“وادی ِسُون سکیسر”

تحریر: محمداکرم اعوان (ابھائ) سعودی عرب

پاکستان کے دارُلخلا فہ اسلام آباد سے 290 کلومیٹر اور سرگودہا سے 110 کلومیٹر کے فاصلے پر سلسلہ ِکوہ نمک کے پہاڑوں میں گھرا قدیم تہذیب و تمدن کاحامل، مذہبی روایا ت کا امین، قدرتی طورپر سرسبز اور خوبصورت علاقہ “وادی ِسُون سکیسر” ضلع خوشاب میں واقع ہے. خوشاب سے شمال مغرب کی جانب پیل پدھراڑ سے لے کر سکیسر تک کم وبیش 56کلومیڑ لمبائی اور 14کلومیٹر چوڑائی پر پھیلے رقبے میں چھوٹی بڑی آبادیوں پیل، پدھراڑ، جابہ، دھددہڑ، مکڑمی، مردوال، اوچھالی، اوچھالہ، سرہال، شکرکوٹ، سبھروا ل، ا نگہ، اُگالی شریف، سوڈھی، کلیال، بُھکی (مصطفٰےآباد)، کھوڑہ، جھالر، کفری (نیا نام صادق آباد) کے علاوہ چھوٹی چھوٹی ڈھوک اور خوبصورت چاہڑیوں (چاہڑی پہاڑوں میں گھری ہموار زمین) پرمشتمل وادی کا صدرمقام نوشہرہ ہے۔
وادی سون کا بُلندترین، سرسبز، خوبصورت اور پورے وسطی پنجاب میں سردیوں کے موسم میں (SnowFalling) برف باری کا واحد مقام سکیسر سطح سمندر سے 5010 فٹ (1530میٹر) بلند ہے۔ یہ سلسلہ کوہِ نمک میں قدرتی طور پر ایسی بلند اور واضح جگہ پر واقع ہے جہاں سے چکوال، میانوالی، خوشاب، سرگودہا اور ضلع جہلم سمیت پنجاب کا بیشتر حصّہ واچ کیاجا سکتا ہے۔ اس قدرتی خوبی کو مدِ نظر رکھتے ہوئے دفاعی نقطہء نظر کی اہمیت کے حامل دلکش مقام سکیسر کو 1950کی دہائی میں پاکستان ائیر فورس بیس میں تبدیل کردیا گیا۔ اس کے علاوہ پاکستان ٹیلی ویژن براڈکاسٹنگ کا سنٹر بھی اس علاقے کے عوام تک نشریات پہنچانے کے لئے سکیسر میں قائم کیا گیاہے۔
سکیسر میں شدید سردی اور اکثر اوقات برف باری بھی ہوتی لیکن باقی وادی کا موسم گرمیوں میں خوشگوارٹھنڈا، اور سردیوں میںنشیبی علاقوں کی نسبت زیادہ سردہوتا ہے۔ اس علاقے کی آب وہوا پولٹری صنعت کے لئے بھی انتہائی موزوں ہے. اس کے علاوہ یہاں کا قدرتی شہد پورے پاکستان میں مشہورہے۔ یہاں کے لوگ دراز قد، سفیدرنگ، خوب صورت شخصیت کے مالک، ملنسار، حوصلہ مند، جفاکش اور محنت میں عظمت پر یقین رکھتے ہیں۔وادی کے لوگوں کا پسندیدہ لباس بلندطرہٰ (شُملہ) والی سفید پگڑی، سفید قمیض اور سفید تہہ بندہے۔ زبان پنجابی مگر بولنے کے دوران شائستہ علاقائی لب ولہجہ، مٹھاس اور ایک خاص وضع وانداز کا غلبہ نظرآتا ہے۔
مثال! مانہہ ملک تھیندا، اسڈیاں گڈیاں اسڈے روٹ۔


وادی سُون سکیسر کے لوگوں کی اولین ترجیح سپہ گری اور اس کے بعد یہاں کی زیادہ ترآبادی کا انحصار گلہ بانی اور زراعت پر ہے۔ اس خطے کے لوگ ملک کے دیگر علاقوں کی طرح بڑی بڑی جاگیروں کے مالک نہیں بلکہ یہاں کی اکثریت چندایکڑ سے زیادہ زمین نہیں رکھتی۔ لیکن قدرت نے اس علاقے کو منفرد آب و ہوا اور زرخیزمٹی عطا کی ہے۔ کہ جب ملک کے باقی حصوں میں سبزیوں کی قلت ہو اُس وقت وادیِ سون سکیسر کے پھل اور خاص کر سبزیاں ملک کے اکثریتی حصے کی غذائی ضروریات پوری کرتی ہیں۔ یہاں کی سبزیاں لذت اور غذائیت کے اعتبار سے بے مثال ہیں۔

وادی سون میں آج کل ٹیوب ویل آبپاشی کا بہترین ذریعہ ہیں۔ لیکن اوور بلنگ اور شارٹ فال کی وجہ سے پورے ملک کی طرح یہاں کی آبادی بھی اس صورت حال سے انتہائی پریشان حال ہے۔ چندسال پہلے تک صرف چند محدود اہلِ استعداد لوگوں نے اپنی زمین میں آبپاشی کے لئے کنوئیں بنا رکھے تھے۔ لیکن آبادی کے بیشتر حصّہ کا انحصار کھیتی باڑی، بھیڑ بکریاں اور اونٹ پالنے پر تھا۔ چونکہ زیادہ تر لوگوں کا گزربسر بارانِ رحمت سے سیراب ہونے کی صورت میں حاصل ہونے والی فصل پر تھا۔ اس لئے یہاں کے لوگ اللہ پر توکل اور اُس کی عطا پر شکر کرنے کے عادی اور انتہائی مشکل حالات میں بھی خوشی، اعتماد اور چہرے پر سکون رکھنے کے ہنُر سے واقف تھے۔ اسی طرح چرواہے علی الصبح اپنے اپنے ریورڈ لے کر وادی کے مختلف حصوں میں پھیل جاتے اور سارا دن گزارنے کے بعد مغرب سے کچھ وقت پہلے اپنے ٹھکانوں کی طرف لوٹ جاتے تھے۔ یہ لوگ نقل وحمل اور مال برداری کے لئے اونٹ استعمال کرتے۔
اس وادی کے لوگ شادی بیاہ عموماََ فصلوں کی کٹائی اور بیجائی کے دوران فارغ وقت میں کرتے ہیں۔ شادی سے کئی روز پہلے ہی دارا۔ ( قبیلہ کی اجتماعی بیٹھک) پر ڈھول کی تاپ پر ہیمڑی گانے (دوہڑے، ماہیے علاقائی گیت قوالی طرز پر جس میں دوگروپ مل کر گاتے ہیں) کی محفلیں سجنا شروع ہو جاتیں۔ شادی کے دن بارات کے لئے اونٹوں پرکچاوے رکھے جاتے جنہیں خوب اچھی طرح سجایا جاتا۔ جب یہ قافلہ ڈھول کی تاپ پرغیرہموار راستوں سے ہوکر دُلہا کے گائوں سے دُلہن کے گائوں کی جانب رواں دواں ہوتا تو یہ منظر دیکھنے کے قابل ہوتا تھا۔

عیدکے موقع پر دوردراز کے علاقوں سے ملازمت پیشہ لوگ گھروں کو لوٹتے تو نوجوانوں کی کبڈی اور والی بال کی ٹیمیں ترتیب دے کر مختلف گائوں کی ٹیموں کے درمیان مقابلے کا انتظار بڑی بے چینی سے کیا جاتا تھا۔
نسل درنسل دوستیاں، دُشمنیاں نبھا نے کی روایت اور تھانہ، کچہری اس خطے کے لوگوں کے کلچرکاجزوِلازم کی حیثیت رکھتاہے۔ محمدخان ڈھرنالی، ممتاز کُندی، سِدو ولاسر (سردارعلی) اور ملکی سطح پر دُشمنی اور پولیس مقابلوں کے حوالے سے پہچان حاصل کرنے والے کردار جس کے نام پر ماضی میں فلمیں بھی بنائی گئیں “چراغ بالی” کا تعلق بھی اسی خطے کے نواحی گائوں ہڈالی سے تھا۔


ایک مدت سے اہل وادی سون سکیسر اپنے عہد (مقامی زبان میں دعائے خیر) پرآج بھی قائم ہیں کہ فوتگی امیر یا غریب کی ہو۔ مسلسل تین دن تک مہمانوں کے لئے دال روٹی کے علاوہ کوئی چیز نہیں بنے گی۔ یہ امیر، غریب کے درمیان مساوات کا بہترین نمونہ ہے۔ جس کا مقصد غریب گھرانے کے لوگوں کی اخلاقی مدد اوراُنہیں احساس کمتری سے بچانا ہے۔ یہاں کی زیادہ ترآبادی۔”قطب شاہ اعوان” قبیلے پر مشتمل ہے۔ اعوان برادری کے بارے مشہور ہے کہ یہ لوگ امریکہ، جاپان حتی کہ چاند پر بھی سکونت ممکن ہوئی تو ٹرانسپورٹ، فوج، کھیتی باڑی ہی کا پیشہ اختیار کرنے کو ترجیح دیں گے۔ اسی طرح اگر گھروں کی پیشانی پر لکھنے کا رواج ہوتا تو ان کے کچے پکے ہر گھر کے دروازے پر “اعوان تیرا اللہ نگہبان” لکھا ہوتا۔

خوشاب سے نوشہرہ کی طرف جاتی سڑک پر جیسے جیسے وادی سون سکیسر کے قریب پہنچتے ہیں تو اس وادی کی کشش انسان کو اپنی طرف کھینچتی چلی جاتی ہے۔ پہاڑکے بلندمقام پر بابا گولڑہ کی مسجد کے سفید مینار کئی کلومیڑ دور سے ہی نظرآنا شروع ہوجاتے ہیں اور بل کھاتی سڑک سے بلندی کی جانب سفر کے دوران نیچے میدانی علاقے کی مختلف آبادیاں ہڈالی، کنڈ، خالقآباد، بھرکن، پنڈی، وہیر، شاہ محمد صدیق کامزار، جوہرآباد، خوشاب، سندرال اور دریائے جہلم تک کا نظارہ کیا جاسکتاہے۔
بلندی کی جانب کا تقریباََ آدھا سفر طے کرنے کے بعد مختصر رقبے پرایک خوب صورت باغ نڑواڑی ہے۔ جہاں پر تمام لوکل گاڑیاں تھوڑی دیر کے لئے انجن کو آرام پہنچانے اور ریڈی ایٹرکا پانی تبدیل کرنے کے لئے لازمی رکتی ہیں۔ اس دوران نوجوان جلدی سے باغ کی سیر کرتے ہیں تو دیگر مسافر گاڑی میں بیٹھے قدرت کے اس حسین نظارے سے لطف اندور ہوتے ہیں۔


نڑواڑی سے کچھ کلو میڑفاصلہ طے کرنے کے بعددائیں جانب بغیر اسفالٹ کے پتھریلا رستہ “پیرکچھیاں اور قلعہ تلاجھا” کی طرف راہنمائی کرتا ہے۔ یہ دونوں مقام مین شاہراہ سے تقریباََ 12 سے 15کلومیٹر پر ہیں۔ اگر ان مقامات پر جانا مقصود ہو تو کھانے پینے کی اشیاء ساتھ لے جانی چاہیے ۔ یہاں صرف ہائیکنگ کے ذریعہ ہی پہنچنا ممکن ہے۔ قلعہ تلاجھا نشیبی گائوں نلی اور کھوڑہ کی سرحد پرپہاڑ کا الگ سے ایسا بلندحصّہ ہے۔ جہاں سے پہاڑ چاروں طرف سے کٹ کر نیچے چلاجاتا ہے۔ اس لئے قلعہ کے اندر واحد قدرتی داخلی راستے کے علاوہ کسی طور پر بھی داخل ہونا ممکن نہیں۔
قلعہ تلاجھا کے بارے میں مشہور ہے کہ پرانے وقتوں میں کسی بادشاہ نے دُشمن سے محفوظ رہنے کے لئے یہاں مختصر سا قلعہ بنایا تھا۔ لیکن اُس کے دُشمن نے تُلاجھا سے قدرے بلند عقبی پہاڑسے تیر اور پتھر برسا کر اُس کا کام تمام کردیا۔ البتہ یہاں رہائش کے لئے بنائی جانے والی بڑی اور چوڑی دیواریں دیکھنے والوں کو آج بھی حیران کردیتی ہیں کہ آخر اتنے بڑے اور وزنی پتھر ایک دوسرے پر جوڑنے کس طرح ممکن ہوئے۔ اورصدیاں گزرنے کے باوجود جس کی باقیادت ابھی تک موجود ہیں۔
قلعہ تلاجھا سے دامنِ پہاڑ کے گائوں مہرہ، نلی، مہلوال، ناڑی، کٹھہ، منگوال، دئیوال سمیت دیگر میدانی بستیوں کا نظارہ کیا جا سکتاہے۔ قلعہ کے قریب ہی بابا ناڑے والا کے نام سے منسوب مقام پر دوبلند پہاڑی حصوں کے درمیان صدیوں سے جاری صحت بخش، ذائقہ دار اور صاف شفاف چشمہ کے پانی سے دامن پہاڑ میں وسیع رقبے پرمشتمل آبادی اللہ رب العزت کی رحمت سے مستفید ہورہی ہے ۔ اس چشمہ کے اردگر بے شمار سر سبزگھنے درخت اور پرندوں کے گیت یادوں میں ہمیشہ کے لئے ثبت ہوجانے والا خوبصورت سما ں پیدا کرتے ہیں ۔
وادی سون کی پہلی خوبصورت ترین لوکیشن کٹھوائی کے بعد کھوڑہ کی آبادی جہاں سڑک کے دونوں جانب لہلاتے کھیت، تازہ ٹھنڈی ہوا، وادی میں داخل ہونے والے کا استقبال کرتے ہیں۔ کھوڑہ کے بعد سڑک کے دونوں جانب گھنے درخت اور سرسبز پہاڑ بہت ہی دلکش نظارہ پیش کرتے ہیں۔ اس کے بعدبُھکی نیا نام (مصطفیٰ ابا د) کا علاقہ آتا ہے جہاں سڑک کے دونوں جانب لہلاتے کھیت اور سرسبز و بلند پہاڑ وادی کے حُسن میں اہم اضافہ کرتے ہیں ۔

وادی سون سکیسر کے لوگوں کی سادگی کی مثال! کہتے ہیں کہ پرانے وقتوں میں بُھکی کے ایک بزرگ کو مقدمہ کی بنا پر بڑے شہر کی عدالت میں پیش ہونا پڑا۔ اُس وقت کے لوگ جج کو حکومتی نمائندہ ہونے کے بنا پر سرکار کہہ کر پکارتے تھے۔ جج نے بزرگ سے پوچھا کہ ۔۔ تمھارا گھر کہاں ہے۔۔ بزرگ نے احترام سے جواب دیا ۔۔سرکار بُھکی۔
جج نے حیرانی سے پوچھا تم نے کیا کہا ۔۔۔۔ سرکار بُھکی؟ بزرگ نے عدالت میں موجود لوگوں کی طرف اشارہ کرکے کہا کہ یہ سب لوگ بھی جانتے ہیں ۔۔۔جی۔۔سرکار بُھکی۔ جج کو اس شخص کی سادگی کا احساس ہوا تو ہنسے بغیر نہ رہ سکا اورعدالت میں موجود باقی لوگ بھی اس اتفاقی اور دلچسپ مقالمہ بازی پر ہنس دیئے۔
وادی سون سکیسر میں کھبی کی کے مقام پر 1کلومیڑ لمبی اور 2کلومیڑ چوڑی قدرتی جھیل ہے۔جس کا پانی نمکین اور ناقابل استعمال ہے۔ لیکن اب کہا جاتا ہے کہ اس جھیل کا پانی معجزاتی طور پر قدرے میٹھا ہوچُکا ہے ۔ یہاں چائنہ کی BREED FISH کی افزائش کی جارہی ہے۔ جھیل کی سیرسے لطف اندوز ہونے کے لئے کشتیا ں موجود ہیں۔
سکیسر بیس سے پہلے پہاڑ کے دامن میںاوچھالی جھیل آتی ہے۔ جس کے ساتھ ساتھ پہاڑ پر آبادی اور جھیل کا نظارہ بہت ہی اچھا لگتا ہے۔ اسی طرح کفری ( نیا نام صادق آباد) کے مقام پر بھی ایک بہت ہی خوبصوت جھیل ہے۔ جس کے ساتھ پھول دار پودے اور سرسبز درختوں پر چہچہاتے پرندے اس خوبصورت مقام کی سیر کرنے والوں کی یادوں کو مزید حسین اور یادگار بنادیتے ہیں۔ اسی طرح موسم سرما میں سائبیریا اور دیگر ممالک سے ہجرت کرکے آنے والے بے شمار پرندے اس علاقے کی جھیلوں کے حسن، خوبصورتی اور شان میں قابل ذکر اضافہ کردیتے ہیں۔
یہاں کی بزرگ ہستیوں کی یادگاروں میں چلہ گاہ بہائوالدین زکریا ملتانی (حضرت بہائوالحق رحمت اللہ علیہ) پیل پیراں، مزار باباشاہ فتح اللہ ہمدانی جابہ، بابا شیخ اکبردین دربارِ عالیّہ چشتیہ اکبریہ اُگالی شریف، پیر بابا محمد خوشحال کبھی کی اور بابا بیری والا کا مزار نوشہرہ واقع ہیں۔


وادی سون میں سوڈھی کے مقام پر قدیم، تاریخی باغ ہے۔ قدرتی حسن سے مالا مال پہاڑوں میں گھرے خوب صورت باغ کو مقامی آبادی کی نسبت سے سوڈھی باغ کے نام سے پُکارا جاتا ہے۔ اس باغ میں موجود قدیم، پھل دار درخت، انواع واقسام کے پھول اور باغ کے درمیان سے چشمہ کا بہتاپانی یہاں کے ماحول کو سحرانگیز بنا دیتا ہے۔ سوڈھی میں محکمہء جنگلات کا ریسٹ ہائوس ہے۔ جہاں محکمہ سے اجازت نامہ کے بعد قیام کیا جاسکتا ہے۔
ماضی کی بڑی قدآور شخصیات صدرایوب خان، صدر سردار فاروق لغاری سمیت تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے اس علاقے میں شکار، سوڈھی باغ کی سیر اور یہاں کے صحت افزاء ماحول میں متعدد بار قیام کیا۔ ہر سال گرمیوں کے موسم میں لوگ اپنی فیملیوں کے ہمراہ ملک کے دور دراز علاقوں سے اس پُرسکون ماحول کی طرف کھچے چلےآتے ہیں۔ اس باغ کے قریب ہی ایک قدیم غارہے جو سیاحوں کی توجہ کا مرکزبنتی ہے۔ اس کے علاوہ پُھلواڑی باغ اور کرھڈی باغ بھی بہت خوبصورت اور قابل دید مقامات ہیں۔ وادی سون کے علاقہ عنب شریف میں ہندئووں، سکھوں کی قدیم مذہبی یادگاریں ابھی تک موجود ہیں۔
احمد ندیم قاسمی، عبدالقادر حسن اور حضرت مولانا غلام مُرشد خطیب بادشاہی مسجد لاہور، سمیت وادی سون سکیسر سے تعلق رکھنے وا لی بے شمار نامورہستیاں ہیں جنہوں نے ملکی دفاع، سیاست، صحافت، میڈیا، شعروادب، صحت، تعلیم اور کھیل کے میدان میں ملکی اور بین الاقوامی سطح پر اپنا آپ منوا کر پاکستان کے استحکام اور تعمیروترقی میں اہم کردار ادا کیا۔

وادی سون سکیسر کے مقامی لوگوں ہی سے ہردورِ حکومت میں قومی اور صوبائی اسمبلی کی نشست کے لئے اس علاقے کے لوگوں کے ووٹ کی طاقت سے منتخب ہوتے ہیں۔ ماضی میں سابق وفاقی وزیر ملک کرم بخش اعوان، ملک نعیم اعوان کئی سال وزارت کے عہدہ پر براجمان رہے۔ اس کے علاوہ ملک مختار صوبائی اسمبلی کے ممبر رہے۔ پرویز مشرف کے دور سے سمیرا ملک قومی اسمبلی، ملک شاکربشیراعوان اورملک جاوید اعوان صوبائی اسمبلی کی نشست پر منتخب ہوتے آرہے ہیں۔ اس کے علاوہ بے شمار ایسی قدآور سیاسی شخصیات ہیں جو علاقائی، صوبائی اور ملکی سیاست میں اہم مقام رکھتی ہیں۔ لیکن ہر حکومت اور اس میں شامل مقامی نمائندوں نے اس علاقے کو غالباََ یہ سوچ کر نظرانداز کیا کہ یہ علاقہ تو پہلے ہی قدرتی طور پر خوبصورت اور صحت افزاء مقام ہے لہذا ایک مسلمان ہونے کے ناطے قدرت کے معاملات میں مداخلت کرنامناسب نہیں۔
وادی سون کے علاقے کو اہمیت نہ دینے، دانستہ غفلت اور لاپرواہی برتنے سے یہاں کے لوگ روزگار، تعلیم، صحت، پختہ سڑک، پانی اور دوسرے بنیادی انسانی حقوق سے محروم اور انتہائی پسماندگی کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ اگر کہیں صحت کے مراکز موجود ہیں تو کو الیفائیڈ ڈاکٹر موجود نہیں اور اگرڈاکٹر ہے تو میڈیسن موجود نہیں۔ اس علاقے کے لوگوں کے ساتھ اس غیرمنصفانہ سلوک روا رکھنے کے سبب ہر محب وطن کی آنکھیں اشکبار ہوئے بغیر نہیں رہ سکتیں۔
وادی سُون سکیسر میں بے شمار ایسے مقامات اورپہاڑی درّے ہیں جہاں انتہائی کم لاگت پر ہوا سے چلنے والے بجلی گھر اور چھوٹے چھوٹے ڈیم بنا کر مقامی لوگوں کی ضروریات پوار کرنے کے لئے بجلی پیدا کرنے کے ساتھ ساتھ پانی کی قلت کو بھی پورا کیا جا سکتا ہے۔ اس پہاڑی سلسلے میں نمک، کوئلہ، چینی کے برتن بنانے والی ریت، قیمتی پتھرکے علاوہ قدرت کے بیش بہا خزانے موجود ہیں۔ جنہیں مناسب منصوبہ بندی، تھوڑی سی محنت اور توجہ سے اس علاقے کے عوام کی فلاح اور پورے ملک کی ترقی وخوشحالی کے لئے استعمال کیا جاسکتاہے.

سیروسیاحت اس دور کی سب سے منافع بخش صنعت کا درجہ رکھتی ہے۔ اسی لئے دیگر ممالک میں سیر وسیاحت کے مقامات کی ڈیویلپمنٹ سائنسی بنیادوں پر کی جارہی ہے.


قدرت کی اس خوبصورت عطاء وادی سون سکیسر کی مناسب دیکھ بھال، یہاں کے قدرتی پارکوں کی تزئین وآرائش اور ان میں بچوں کے کھیلنے کے بنیادی آلات کابندوبست کیا جائے۔ کچھ مزید پوائنٹس، ریسٹورینٹ، ریسٹ ہائوس اور ترقیاتی پروگرام ترتیب دیئے جائیں تو انتہائی کم لاگت سے نہ صرف قرب وجوار کے مختلف علاقوں کے لوگوں کی سیروتفریح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ بلکہ دہشت گردی، خودغرضی اورافراتفری کے اس دورمیں مقامی لوگوں کے روزگار میں خاطرخواہ اضافہ سے یہاں کے لوگوں کا معیارِ زندگی بہتر بنانے کے ساتھ ساتھ نئی نسل کے ذہنوں کو مثبت اور تعمیری سرگرمیوں کی طرف منتقل کرنے میں مددگار ماحول پیدا کیا جا سکتا ہے۔



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*