رشتے  کمال  رکھے   ہیں

ہم نے رشتے  کمال  رکھے   ہیں
سانپ بستر میں پال رکھے ہیں

میرے ہمسائے کھا رہے ہیں پھل
جال آنگن میں ڈال رکھے ہیں

میری آواز چھن گئی لیکن
میں نے قصے سنبھال رکھے ہیں

تم سنوارو ناں اپنے ہاتھوں سے
ہم نے بکھرا کے بال رکھے ہیں

میری بستی میں آؤ ناں جاناں
میں نے رستے اجال رکھے ہیں

یہ کھنک اور سر خوشی میری
اس نے گالوں پہ گال رکھے ہیں

اس نے جانا نہیں مجھے عینی
مجھ میں کتنے کمال رکھے ہیں

عینی زا سید



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*