیر بھٹو کیخلاف سازش کر رہے تھے اور یہ سازش کامیاب ہو گئی تھی۔
میاں نواز شریف اور انکے بھائی کو اس وقت بھی اللہ یاد نہیں تھا جب انہوں نے پنجاب ہاؤس میں اپنے کارکنوں کو زبرست ناشتہ کھلا کر سپریم کورٹ پر حملہ کرنے کے لئے بھیجا تھا اور میاں نواز شریف کو اس وقت بھی خدا کی قدرت سے خوف نہیں آیا تھا جب جسٹس (ر) رفیق تارڑ انکے ایماء پر ججوں میں فارورڈ بلاک بنانے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
میاں نواز شریف کے دل میں خوف خدا یا رحم اس وقت بھی نہیں آیا تھا جب انہوں نے آرمی چیف جنرل پرویز مشرف کو جبری برطرف کرکے اپنے رشتہ دار ضیاء الدین بٹ کو آرمی چیف مقرر کر دیا تھا۔ میاں نواز شریف کا دل اس وقت بھی اللہ کے خوف سے خالی تھا جب وہ مکہ مدینہ کی مقدس سرزمین پر بیٹھ کر معاہدہ کر کے بھاگنے سے انکاری ہو کر جھوٹ بول رہے تھے۔
اس سے پہلے میاں نواز شریف کو جسٹس (ر) قیوم اور جسٹس (ر) راشد عزیز کی آخرت کا بھی خیال نہیں تھا اور انہیں مجبور کر دیا گیا وہ محترمہ بے نظیر بھٹو اور آصف علی زرداری کو سزا سنائیں ۔ میاں نواز شریف کو عدالتوں سے اپنی مرضی کے فیصلے لیتے ہوئے کبھی خوف نہیں آیا کہ آخر اللہ تعالیٰ کو بھی جواب دہ ہونا ہے۔
میاں نواز شریف سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کے ساتھ مل کر جب آصف علی زرداری اور انکے وزیراعظم کے خلاف سازش کر رہے تھے انکے دل میں اقتدار کا لالچ ضرور تھا لیکن اللہ سے ڈرنے والی بات کہیں دور دور بھی نہیں تھی۔


میاں نواز شریف اور انکے بچوں کو800ارب روپے غریب عوام کے لوٹ کر باہر لیجاتے ہوئے بھی اللہ کا خوف اور ڈر محسوس نہیں ہوا ۔ میاں نواز شریف اور انکے بچوں کو مے فیئر فلیٹس کی کشادگی سے بھی یہ احساس نہیں ہوا کہ قبر اس سے کہیں زیادہ تنگ ہو گی اور غریب عوام کی لوٹی گئی دولت کا حساب اس تنگ و تاریک کمرے میں میرٹ پر ہو گا۔
میاں نواز شریف اس وقت بھی نہیں ڈرے جب انہوں نے مقدس ایوان پارلیمنٹ کی چھتوں پر لکھی قرآنی آیات کے نیچے کھڑے ہو کر جھوٹ بولا کہ ہمارا مے فیئر فلیٹس سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ میاں نواز شریف اس وقت بھی دیدہ دلیر ثابت ہوئے جب انہوں نے منی ٹریل کو ثابت کرنے کے لئے قطری خط عدالت میں پیش کر دیا اور عدالت نے اس خط کر جھوٹ کا پلندہ قرار دیدیا۔
میاں نواز شریف نے اس وقت بھی دل سے اللہ کا ڈر نکال باہر کیا جب وہ وزیراعظم پاکستان کے تھے اور اقامے پر نوکری اپنے بیٹے کی کمپنی میں کر رہے تھے۔ میاں نواز شریف گزشتہ ساڑھے چار سال سے یہ جھوٹ بولتے ہوئے کبھی اللہ کا خوف محسوس نہیں کیا کہ ہم نے لوڈ شیڈنگ ختم کر دی ہے۔
عدل کو درجنوں مرتبہ پامال کرنے والے میاں نواز شریف کو تحریک عدل شروع کرتے ہوئے بھی ذرا برابر اللہ کا ڈر اور خوف نہیں ہے۔ ہمارے ملک کے تمام سیاسی رہنماؤں کاسب سے بڑا یہی مسئلہ ہے کہ نہ وہ دل میں اللہ کا خوف رکھتے ہیں اور نہ ہی عوام کا درد محسوس کرتے ہیں۔ اللہ کے ڈر کا نعرہ عوام کو بیوقوف بنانے کے لئے استعمال کرتے ہیں اور طاقت کا سرچشمہ عوام کو قرار دیکر مال و دولت کے سارے ’’چشمے‘‘ اپنے گھروں میں کھول لیتے ہیں۔ میاں نواز شریف کو اگر اللہ کا تھوڑا سا بھی ڈر ہو تو وہ لوٹی گئی دولت قومی خزانے میں جمع کروا کرمرنے سے پہلے اللہ سے ’’پلی بارگین‘‘ کر سکتے ہیں۔ نیب سے پلی بارگین دنیا میں فائدہ مند ہو سکتی ہے لیکن اللہ سے معافی مانگ کر دنیا و آخرت سنور سکتی ہے مگر کیا اللہ تعالیٰ غریب عوام کو لوٹنے والے ’’میلے انگریزوں‘‘ کو یہ توفیق دے گا؟ یہ صرف رب کائنات کی مرضی پر منحصر ہے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*