لشکر آمریت کو شکست

ڈی بریفنگ /شمشاد مانگٹ

چمگادڑ کو آج تک مخلوق خدا سورج کے وجود پر قائل نہیں کرسکی ۔ چمگادڑ کا موقف اپنی جگہ درست ہے کیونکہ اس کی آنکھ ہی سورج غروب ہونے کے بعد کھلتی ہے اور طلوع ہونے سے پہلے بند ہو جاتی ہے۔ ہماری قومی سیاست میں مسلم لیگ (ن) اور اس کے اتحادی بھی ایسی ہی کیفیت سے دو چار ہیں جمہوریت کا سورج دیکھنے کیلئے جن لوگوں نے قربانیاں دیں اور تاریک راہوں میں مارے گئے وہ جب جمہوریت کی بات کرتے ہیں تو بات پر کان دھرنا پڑتے ہیں ۔ لیکن ایک ایسا ’’ گروہ ‘‘ جس کی صبح ، دوپہر ، شام اسٹیبلشمنٹ کے کندھوں پر سر رکھ کر گزری ہو اور وہی گروہ اب جمہوریت کا راگ اپنے ’’ بے سرے ‘‘ گوئیوں کے منہ سے سنائے تو اچھا نہیں لگتا ۔
حکمران جماعت کے اتحادی میر حاصل بزنجو نے اپنے گروپ کی شکست کے بعد جو ’’ لاحاصل ‘‘ خطاب کیا وہ بھی کسی ’’ ماتمی دھن‘‘ سے کم نہیں تھا ۔ سینٹ کی چیئرمین شپ کیلئے تمام دھڑوں نے دل کھول کر جوڑ توڑ کیا اورتمام دھڑے ایک دوسرے کو قائل کرنے کی بھرپور کوشش کرتے ہوئے نظر آئے ۔ لیکن حیرت کی بات یہ ہے کہ آصف علی زرداری اگر مسلم لیگ (ن) کے ساتھ ایک فارمولا طے کرکے سینیٹرز بلامقابلہ منتخب کرواتے تھے تو وہ بھی ’’ عین جمہوریت ‘‘ قرار دیئے جاتے تھے اور آصف علی زرداری اگر میاں نواز شریف کے تمام ہمنوائوں کے ساتھ مل کر میاں رضا ربانی کو متفقہ چیئرمین سینٹ نامزد کردیتے تو پھر بھی یہ کام جمہوری اصولوں کے عین مطابق قرار دیاجاتا ۔
صرف چوبیس گھنٹے پہلے تک مسلم لیگ (ن) بمع میر حاصل بزنجو اور مولانا فضل الرحمن آصف علی زرداری کو قائل کرنے کی کوشش کررہے تھے کہ میاں رضا ربانی کو ایک بار پھر متفقہ چیئرمین سینٹ نامزد کردیا جائے لیکن گزشہ اڑھائی سال سے میاں رضا ربانی کو ان کے حال اور میاں نواز شریف کے رحم وکرم پر چھوڑ دینے والے آصف علی زرداری اس بار میاں رضا ربانی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھے ۔



میاں نواز شریف ، میاں شہباز شریف کے ساتھ ساتھ میاں رضا ربانی کے ساتھ کام کرنے کے بعد آصف علی زرداری کو اندازہ ہوگیا تھا کہ صرف ’’ اللہ میاں ‘‘ ہی دھوکہ نہیں دیتا وگرنہ دنیا پر موجود تمام ’’ میاں حضرات ‘‘ یا تو برے وقت میں دھوکہ دے جاتے ہیں اور یا پھر مشکل دیکھ کر ’’ میائوں میائوں ‘‘ کرنے لگ جاتے ہیں ۔
سینٹ کی چیئرمین شپ کیلئے میاں رضا ربانی کی واحد کوالٹی یہ قرار دی جارہی تھی کہ انہوں نے مسلم لیگ (ن) کے مفادات کو ہمیشہ پیپلز پارٹی کے مقابلے میںترجیح دی تھی ۔ میاں نواز شریف کا اپنی پارٹی میں فارمولا یہ ہے کہ سپیکر ایاز صادق ہو یا پھر وزیراعظم پاکستان شاہد خاقان عباسی ہو سب آئین اور قانون پر میاں صاحب کو ترجیح دیتے ہوں لیکن مخالفین سے ان کی توقع یہ ہوتی ہے کہ وہ بے شک رہیں اپنی اپنی پارٹی میں لیکن جمہوری اصولوں کی آڑ لیکر حمائت وہ میاں نواز شریف کی کرتے رہیں ۔ میاں نواز شریف ، مولانا فضل الرحمان اور میر حاصل بزنجو نے میاں رضا ربانی کیلئے حد سے زیادہ لابنگ کرکے ان کا پیپلز پارٹی میں بیڑا غرق ہی کردیا ہے ۔
ماضی میںپیپلز پارٹی کے ساتھ کئی بار میاں رضا ربانی کی سوچ والے لوگ ہاتھ کرچکے ہیں ۔ محترمہ بے نظیر بھٹو جب 1988ء میں جنرل ضیاء الحق کے تمام ظلم سہنے کے بعد اقتدار میں آئی تھیںتو انہوں نے متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے ملک معراج خالد مرحوم کو سپیکر قومی اسمبلی بنا کر کارکنوں کے حوصلے بلند کرنے چاہے لیکن مرحوم ملک معراج خالد نے اٹھارہ ماہ کے اقتدار میں ایسی ایسی رولنگ دیں کہ محترمہ بے نظیر بھٹو شہید سمیت ماریںکھانے والے جیالوں کو بھی ’’ اوور رول ‘‘ کردیا ۔
دوبارہ یہی وائرس محترمہ بے نظیر بھٹو کے منہ بولے بھائی فاروق لغاری کے اندر پیدا ہوا تھا او ر موصوف نے آئین اور قانون کی پاسداری کے نام پر اپنی منہ بولی بہن کے سارے دکھ درد بھلا کر اقتدار ختم کردیا تھا ۔ میاں رضا ربانی والا وائرس سابق چیف جسٹس سید سجاد علی شاہ کے اندر بھی پیدا ہوا تھا کیونکہ سید سجاد علی شاہ کو محترمہ بے نظیر بھٹو شہید نے اپنا ہمدرد خیال کرتے ہوئے سینئر ججوں پر فوقیت دیکر چیف جسٹس بنایا تھا لیکن ججوں کی تقرری کا بہانہ بنا کر وہ میاں نواز شریف کی جھولی میں جاگرے تھے ۔ آصف علی زرداری نے بہت دانشمندی سے اڑھائی سال گزار کر موقع ملتے ہی میاں رضا ربانی کو میاں نواز شریف کی صف میں کھڑا کردیا ہے ۔
سینٹ الیکشن کی تاریخ میں پہلی بار کانٹے دار مقابلہ ہوا اور متحدہ اپوزیشن نے بازی جیت کر حکمران اتحاد کے ایسے ہوش اڑائے ہیں کہ وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے بیٹے عبداللہ عباسی نے ایوان کی گیلری میں پی ٹی آئی کے رکن قومی اسمبلی حامد الحق کا گلا دبا کر عوام کی آواز کو دبانے کی کوشش کی ۔حکمرانوں کی طرف سے حواس باختگی کا یہ ایک عملی مظاہرہ ہے ۔ بلوچستان سے آزاد رکن سینیٹر صادق سنجرانی کے چیئرمین سینٹ بننے پر میر حاصل بزنجو کو خوش ہونا چاہیے تھا لیکن وہ کہہ رہے ہیں کہ میں آج شرمندہ ہوں اور اگر میر حاصل بزنجو واقعی شرمندہ ہیں تو انہیں سینٹ کی رکنیت سے فی الفور مستعفی ہوجانا چاہیے کیونکہ ایک قبائلی سردار کی بات میں وزن بڑھانے کیلئے استعفیٰ بہت ضروری ہے ۔ میر حاصل بزنجو فرماتے ہیں کہ جمہوری اور غیر جمہوری قوتوں کے درمیان اب فیصلہ کن جنگ ہوگی ۔ سیاست کے ایک طالبعلم ہونے کی حیثیت سے مجھے اچھی طرح معلوم ہے کہ راجہ ظفر الحق جو کہ ساتویں بار چیئرمین سینٹ کا الیکشن ہارے ہیں کو جنرل ضیاء الحق مرحوم اپنا اوپننگ بیٹسمین کہا کرتے تھے اس لئے یہ کہا جاسکتا ہے کہ گزشتہ روز غیر جمہوری قوتوں کا ایک کمانڈر سیاست کے میدان میں چِت ہوگیا ۔



علاوہ ازیں ہماری سیاسی تاریخ ایسی بے پناہ مثالوں سے بھری ہوئی ہے کہ مسلم لیگ (ن) کی کل سیاست اسٹیبلشمنٹ کے مرہون منت رہی ہے حتی کہ جس ڈکٹیٹر پرویز مشرف نے ان کی حکومت کا تختہ الٹ دیا تھا اسی سے ڈیل کرکے بیرون ملک فرار ہوگئے تھے ۔ سینیٹر حاصل بزنجو کی بات اگر تسلیم کرلی جائے تو مسلم لیگ (ن) ، مولانا فضل الرحمن اور میر حاصل بزنجو اس وقت ’’ لشکر آمریت ‘‘ میں کھڑے ہوئے ہیں جبکہ پیپلز پارٹی ، پی ٹی آئی ، جماعت اسلامی ، ایم کیو ایم اور آزاد سینیٹروں نے میدان مار لیا ہے ۔گزشتہ روز لشکر آمریت کو شکست ہوئی جو کہ خوش آئند ہے۔
٭٭٭٭٭٭٭٭٭




Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

*