روشن اب دِل کے رَستے ہیں۔

ہَم سفر تَو بہت مِلتے ہیں،
بَس چَند قدم ساتھ چلتے ہیں۔

لَب کُھلتے ہیں، جب تیرے جاناں،
اُداس لَمحے بھی، پِھر ھَنستے ہیں۔

عِشق کے اَطوار سِیکھو اِن سے،
شمع پر جو پروانے، جَل مَرتے ہیں۔

چاند جیسے بادلُوں میں چُھپ جائے،
چہرہِ یار پر جب، گیسُو بِکھرتے ہیں۔

اندھیروں کا اِقبال، مُجھے ڈر کیسا،
کہ روشن اب دِل کے رَستے ہیں۔

*اِقْبَالْ اَحْمَدْ پَسْوَالْ*




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*