*معرکہ پامپور ایک یادگار داستان جہاد*

نامعلوم: کشمیری مجاہدین کے نام
 حصہ اول ۔۔۔(1)۔
سرد موسم میں جب وادیِ جموں کشمیر میں  برفیلی چادر ہر چیز کو ڈھانپ لیتی ہے ، پہاڑوں پر برف اور وادیوں میں سرد ہواؤں  کا پہرہ ہوتا ہیں ، شفاف پانی کے بہتے چشمے منجمد ہو جاتے ہیں ، تو ان ایام میں وادی کے میدانِ مقتل سے ایک تاریخ ساز معرکہ حق و باطل کی نوید سننے کو ملتی ہے ، جب اسلام کے شیروں نے غاصب انڈین آرمی پر تابناک جہادی یلغار کیں، آج دنیا اس لازوال جہادی معرکہ آرائی کو *معرکہ پامپور* کے نام سے جانتیں ہیں ، یہ فروری 2016ء کا مہینہ تھا کہ 14 فروری کو پلوامہ کے علاقہ کاکہ پورہ میں مجاہدین اسلام کا ایک چھاپہ مار دستہ موجود تھا اسی دوران مجاہدین اور بھارتی فوج کے درمیان جھڑپ شروع ہو گی ، اس لڑائی میں ایک مجاہد ابو بکر عادل بھائی شہید ہوا مجاہد کی شہادت کے ساتھ ہی علاقے میں ہزاروں کشمیری مرد و خواتین نے مجاہدین اسلام کو بھارتی فوج کے گھیرے سے نکالنے کے لئے جاے معرکہ کی طرف پیش قدمی شروع کر دی ، اور قابض فوج کے اہلکاروں پر پتھراؤ شروع کر دیا ، جس پر بھارتی فوج نے سفاکیت کا مظاہرہ کرتے ہوئے



مظاہرین پر اندھا دھند فائرنگ شروع کر دیں جس سے ایم اے کی طالبہ شائستہ اور انجینئرنگ کا سٹوڈنٹ دانش موقع پر ہی شہید ہو گیا ، یوں اپنی دو نعشیں دیکھ کر بھی کشمیری عوام نے ہمت نہ ہاری اور جارحانہ نعروں کے ساتھ بدترین پتھراؤ کر کے باقی مجاہدین کو فوج کے گھیرے سے بحفاظت نکالا۔
اس بہیمانہ درندگی کے خلاف لشکرِ طیبہ نے ان دو معصوم شہیدوں کا قصاص لینے کا اعلان کیا ، اس قصاص آپریشن کے لیے تین شیروں کا انتخاب کیا گیا ، یوں 20 فروری کو مجاہدین نے بھارتی فوج کے ایک کانوائے پر حملہ کر دیا ، دس منٹ تک فدایان اسلام نے ہندو سورماؤں کو سڑکوں پر خوب گھسیٹا اور بکتر بند گاڑیوں کی آمد کے ساتھ ہی مجاہدین طےشدہ حکمت عملی کے تحت نزدیک ہی واقع ایک سرکاری عمارت میں گھس گئےکنکریٹ سے بنی انتہائی مضبوط یہ پانچ منزلہ بلڈنگ اس وقت سول لوگوں سے بھری ہوئی تھی ، یہاں فدائی لشکریوں نے قرونِ اولیٰ کی سنہری یادیں تازہ کرتے ہوئے جہاد اور دہشتگردی کو بھی خوب واضح کیا ، فدائین نے گھبرائے ہوئے سینکڑوں مردوزن کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا آپ سے کوئی جھگڑا لڑائی نہیں ، تم سب آزاد ہو لہذٰا فوراً عمارت سے نکل جاؤ البتہ ہمارا کچھ حساب بھارتی فوج سے باقی ہے جسے ہم نے چکانا ہے



اس موقع پر بھارتی میڈیا چیخ چیخ کر شور مچا رہا تھا کہ مجاہدین نے سینکڑوں لوگوں کو یرغمال بنا لیا ہے خصوصی سٹائل سے پروپیگنڈا کرتے ہوئے کشمیری مجاہدین کی کردار کشی جاری تھی کہ عین اسی لمحہ لائیو کوریج کے دوران باہر آنے والے تمام افراد نے کہا کہ مجاہدین نے تو انہیں ہاتھ تک نہیں لگایا اور بحفاظت باہر نکلنے کا پورا پورا موقع فراہم کیا ، لوگوں کے باہر نکلتے ہی یہاں مجاہدین اور بھارتی فوج کے مابین زبردست لڑائی شروع ہو گئی جو کہ شام تک جاری رہی ، فدائین نے یہاں پر اسلام کی درخشندہ روایات کو پھر زندہ کیا کہ گنتی کے چند مجاہد ہزاروں بلکہ لاکھوں کی تعداد میں مشرکوں سے فقط جذبہ ایمانی سے ٹکرا جاتے ہیں اور مدمقابل دشمن سے بے انتہا وسائل اور زبردست عددی برتری کے باوجود مجاہدین اسلام کا سامنا کرنے سے گھبراتا ہے ، مجاہدین نے اس 100 کمروں پر مشتمل عمارت میں چاروں اطراف سے تاک تاک کر بندر کے بچاریوں کو خوب نشانہ بنایا جبکہ ہزاروں بھارتی فوجی بلٹ پروف جیکٹس اور فولادی ہیلمٹس کے باوجود دور سے ہی کھڑے ہو کر فائرنگ کرتے رہے ،شام تک کا اندھیرا چھاتے ہی بزدل فورسز نے دفاعی پوزیشنز اختیار کی اور رات بھر وقفہ وقفہ سے فائر کا سلسلہ جاری رہا ، البتہ اگلے دن صبح 5 بجے دوبارہ شدید فائرنگ شروع ہو گئی ، معرکہ آرائی کے دوران بھارتی فوج کی مایہ ناز کمانڈوز یونٹ سے وابستہ اہلکاروں نے عمارت میں گھسنے کی کوشش کی تو مورچہ زن مجاہدین نے دندان شکن جواب دیتے ہوئے کیپٹن پاون کمار سمیت 4 کمانڈوز کو گولیوں سے چھلنی کر کے عمارت سے باہر پھینک دیا ان ہلاکتوں سے بھارتی فوجیوں پر موت کی زردی پھیل گئی
کیپٹن پاون کمار کون تھا پڑھیں اگلی قسط میں
جاری ہے ۔۔۔۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*