یوم نسواں‎

کالم نگار :طیبہ عنصر مغل ،راولپنڈی

تاریخ گواہ ہے کہ عورت کے اوپر ہر دور میں ظلم کے پہاڑ توڑے گے ہندوستان ہو، یا چین ہو ،عرب ہو یا یورپ ،یا امریکہ ،ہر جگہ عورت کے استحصال کا سلسلہ جاری رہا کہیں اس کو ونی کیا گیا ،‫تو کہیں مرد کے ساتھ چتا پہ جلایا گیا ،کہیں اس کو بھیڑ بکری کے جیسےبازار میں بیچاگیا ،کبھی وہ لونڈی بنی تو کبھی عورت کا وجود عرب میں باعث آزار لگا ،تو اس کو زندہ دفنایا گیا،اس کے ساتھ تعلقات واہیانہ تھے ‫‫ِاس کو خرید کر عیش وعشرت کے نام پہ براسلوک کیا جاتا رہا  ،اس کی کوئی سیاس  معاشرتی حیثیت نہیں تھی‫‫‫‫‫‫‫‫‫. بعض تہذیبوں میں اس کا وجود محض ایک لونڈی سے زیادہ نہ تھا.
عورت آزادانہ طریقہ سے لین دین نہیں کر سکتی تھی اور والد ،شوہر اور پھر اولادنرینہ کے تابع تھی.
بعض قبائلی علاقے ایسے تھے کہ جہاں عورت کے ہاتھ میں زمام ِاقتدار بھی تھا لیکن ایسی جگہیں بہت کم تھیں اورکہا جاتا ہے کہ وہاں عورت کا غلبہ تھا ،اور عورت کے اشارے پہ سلطنت کا نظام چلتا تھا اور عورت کی مرد پہ بالادستی رہی، لیکن ایسا زیادہ عرصہ نہیں چلا اور یہ محدود علاقوں میں رہا ،عورت بہرحال مظلوم اور محکوم ہی رہی،  توازن وہاں بھی
نہیں تھا.



پھر اسلام ایسا مذہب ہے جس نے آکر عورت کے حقوق کی درست معنی میں بنیاد رکھی .عورتوں کو دفن کرنے کے بجائے جینے کا حق ملا ،وراثت میں حصہ داری ملی ،عورت کو ذلت وپستی کے گڑھے سے نکال کر مرد کے برابر عزت کا حق حاصل ہوا،اس کی فطرت کے مطابق اس کو ذمہ داریاں دی گئیں.
مانتے ہیں کہ  مغربی تہذیب میں بھی عورت کے حقوق ہیں ،لیکن عملاًایسے کہ ایک مرد کی طرح اس کے کندھوں پہ برابر کا بوجھ بھی لاد دیا گیا ‫.
لبرل ازم کے نام پہ
عورت کو تب عزت ملتی ہے جب وہ ایک مصنوعی مرد کی طرح ذمہ داریوں کا بوجھ اٹھائے.
جبکہ اسلام اس کو حقوق تو دیتا ہے لیکن ذمہ داریاں اس کی فطرت سے متصادم نہیں ہیں.
اسلام نے عورت کا جو مقا م و مرتبہ معاشرے میں متعین کیا وہ جدید وقدیم کی بے ہودہ روایتوں سے پاک ہے .نہ تو عورت کو گناہ کا پتلا بنا کر مظلوم بنانے کی اجازت ہے اور نہ ہی اسے یورپ کی سی بے لگام آزادی دی گئی ہے  .اسلام نے عورت کو زندہ رکھنے کا حق دیا  عورت کا جو حال عرب میں تھا وہی پوری دنیا میں تھا ‫.قرآن مجید نےاس پر سخت تہدیدکی اور اسےزندہ رہنے کا حق دیا ، قرآن مجید نے ان لوگوں کو جنت کی بشادت دی جن کا دامن ظلم سے پاک ہواور جو اپنی لڑکیوں سے نیک سلوک کریں گے اور لڑکا اور لڑکی میں  کوئی فرق  روا نہ رکھیں گے.مرد کے لئے اس کی مردانگی قابل فخر  نہیں ہے اور نہ ہی عورت کی نسوانیت باعث عار،بلکہ مرد و عورت دونوں  برابر ہیں. انسان کی حیثیت میں خلقت اور صفات کے لحاظ سے فطرت کا شاہکار ہیں ،تاریخ کا ایک طویل عرصہ ایسا گزرا ہےجس میں میں عورت کے لئے  علم کی ضرورت کو نظر انداز  کیا گیا اور اس کی ضرورت  صرف مردوں کے لئے  سمجھی گئی ، عورت علم سے دور جہالت کی زندگی بسر کرتی رہی، لیکن اسلام نے علم کو فرض قرار دیا اور مرد و عورت پہ یکساں اس کا اطلاق کیا گیا ،علم کے بغیر عورت نہ تو اپنے حقوق  کی حفاظت  کر سکتی ہے اور نہ ہی اپنی ذمہ داریوں  کو ادا کر سکتی ہے.جو کہ اسلام نے اس پہ عائد کی ہے. اس لئے  مرد کے ساتھ  ساتھ  عورتوں کی تعلیم  بھی نہایت ضروری ہے۔ عورت بیوی کی حیثیت سے اپنے شوہر کے گھر کی ملکہ ہےاور اس کے بچوں کی معلم ومربی ہے،عورت جس کو مغربی معاشرے نے معشیت میں برابری کا نعرہ لگا کرگھر سے باہر نکال دیا، اوراس کے کندھوں پہ معیشت  میں مساوات کے نام پر بوجھ ڈال کراس کو گھر سے باہر دھکیلا، تو معاشرے میں خرابیوں کا آغاز ہو گیا ،ایسے میں صرف مذہب اسلام  نے راہ اعتدال دکھائی کہ عورت کا نان نفقہ ہر حالت میں مرد کی ذمہ داری ہے .بیٹی ہے تو باپ پر ،بہن ہے تو بھائی کا ذمہ،بیوی ہے تو شوہر کےذمہ اور اگر ماں ہے تو بیٹے کے ذمہ ہیں اس کے اخراجات ،حق مہر،حق وراثت اور اپنی مال وجائیداد کو جہاں چاہے  خرچ کرے اس کا اختیار  بھی اسلام ہی عورت کو دیتا ہے.



یہ بے مثل قوانین جو اسلام نے عورت کو دئیے اس کے وجود کو معاشرے سے منوایا‫. حیرت ہے آج کی مسلم خواتین پر کہ وہ لبرل ازم کے نام پر وہ مغرب کی تقلید میں اندھا دھند  بلاوجہ گھر سے باہر رہ کر بے مصرف کاموں میں اپنے آپ کو فطرت کے تقاضوں سے الگ ہو کر مردوں کی بے جا برابری کا نعرہ لگاتی نظر آتی ہیں وہ اس دور جاہلیت کے مظا لم کو اپنے اوپر اپنی مرضی سے مسلط کر رہی ہیں۔ جس کا نتیجہ بہت خوفناک انداز میں معصوم بچیوں کی زندگی پہ اثرانداز ہو رہا ہے آج ہر ایک بیٹے کی ماں کو کمانے والی بہو درکار ہے۔  کھانا بنانا نہیں آتا تو کوئی مضائقہ نہیں ،لیکن بہو کتنا پڑھی ہے، اور ڈاکٹر ہے، پروفیسر ہے،انجنیئر ہے، انکم والی ہی چاہیے  ، اور اس ڈیمانڈ نے ہمارے معاشرے کی لڑکی کو گھر سے باہر دھکیل دیا ہے ،اور جو لڑکیاں گریجویشن کرکے سلیقے کے زیور سے آراستہ گھر پہ ہے اس کا بھی استحصال ہو رہا ہے، کہ وہ کماؤ پوت جو نہیں  ،ہم ایک بار پھر اسلام کی تعلیمات کو فراموش کر رہے ہیں۔ اور جہالت کے اندھے کنوئیں میں ترقی کے نام پہ گر رہے ہیں  جس کا انجام تباہی ہے ،محض تباہی،




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*