جدید اور مزید ہتھکڑیاں

ڈی بریفنگ/ شمشاد مانگٹ
نیب اور سپریم کورٹ کی موجودہ کارکردگی کو دیکھ کر لگتا ہے کہ جیسے قانون کی عملداری کی نئی نویلی صبح طلوع ہو رہی ہو لیکن گزری رات کی تاریکیوں کو یاد کر کے دل کے اندر خوفناک وسوسے پیدا ہوتے ہیں کہ کہیں اس صبح صادق کا عرصہ حیات مختصر ثابت نہ ہو۔ ماضی قریب میں کئی بار ایسی روشن صبح کی نوید سنائی گئی لیکن پھر بتایا گیا کسی ستارے کی زیادہ روشنی کی وجہ سے صبح کا روشنی کی گماں پیدا ہو گیا تھا لیکن رات کی تاریکی ابھی باقی ہے۔
پیر کو نیب نے تمام بڑے مگرمچھوں کے خلاف بلاامتیاز احتساب کا آغاز کرنے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ بھی بتایا دیا گیا کہ تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان سے بھی پوچھا جائے گا کہ سرکاری ہیلی کاپٹر استعمال کر کے انہوں نے سرکاری وسائل کے ساتھ کونسا ’’انصاف‘‘ کیا ؟
نیب کے اس اقدام سے احتساب کو یکطرفہ قرار دینے والے ٹولے کو کافی پریشانی لاحق ہوئی ہے کیونکہ اس ٹولے کو یقین ہے کہ اگر عمران خان نے سرکاری ہیلی کاپٹر کے استعمال پر معذرت کرتے ہوئے مخصوص رقم سرکاری خزانے میں واپس جمع کروا دی تو اس کی بلّے بلّے ہو جائے گی اور اگر 35 سال سے وسائل پر قابض ٹولے کو لندن کے محل اور فلیٹس واپس کرنا پڑ گئے تو پھر 35 سالہ کرپٹ ’’ریاضت ‘‘ بھی ضائع ہو جائے گی۔سپریم کورٹ سے ریٹائر ہو کر نیب کی سربراہی سنبھالنے والے جسٹس(ر) جاوید اقبال اس وقت آئین اور سپریم کورٹ کے ہم رقاب نظر آتے ہیں۔ منگل کو سپریم کورٹ نے عمران خان کا بنی گالہ والا گھر بھی غیر قانونی قرار دے دیا ہے اور ساتھ یہ بھی واضح کر دیا ہے کہ عمران خان ہو یا پھر کوئی اور ہو اس کے ساتھ ایک جیسا سلوک کیا جائے گا۔
سپریم کورٹ اور نیب ایک جیسا سلوک کرنے کا اعلان کرتے ہیں تو مسلسل کئی دہائیوں سے قانون کو اپنی مرضی کے مطابق استعمال کرنے والے ٹولے کے پیٹ میں مروڑ اٹھتے ہیں۔ یہ معاملہ بالکل ایسا ہی ہے جس طرح پاکستان کے عوام کسی بھی معاملے میں قطار کو پسند نہیں کرتے اسی طرح ہمارے حکمران بھی قانون سے ایک جیسا سلوک کرنے کی توقع نہیں رکھتے۔ اشرافیہ اور حکمرانوں کے نزدیک بہترین قانون وہ ہے جو غریب اور متوسط طبقے پر ٹوٹ پڑے اور اشرافیہ کو دیکھتے ہی کہ قانون از خود ٹوٹ پڑے۔



پنجاب میں بیورو کریسی کی ہڑتال اس ضمن میں تھی کہ قانون نے عرصہ دراز سے مقدس قرار دیئے گئے کلیساؤں کے رہائش پذیر افراد اور ان کے غلاموں کو کیوں گریبان سے پکڑا ہے؟

نیب نے بیوروکریسی کی ہڑتال پر سجدہ سہو کر کے ملزم احد چیمہ کو چھوڑنے کی بجائے اس کی اہلیہ اور باقی رشتہ داروں کے خلاف بھی تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔نیب کی پیش قدمی یہیں تک نہیں ہوئی بلکہ نیب نے منگل کو وفاقی دارالحکومت میں ایک زبردست کارروائی کرتے ہوئے سابق چیئرمین سی ڈی اے امتیاز عنائیت الٰہی اور ممبر فنانس سعید الرحمان کو بھی دھر لیا ہے ۔ ان دونوں پر اسلام آباد کے کلچرل کمپلیکس کی تعمیر میں اختیارات سے تجاوز کا الزام ہے ۔نیب نے ان دو بڑے بیوروکریٹس پر ہاتھ ڈال کر پیغام دیا ہے کہ اب ہر لٹیرے کو احتساب کے کٹہرے میں آنا پڑے گا اور چیمہ کی گرفتاری سے پیدا شدہ صورت حال پر اگر نیب حکام ڈر جاتے تو پھر ان دونوں کی غیر محسوس طریقے سے معافی ہو جاتی لیکن نیب نے اب مزید آگے بڑھنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ نیب کی یہ پیش قدمی جاری رہی تو پنجاب حکومت کو اڈیالہ جیل میں سی ڈی اے میں کرپشن کرنے والے ملزمان کے لئے بیرکس میں توسیع کرنا لازمی ہو جائے گا۔
اس سے پہلے پلاٹوں کی الاٹمنٹ کے الزام میں ڈپٹی ڈی جی لینڈ اسلام شاہ اور اس کے ساتھی بھی اڈیالہ جیل میں ہی ہیں ۔ سی ڈی اے کے ساڑھے تین سو کے قریب افسروں اور اہلکاروں کے خلاف جعلی ڈگریاں رکھنے والوں کے خلاف تحقیقات کو جان بوجھ کر سرد خانے کی نذر کر دیا گیا تھا۔ موجودہ چیئرمین نیب یقینی طور پر اس معاملے کو بھی سامنے لائیں گے۔نیب نے اسلام آباد میں مزید کالی بھیڑوں کی گرفتاریاں کرنے کے لئے بھی ہوم ورک مکمل کیا ہوا ہے اور جونہی یہ گرفتاریاں ہوں گی تو پنجاب کے حکمرانوں اور بیوروکریسی کا یہ نعرہ ازخود ہی دم توڑ جائے گا کہ احتساب یکطرفہ ہو رہا ہے ۔
نیب کے قدم اب ان ٹھیکیداروں اور بیوروکریٹس کی جانب بھی بڑھ رہے ہیں جنہوں نے رائیونڈ کو جانے والی سڑک کی تعمیر کا ٹھیکہ دیا تھا اور نیب کے افسران ایف آئی اے میں ہونے والی غیر قانونی بھرتیوں کے معاملے کو بھی بہت ’’سرعت‘‘ کے ساتھ دیکھ رہا ہے۔ ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق نیب کی طرف سے جدید اور مزید ہتھکڑیاں بھی منگوا لی گئی ہیں۔
سپریم کورٹ اور نیب کی طرف سے کرپشن کے خلاف اقدامات کی وجہ سے یقینی طور پر عوام کو اطمینان حاصل ہو گا کیونکہ ملک کے غریب اور مہنگائی کی چکی میں پسے ہوئے عوام عرصہ دراز سے یہ آرزو دل میں دل ہوئے ہیں کہ اشرافیہ اور حکمرانوں کے تاج جلد اچھالے جائیں ۔ احتساب کی رفتار اگر اسی طرح جاری رہی تو وہ وقت دور نہیں جب طاقت اور کرپشن کے لئے پارلیمنٹ جانے والوں کی خواہش دم توڑ جائے گی ۔کرپٹ عناصر کو اگر اسی طرح صبح سویرے چھاپوں میں گرفتار کیا جاتا رہا تو آئندہ کوئی بیوروکریٹس کسی ایسے عہدے کی خواہش نہیں کرے گا جہاں وہ تیزی سے اپنے اثاثوں میں اضافہ کر سکے۔



ہتھکڑیاں لگے ملزمان کی تصاویر میڈیا پر آتی رہیں تو پھر کسی منی لانڈرر ، چور اور ٹھگ کو یہ خواہش نہیں رہے گی کہ وہ پیسے کے زور پر سینیٹر بن کر قانونی شکنجے سے استثنٰی حاصل کر لے لیکن ڈر اس بات سے لگتا ہے کہ یہ خوشیاں عارضی ثابت نہ ہوں اور مقتدر حلقے قوم کے وسیع تر مفاد کا کمبل لپیٹ کر چوروں اور ڈاکوؤں کو عقبی دروازے سے نکلنے کا موقع دے دیں ۔ اگر ایسا ہو گیا تو پھر فرنگی کے نظام کو بدلنا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہو جائے گا۔
جسٹس(ر) جاوید اقبال اور سپریم کورٹ نے عوام کو آغاز تو اچھا فراہم کر دیا ہے خدا کرے اب ’’مڈل آرڈر ‘‘بھی کسی مصلحت کا شکار نہ ہو۔ آخر میں ایک شعر سپریم کورٹ اور نیب کے نام!
’’افراد کے ہاتھ میں اقوام کی تقدیر
ہر فرد ہے ملت کے مقدر کا ستارہ‘‘




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*