غریب

دِن بھر محنت سے، لَوٹ کر جب گھر آیا،
ضرورتیں کئی کل کے لیۓ، وہ دَھر آیا۔
شیشوں میں سجے کُچھ کِھلونے دیکھ کر،
غریب کی جیب تھی خالی، مگر دِل بَھر آیا۔
دِن بھر کے بُھوکے کو، شام کے وقت،
مِلی جو رُوکھی سُوکھی، تَو کِتنا صَبر آیا۔
چَند سیر آٹا، اِک مفلِس کو دینے کے لئے،
شوقِ شہرت میں، ھر کوئی گھر سے نِکل کر آیا۔
غریب کی مدد ھی، اصل امیری ھے اِقبال،
ھر کِسی کے نصیب میں مگر، کہاں یہ ھُنر آیا۔
*اِقبال اَحمد پسوال*



Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*