ایک تھی چوئی پیرنی

ڈی بریفنگ ؍؍ شمشاد مانگٹ
یہ1973ء کی بات ہے کہ جنوبی کوریا کے شہر ڈائیجون میں اخبار میں اشتہار کے ذریعے لوگوں کی توجہ اس جانب دلائی گئی کہ انکے شہر میں عیسائیت،بدھ ازم اور دیگر مذاہب پر مکمل عبوررکھنے والا ایک مسیح روحانی دنیا سے تشریف لارہا ہے۔تمام مذاہب سے تعلق رکھنے والے لوگ جو مختلف نوعیت کی مشکلات اور بیماریوں کا شکار تھے جوق درجوق اس روحانی پیر کے پاس آتے اور روحانی علاج سے مستفید ہوتے۔
اس روحانی شخصیت نے چوئی ٹائی من کے نام سے شہرت حاصل کی۔چوئی ٹائی من نے حکمرانوں کی قربت حاصل کرنے کے لئے پہلے جنوبی کوریا کے جرنیلوں کی قربت حاصل کی اور اسی دوران اسکی ملاقات جنوبی کوریا کے سابق ڈکٹیٹر مسٹر پارک چنگ ہی سے ہوئی۔جنوبی کوریا کا یہ پیر بہت جلد ہی مسٹر پارک کے تمام امور میں اہمیت اختیار کرگیا۔جنوبی کوریا کے لوگ اپنے آمر صدر کو مسیحا خیال کرتے تھے اور روحانی طاقتوں سے مالامال کورین پیر چوئی ٹائی من کو بھی اپنے من کا راجہ قرار دیتے تھے۔اس کورین پیر کی ایک ہی بیٹی تھی جو کورین صدر کی بیٹی مسز پارک گیون ہائی کے بہت قریب تھی۔


جنوبی کوریاکے لوگ جب کوریا کے سرکاری محل میں ان دونوں کو دیکھتے تو شہزادیاں قرار دیتے تھے۔1994ء میں کورین پیر چوئی ٹائی من کا انتقال ہوگیا تو اسکی روحانی گدی کی حقدار اس کی بیٹی چوئی سون سیل کو قرار دیاگیا اور کورین عوام پیر کی بیٹی سے اپنے دکھوں کا علاج روحانی طریقے سے کرواتے رہے۔دوسری طرف کوریا کے ڈکٹیٹر مسٹر پارک چنگ ہی1979ء میں ہی قتل ہوچکے تھے اور کورین پیر انکی بیٹی کی پرورش کرتا رہا۔اس طرح کورین پیر کی موت کے بعد اسکی صاحبزادی نے روحانی گدی سنبھالی اور مسز پارک نے سیاسی گدی کو سنبھالا گیا۔بلوغت تک پہنچنے سے پہلے مسز پارک کورین پیر کی صاحبزادی کی روحانی صلاحیتوں کی بہت زیادہ گرویدہ ہوچکی تھی۔جلسوں کا انعقاد کا ہو یا پھر لباس کی ترتیب سب کچھ کورین ’’پیرنی‘‘ کے مشورے سے ہوتا تھا۔جس کام کیلئے جنوبی کورین خاتون صدر مسز پارک کو اسکی خاتون’’مرشد‘‘ کرنے کا حکم دے دیتی اس پر وہ کسی وزیر یا مشیر سے مشورہ بھی نہیں کرتی تھی۔اکثر سرکاری فائلوں پر دستخط سے پہلے بھی کورین صدر اپنے’’مرشد‘‘ کی رضا حاصل کرتی تھی۔
یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ جب تک مسز پارک کوریا کی صدر منتخب نہیں ہوگئیں اس وقت کسی کو علم ہی نہ ہوسکا کوریا کی تقدیر کی اصل سیاسی مشیر پیرنی چوئی سون سِل ہے۔مسزپارک جب اقتدار کے گھوڑے پر سوار ہوکر اسے مکمل قابو کر چکی تھی تو کوریا کے عوام کے اندر یہ چہ میگوئیاں ہونا شروع ہوگئیں کہ انکی صدر کی کوئی خفیہ مشیر بھی ہے۔ایک ٹیلی ویژن چینل نے انکشاف کیا کہ ’’پیرنی چوئی‘‘ یہ فیصلہ کرتی ہے کہ مسز پارک بیرون ملک دورے پر کونسا لباس اور کس رنگ کا لباس پہنیں گی۔کچھ لوگوں کا یہ بھی خیال تھا کہ مسز پارک نظامِ حکومت اور اپنی ذاتی زندگی کے فیصلے علم نجوم کے ذریعے کرتی ہیں۔ 2013ء میں ایک افتتاحی تقریب کو کورین پیرنی نے اس انداز سے سجایا کہ کورین عوام اسکی گرویدہ ہوگئی۔کورین عوام اپنی سرکاری پیرنی کو خوشیاں بانٹنے والی جادوگر قرار دیتے تھے۔پاکستانیوں کی طرح کوریا کے سادہ لوح عوام کو اس با ت کا اندازہ ہی نہیں ہوسکا کہ انکا ’’بلیو ہاؤس‘‘ یعنی ایوان صدر ایک ڈبہ پیرنی کے ذریعے چل رہا ہے۔کورین پیرنی 2016ء میں اس وقت الزامات کی زد میں آئی جب کورین انٹیلی جنس اداروں نے کھوج لگایا کہ کوریا میں کام کرنیوالے دو معروف کاروباری گروپوں کو اندھا دھند نوازا گیا ہے اور یہ دونوں گروپ کوریا کے ’’میاںمنشائ‘‘ گروپ بن کر ابھر رہے تھے۔کوریا کے تحقیقاتی اداروں نے بہت جلد سراغ لگا لیا کہ کورین خاتون صدر اپنی روحانی پیر کی کٹھ پتلی ہے اور اس روحانی خاتون نے دونوں کاروباری گروپوں سے من چاہی رقوم حاصل کرکے انہیں مختلف لائسنس لیکر دئیے۔


کورین پیرنی’’مسزچوئی‘‘ پر مقدمہ چلایا گیا ہے اور عدالت نے اسے اختیارات کے غلط استعمال ،رشوت ستانی اور دیگر جرائم میں 17ملین امریکی ڈالر جرمانہ کیا۔کورین پیرنی کوریا کی عدالت میں ٹرائل کے دوران غمزدہ ہوکر وہیل چیئر پر بیٹھی دیکھی گئی۔یہ سوال بھی اٹھایا گیا کہ کورین پیرنی نے قیمتی گھوڑے رشوت کی رقم سے خریدے یا پھر تحفہ میں حاصل کئے۔
کوریا کے ایک سرکاری پیر کی سرکاری پیرنی بیٹی نے کوریا کے مقبول ترین مقتول لیڈر کی بیٹی کو بدنامیوں کی گہری کھائی میں پھینک دیا اور کوریا کے عوامی حلقے یہ خیال کرتے ہیں کہ اب مسز پارک کا دوبارہ مقبولیت حاصل کرنا یا عوام کے دل جیت لینا ناممکن ہے۔مسزپارک کو سرکاری پیرنی کے لُعب اور لالچ نے رسوائے زمانہ کردیا ہے۔دلچسپ بات یہ ہے کہ کوریا کی سرکاری پیرنی اور اسکے عقیدت مندوں کا دعویٰ ہے کہ وہ مُردوں(مرنیوالوں) سے بات کرنے کی روحانی طاقت رکھتی ہے۔لیکن اس عقیدے کی حامل خاتون پیر نے ایک سیاسی خاندان کاسیاسی چراغ ہمیشہ کے لئے گل کردیا ہے۔کوریا میں اس عقیدے کے ماننے والوں کی حوصلہ شکنی بھی کی گئی لیکن کوریا کے عوام اس وقت حیرت زدہ دیکھے گئے جب 2014ء میں سیوول میں بحری جہاز کے ڈوبنے سے 300افراد ہلاک ہوگئے اور کورین عوام کو معلوم ہوا کہ یہ جہاز ایک روحانی پیر کی ملکیت تھا۔
اس واقعہ کا پاکستان سے گہرا تعلق جڑا نظرآتا ہے۔کیونکہ جنوبی کوریا میں ایک سرکاری پیرنی کا سورج غروب ہوگیا اور ہمارے ہاں ایک پیرنی کا سیاسی سورج طلوع ہوا چاہتا ہے۔سیاسی ستاروں کا حال بتانے والے پیر بتا رہے ہیں کہ آئندہ اقتدار کا ہما عمران خان کے سر پر بیٹھنے کیلئے منڈلارہا ہے اور عمران خان بنی گالا سے جب وزیراعظم ہاؤس شفٹ ہوں گے تو ’’پیرنی بھابی‘‘ آئین کی رو سے خاتون اوّل کا مقام پا جائیں گی۔


اگر چہ عمران خان کی ذات پر بے شمار اعتراضات موجود ہیں لیکن یہ بات انکے مخالفین بھی تسلیم کرتے ہیں کہ وہ انتہائی ایماندار اور شفافیت پسند لیڈر ہیں۔اس لئے کاروباری حضرات اور کمپنیوں کیلئے اپنے اہداف کے حصول میں واحد راستہ متوقع خاتون اوّل سے ’’فیض‘‘ حاصل کرنا ہوگا۔بھابی پیرنی کے عمران خان سمیت اور بھی مرید موجود ہیں ان مریدوں کی لسٹ صرف’’بھابی‘‘ کے پاس ہے اور بڑے منصب کے ’’پیروں‘‘ کے مرید بھی بڑے منصب اور بڑی تجوریوں والے ہوتے ہیں۔اس لئے یقینی طور پر ’’پیرنی بھابی‘‘ کے ذریعے ’’منزل مراد‘‘ پانے کی کوشش کی جائے گی۔اس لئے ڈرلگتا ہے کہ جنوبی کورین پیرنی کی طرح پاکستانی پیرنی کہیں عمران خان کی سیاست کے چاند کو گرہن نہ لگا دے ۔یہ محض اتفاق کی بات ہے کہ جنوبی کوریا بھی ایشیاء میں ہے اور پاکستان بھی اسی خطے کا ملک ہے۔البتہ دونوں ملکوں میں’’ڈبہ پیروں‘‘ کے مافیاز کے رنگ الگ الگ ہیں۔عمران خان کی تیسری’’پیرانہ اور فقیرانہ‘‘ شادی پر سیاسی جماعتوں کے تبصرے جاری ہیں۔پی ٹی آئی کی طرف سے ایک شعر کی پیروڈی کرکے مسلم لیگ(ن) پر جوابی حملہ کیا گیا ہے،یہ شعر کچھ اس طرح سے ہے۔
’’ہم نکاح بھی کرتے ہیں تو ہوجاتے ہیں بدنام
وہ بھاگ بھی جائیں تو چرچا نہیں ہوتا‘‘
غالباً شاعر کی مراد شریف فیملی کا معاہدہ کرکے سعودی عرب بھاگ جانے والی کہانی کا تذکرہ کرنا ہے۔ بھابی پیرنی نے اپنے ’’ڈیبیو‘‘ پر ہی کمال کر دکھایا ہے اور نکاح کی مہندی اترنے سے پہلے ملک کے طاقتور سیاستدان کو کرسی صدارت سے اتار دیا ہے۔ بھابی نے ثابت کر دیا ہے کہ
’’نگاہِ صنفِ نازک سے الٹ جاتی ہیں شاگرد مردِ مومن کی تدبیریں‘‘
شنید ہے کہ قومی بھابی پیرنی آئندہ الیکشن سے پہلے ایک خاص ’’دم‘‘ متعارف کروانے جارہی ہیں اور اس دم کا کمال یہ ہو گا کہ ایک ہی تعویذ سے پارٹی ٹکٹ آپکے قدموں میں۔ بھابی نے ایک ہی پھوک سے مسلم لیگ (ن) کی ’’پھوک‘‘ اتار کر پی ٹی آئی کے جنونیوں کے دل میں کئی ’’ایکڑ ‘‘ جگہ گھیر لی ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*