خطرناک نواز شریف

ڈی بریفنگ شمشاد مانگٹ

وفاقی وزراء دعویٰ کر رہے کہ میاں نواز شریف نااہل ہونے کے بعد زیادہ خطرناک بن کر ابھرے ہیں۔ وفاقی وزراء کے اس ’’اجتماعی بیان‘‘ میں پورا پورا سچ موجود ہے بشرطیکہ میاں نواز شریف اور انکے ساتھی اس کو بغور دیکھنے پر تیار ہو جائیں۔ میاں نواز شریف کی ساری سیاست اسی کے گرد گھومتی رہی ہے کہ یا تو وہ مخالفین کو ملکی سلامتی کیلئے خطرہ قرار دیتے رہے ہیںاور یاپھر وہ خود خطرہ بن جاتے ہیں۔میاں نواز شریف جب اقتدار میں تھے تو وہ ایسی زبان استعمال نہیں کرتے تھے کہ جس سے عام آدمی بھی سوچنے پر مجبور ہو جائے کہ میاں نواز شریف ہمارا لیڈر ہے یا بھارت اور افغانستان کی آواز ہے۔


میاں نواز شریف کے ساتھی اور خود میاں نواز شریف یہ پراپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ سسٹم سے نواز شریف اور جمہوریت کو خطرہ ہے جبکہ میاں نواز شریف کے مخالفین کا موقف ہے کہ جمہوریت اور سسٹم کو میاں نواز شریف سے خطرہ ہے۔ مخالفین اس موقف میں جان ڈالنے کیلئے حوالہ دیتے ہیں کہ میاں نواز شریف نے ہمیشہ جمہوریت کو کمزور کرنے کیلئے سازشوں کا سہارا لیا اور 1999 ء میں جمہوریت کا بوریا بستر بھی میاں نواز شریف کی وجہ سے ہی گول ہوا تھا اور یہ کہ میاں نواز شریف نے1997 ء میں سپریم کورٹ پر حملہ کیا تھا اور اس وقت بھی عدلیہ کو نواز شریف سے ہی خطرہ لاحق ہے۔ میاں نواز شریف کی نااہلی کے بعد اگر تقاریر اور پریس کانفرنسوں کا سرسری جائزہ لیا جائے تو بخوبی معلوم ہو جاتا ہے کہ میاں نواز شریف سسٹم کو ’’رگڑا‘‘ دے رہے ہیں یا ہمارا سسٹم نواز شریف کو ایڑھیاں رگڑنے پر مجبور کر رہا ہے۔
نااہلی کے بعد میاں نواز شریف مسلسل عدلیہ پر تابڑ توڑ حملے کر رہے ہیں اور ساتھ ساتھ وہ اسٹیبلشمنٹ کو برا بھلا کہہ جاتے ہیں۔ عدلیہ اور اسٹیبلشمنٹ پر حملے کرتے ہوئے انہوں نے یہ بھی کہہ دیا کہ شیخ مجیب الرحمن کے ساتھ زیادتی ہوئی تھی۔ اس سے پہلے وہ ذوالفقار علی بھٹو کو شہید قرار دینے کے ساتھ ساتھ انکی جمہوری خدمات کا بھی ڈھنڈورا پیٹ چکے ہیں۔
علاوہ ازیں میاں نواز شریف نے نااہلی کے بعد یہاں تک بھی کہہ دیا کہ مجھے مجبور نہ کیا جائے وگرنہ میں تمام راز فاش کردوں گا کیونکہ میں تین بار ملک کا وزیراعظم رہ چکا ہوں۔ میاں نواز شریف کو تاحال کسی بھی وزیر یا مشیر کی طرف سے یہ ’’توجہ دلائو‘‘ مشورہ نہیں دیا گیا کہ آپ اپنے ہی خلاف بیان داغ رہے ہیں۔ کیونکہ ملک سلامتی کے اداروں نے میاں نواز شریف کے اس بیان کے بعد یقیناً غورو خوض کیا ہوگا کہ ملک کے اہم ترین عہدے پر تین بار پہنچنے والا شخص کس قدر خود غرض ہے جو اقتدار بدر ہونے کے بعد تمام قومی رازوں سے پردہ اٹھانے کی دھمکی دے رہا ہے اور یقیناً یہ بات بھی سوچی گئی ہوگی کہ بھارت سے محبت کی پینگیں بڑھانے والے نااہل وزیراعظم نے کیا نریندر مودی سے دوستی کے زُعم میں قومی رازوں کو محفوظ رکھا ہوگا؟
میاں نواز شریف نے شیخ مجیب الرحمن کے حق میں بیان عین اس وقت دیا جب شیخ مجیب الرحمن کی بیٹی حسینہ واجد پاکستان دشمنی میں جماعت اسلامی کے ان لیڈروں کو پھانسیاں دیکر اپنا غصہ ٹھنڈا کر رہی ہے جنہوں نے پاکستان سے محبت میں خون کے دیپ جلائے تھے۔
میاں نواز شریف نے شیخ مجیب الرحمن کی حمایت کرکے جوسب سے زیادہ خطرناک پیغام دیا ہے وہ پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کی طرف سے علیحدگی کی دھمکی قرار دیا جارہا ہے۔ بنگلہ دیش کے الگ ہونے سے پہلے مشرقی پاکستان کی آبادی ساڑھے تین کروڑ اور موجودہ پاکستان کی آبادی اڑھائی کروڑ تھی البتہ مغربی پاکستان رقبے کے لحاظ سے بڑا صوبہ تھا۔ چونکہ زیادہ آبادی والے صوبے نے علیحدگی کا اعلان کیا تو کم آبادی والے موجودہ پاکستان کو اسے تسلیم کرنا پڑا۔


اسی تناظر میں اگر دیکھا جائے توسوویت یونین اس وقت ٹوٹا جب گورباچوف نے بڑے ملک روس کی طرف سے علیحدگی کی خواہش کا اعلان کیا۔باقی چھوٹی ریاستوں نے اسکو خوش آمدید کیا۔ اسی طرح زیادہ آبادی ہونے کی وجہ سے یوگو سلاویہ نے علیحدہ ہونے کا اعلان کیا تو بوسنیا نے چھوٹا ملک ہونے کی حیثیت سے اسے مان لیا اس کے علاوہ میکسیکو اور چیکو سلواکیہ میں بھی ایسا ہی ہوا۔ اب میاں نواز شریف پاکستان کے آبادی کے لحاظ سے سب سے بڑے صوبے کی طرف سے شیخ مجیب الرحمن کا موقف درست مان کر در حقیقت علیحدگی کی دھمکی دے رہے ہیں اور اس دھمکی سے آصف علی زرداری کی یہ بات بھی سچ ہوتی دکھائی دے رہی ہے کہ میاں نواز شریف گریٹر پنجاب کیلئے راہ ہموار کر رہے ہیں۔
میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف کی باقی صوبوں میں کمی دلچسپی یہ ظاہر کر رہی ہے کہ وہ کسی خطرناک کھیل کا باقاعدہ حصہ بن چکے ہیں کیونکہ بلوچستان میں مسلم لیگ (ن) کی حکومت ہونے کے باوجود دونوں بھائیوں نے اس کو لاوارث کئے رکھا۔ سب سے اہم سوال یہ ہے کہ اگر میاں نواز شریف اور میاں شہباز شریف گریٹر پنجاب کیلئے کام کر رہے ہیں تو پنجاب کی باقی لیڈر شپ کیا اس منصوبے کو مکمل ہونے دے گی؟ کیونکہ عمران خان، چوہدری شجاعت حسین، چوہدری اعتزاز احسن اور علامہ طاہر القادری بھی تو پنجاب کی آواز ہی سمجھے جاتے ہیں۔
یہ بات کسی بھی شک سے بالاتر ہے کہ میاں نواز شریف اپنی سیاست کیلئے سہارا بھارت کا ہی لیتے ہیں چاہے وہ سرحدوں پر چھیڑ چھاڑ کی شکل میں ہو اور یا پھر بھارتی میڈیا پر پاکستان کے قومی سلامتی کے اداروں کیخلاف پراپیگنڈہ کی شکل میں ہو۔ میاں نواز شریف اس وقت اپنی بیٹی کے ہمراہ پاکستان میں بڑے بڑے جلسے کر رہے ہیں جبکہ مسلم لیگ (ن) کے اہم ترین مشن پر ریحام خان بھارتی ترنگا پہن کر بھارتی میڈیا پر جلوہ گر ہو رہی ہیں اور کہہ رہی ہیں کہ پاکستان میں میری جان کو خطرہ ہے حالانکہ ریحام خان خودکئی ’’لوگوں‘‘ کیلئے خطرہ ہیں اور شریف برادران کیلئے خفیہ مشن پر ہیں۔
پاکستان کی 70 سالہ مختصر تاریخ کا ایک غور طلب پہلو یہ بھی ہے کہ بنگلہ دیش کے الگ ہونے سے پہلے وسائل کی تقسیم کا ضابطہ اخلاق یہ تھاکہ زیادہ رقبے والے ملک مغربی پاکستان کو 60 فیصد اور زیادہ آبادی والے ملک مشرقی پاکستان کو 40 فیصد وسائل کا حصہ دیا جاتا تھا۔ بنگلہ دیش کی علیحدگی کے بعد بلوچستان نے زیادہ فنڈز لینے کے سہانے خواب آنکھوں میں سجائے تو ہم نے ماضی کا ضابطہ ٔ اخلاق موم کی ناک کی طرح موڑ دیا اور زیادہ رقبے والے صوبے کو کم اور زیادہ آبادی والے صوبے کوزیادہ وسائل کا حقدار قرار دیدیا گیا۔
بلا شبہ میاں نواز شریف نہ صرف پنجاب بلکہ پاکستان کیلئے پہلے سے کہیں زیادہ خطرناک ہوچکے ہیں۔ انکے خطرناک ہونے کی اعلیٰ ترین مثال یہ ہے کہ نااہل ہونے کے بعد انکے قریبی ساتھیوں کی بڑی تعداد تیزی سے نااہل ہوتی ہوئی نظر آرہی ہے۔ میاں نواز شریف اپنی ذات سمیت اپنے’’ٹبر‘‘ اور ساتھیوں کیلئے خطرناک شکل اختیار کرچکے ہیں۔ حضرت امام غزالیؒ فرماتے ہیں کہ شخصیت پرستی بت پرستی سے زیادہ خطرناک ہے کیونکہ بت کا دماغ نہیں ہوتا جو خراب ہوجائے اور شخصیت کا جب دماغ خراب ہوتا ہے تو وہ فرعون بن جاتا ہے۔ ایسی ہی صورتحال سے میاں نواز شریف دو چار



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*